اسلام آباد پ��لیس ان بدترین اداروں میں سے ایک بن چکی ہے.جنہیں نہ شرم ہے نہ انسانیت۔معصوم بچے اور بے بس خواتین انصاف کے لیے کھڑی ہیں اور یہ ان کے سامنے ظالم بن کر کھڑی ہوئی ہیں اور معصوم خواتین و بچوں پر اپنی وحشت قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
#ReleaseBYCleaders
#EndEnforcedDisappearances
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آرگنائزرز ڈاکٹر ماہ رنک بلوچ، صبغت اللہ شاہ، جی بیبگر بلوچ، غفار بلوچ، گلزادی اور بیبو بلوچ کو آج انسدادِ دہشت گردی (ATC) کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں مزید دس دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ریاست سیاسی کارکنوں کو ثبوت کے بغیر عدالتوں میں گھسیٹ رہی ہے۔ کبھی غیر قانونی MPO کے تحت گرفتاری، کبھی مسلسل ریمانڈ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی عدالتیں اور ریاستی ادارے سیاسی انتقام کے آلۂ کار بن چکے ہیں۔ ایسی کارروائیوں سے ریاست نہ صرف اپنی ساکھ کھو رہی ہے بلکہ اپنے ہی قانونی و عدالتی نظام کو غیر مؤثر اور بے معنی بنا رہی ہے۔
من بلوچیں براتاں کُلاناں پیگامءَ کنگایاں۔کہ ہر ھندیءَ کہ نشتئیءِ خدارا وتی کلچر وتی ذوانءَ نوا بِلّاں باقی بیشک انگریزی بئیت اش عربیءَ سِکاں پارسیءَ سِکّاں لیکن یار وتی ذوانءَ نوا بِِلّاں لیکن وتی ذوانءَ نہ بچّیناں تی کسے نہ بچّینیت۔۔
سبز علی بُگٹی
#بلوچی_مئے_وتی_ماتی_ذوانیں
جنید اور یاسر کی بے بس بہن اپنے بھائیوں کیلئے انصاف کی اپیل کررہی ہے۔ بلوچستان ایک بے یار و مددگار خطہ ہے، جہاں ریاستی فورسز جب چاہیں کسی کو اٹھا لے جاتی ہیں۔ ایک ہی گھر کے دو بھائیوں کا جبری لاپتہ ہونا انتہائی دردناک ہے۔
#ReleaseJunaidAndYasirHameed
اگر سڑکیں بند کرنا ہی مسئلہ ہے، تو بلوچ شہریوں کو پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟
اگر مسئلہ محض مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) ہے، تو بیبرگ کے اُس بھائی کو کیوں قید کیا گیا ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں؟ اُس کی 3MPO کی توسیع بغیر کسی واضح وجہ کے کیوں کی گئی؟
اگر مسئلہ میرے ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کا ہے، تو میرے والد کو کس جرم میں پچھلے پندرہ دنوں سے قید رکھا گیا ہے؟
اگر معاملہ حق اور انصاف کا ہے، تو سریاب کی سڑکوں پر قتل کیے گئے معصوم افراد اور وڈھ میں جاں بحق ہونے والے شہری کے لیے ریاست انصاف فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہی؟
اگر بات بیانیے (نیرٹیو) کی ہے، تو ریاست اپنے بیانیے کو عوام میں مقبول بنانے کے لیے مالی وسائل کا سہارا کیوں لے رہی ہے؟ یہ بیانیہ عوامی حمایت سے خود بخود مقبول کیوں نہیں ہو پا رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ معاملہ روزِ اول سے ہی بلوچ نسل کشی کا ہے،یہ ہر اُس بلوچ کا معاملہ ہے جو خاموشی میں قتل کیا گیا۔ بلوچ قوم کی نسل کشی کوئی نئی بات نہیں۔یہ ایک مسلسل، منظم اور ریاستی پالیسی کا حصہ ہے جو روزِ اول سے جاری ہے۔ ہر خاموشی سے قتل ہونے والا بلوچ، ہر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا فرد، اس سچا��ی کی زندہ گواہی ہے۔
ریاست ایک منصوبے کے تحت بلوچ کو اس کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ وسائل پر قبضے، جبری گمشدگیاں، اور جھوٹے بیانیے، یہ سب اس نسل کشی کو چھپانے کی کوششیں ہیں۔
جب ففتھ جنری��ن وار فئیر کے نام پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں، جب ہر روز پریس کانفرنسوں میں حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، تب بھی بلوچوں کا بہتا خون چیخ چیخ کر سچ بول رہا ہے۔ ہر لاش، ہر احتجاج، ہر گمشدہ چہرہ اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچ قوم کو منظم انداز میں مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے
مگر بلوچ قوم فیصلہ کرچکی ہے کہ ہم لکھتے رہیں گے، بولتے رہیں گے اس سچائی کی جدوجہد کو ریاستی زر خرید سپاہی شکست نہیں دے سکتے۔ ان کے پاس صرف دولت کی لالچ ہے، ہمارے پاس نظریہ اور سچے جذبات کی طاقت ہے۔
باشعور عوام!
ریاست کی بوکھلاہٹ روزِ اول سے عیاں ہے۔ “تھری ایم پی” محض ایک بہانہ ہے، اصل مقصد بلوچ نسل کشی میں شدت لانا اور بلوچ قوم کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔ جعفر ایکسپریس سے جڑے واقعے کو (BYC) سے جوڑ کر ریاست ہم سے وابستہ عوامی ہمدردیوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ریاست کو مسئلہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ یا گلزادی بلوچ سے بطور افراد نہیں، بلکہ ان کی بیدار، توانا اور حق پر مبنی آوازوں سے ہے۔ ڈاکٹر ماہرنگ اور بیبو بلوچ کی تھری ایم پی میں بلاجواز ایک ماہ کی توسیع ریاستی عزائم کا واضح ثبوت ہے۔
اس منظم کریک ڈاؤن کا واحد جواب یہی ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو مزید منظم اور با اثر بنائیں۔ سچائی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں کیونکہ ظلم کے جھوٹ کے خلاف سچ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اپنی جدوجہد جاری رکھیں! مظلوم کی سچائی کبھی ہار نہیں سکتی، اور دنیا کا کوئی خریدا گیا بیانیہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
آج وہ لوگ بھی خود کو بلوچوں کا خیر خواہ کہنے لگے ہیں، جنہوں نے 16 سال کے معصوم بلوچ بچوں تک کو قید میں رکھا ہے۔ ان بچوں کے امتحانات میں اب صرف ایک دن باقی ہے، مگر کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر کا کردار اس وقت مکمل طور پر ایک ریسسٹ اور فاشسٹ حکمران جیسا ہے۔ تھری ایم پی او جیسے کالے قانون کے تحت نہ تو ان بچوں کی عمر کا خیال رکھا جا رہا ہے، نہ ان کی تعلیم کا۔
ہم اس ظلم کو خندہ پیشانی سے سہہ رہے ہیں، اپنے رہنماؤں کی رہائی کے لیے ہماری سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری ہے۔ مگر ان بچوں کے لیے دل خون کے آنسو روتا ہے جنہیں تعلیم کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ کے ڈی سی کا اینٹی بلوچ رویہ تاریخ میں ایک سیاہ دھبے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ہمارے معصوم بچوں کا خون بہایا گیا، ہمارے ساتھیوں کو اذیت ناک قید میں رکھا گیا، اور ہمیں تعلیم جیسے بنیادی حق سے بھی دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ہم اپنے قومی شناخت، حق اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔
ہماری آنے والی نسلیں ان مظالم کو کبھی نہیں بھولیں گی۔ ان ظالم حکمرانوں کے دیے گئے دکھ، ہماری نفرت کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
#StopBalochGenocide
#ReleaseBYCLeaders
حب چوکی: جنید حمید اور یاسر حمید کے جبری گمشدگیوں کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز جاری، جبری لاپتہ چاکر بگٹی، شبیر بلوچ اور راشد حسین و دیگر کے لواحقین بھی کیمپ میں موجود جبکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماء شاہ زیب نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔