اسلام عليكم
میری الیکشن کمیشن آف پاکستان سے گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کو 180 سیٹوں پر جیٹ کا نوٹیفکیشن جاری کریں اور انہیں حکومت بنانے دیں۔
انکا یہ شوق تو ایک بار پھر پورا کروائیں۔۔۔پلیز
پنجاب حکومت کے جہاز خریدنے پر بہت تنقید ہوئی اور درست ہوئی مگر کے پی اسمبلی نے جو قانون بنایا وہ ہر مہینے ایک نیا لگثری جہاز خریدنے جتنے خرچے جیساہے
اربوں کی مفت مراعات وہ بھی تاحیات اور پھر دوسروں پر تنقید بھی کرتے ہیں
پاکستان میں طاقتوروں، الیٹ اشرافیہ اور ان کے بچوں کو سزا دینے کا کلچر نہیں ہے یہ نو آبادیاتی نظام کا آف شوٹ ہے جہاں انگریز آقا غریب رعایا کو قتل کر دے تو سزا نہی ہوتی تھی آپ شاہ رخ جتوئی کا کیس دیکھ لیں جام اویس جوکھیو ،کشمالہ طارق بیٹا کیس ، ام رباب چانڈیو کیس ، ہائی کورٹ جج کے بیٹے کا دو لڑکیوں کے قتل کا کیس سمیت سب کیس چیک کر لیں مجرم کے سامنے سسٹم ڈھیر ہو گیا ججوں ، افسر شاہی ، اقتدار والوں کا فیصلہ ان کے بچے جو مرضی کریں انکو سزا نہی ہو گی
🚨اب کے پی اسمبلی کے اراکین کی بجلی گیس کا بل آپ دیں گے
کے پی اسمبلی نے مراعات کا جو بل منظور کیا ہے اس کے مطابق اراکین اسمبلی کو تاحیات دیگر سہولیات کے علاوہ بجلی گیس کے بل مکملُ مفت ہوں گے ججوں والی ساری سہولیات اب اسمبلی اراکین کو ملیں گے
اب ان کے بجلی کے بل آپ ادا کریں گے جلد اویس لغاری صاحب کوئی نیا فکسڈ ٹیکس سوچیں گے
ایل پی جی ہی قیمت فی کلو 241ہے جبکہ مارکیٹ میں 420 سے 500تک بک رہی ہے حکومت کی کوئی اتھارٹی نہی ہے بس ان سے غریب کی ریڑھی تڑوا لو یا موٹر سائیکل والوں کے چالان کروا لو باقی مافیا ان کی پہنچ سے باہر ہیں
من رامی تے حجتاں دے ڈھیر
جب قیمت بڑھتی تو راتوں رات سو ڈیڑھ سو لیٹر بھی بڑھا لیتے جب کم کرنی ہوتی تو ہزار حجتیں موجود ہیں
فرعون بھی موجودہ حکومت کے سامنے نیک نظر آنے لگ گیا ہے یہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہیں
اس شخص نے صرف زائد کرایہ لینے کی وجہ پوچھی تھی، لیکن جواب دینے کے بجائے اس کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں۔ اگر کوئی مسافر اپنے حق کی بات کرے تو اسے ڈرایا دھمکایا نہیں جانا چاہیے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ پوری بھری ہوئی گاڑی کو جامشورو سے واپس حیدرآباد لے جا کر تمام مسافروں کو اتار دیا گیا، جس سے بے گناہ مسافروں کو بھی شدید پریشانی اٹھانا پڑی۔ متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، زائد کرایہ وصول کرنے اور مسافروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپنایا جائے
بجلی کے بلوں پر ہم نے تنقید کی اس پر لگے ٹیکسوں کو سوشل میڈیا کا ٹاپک بنایا اس پر ٹرینڈ کیے اور حکومت نے اس کا یہ توڑ نکالا کہ اب بجلی بلوں پر ٹیکس اور فکسڈ چارجز وغیرہ کی تفصیل لکھنا بند کر دیا ہے اس کا مطلب نیا ٹیکہ بھی لگے گا
نون لیگ عوام دشمنی میں ہر حد پار کر چکی ہے راتب خور حاضر ہوں ہمیں اس حرام توپی کی فضیلت بتائیں
اداروں میں ایک روپے کی بہتری نہیں آئی،پولیس جتنی پہلے کرپٹ تھی اس سے ذیادہ اب کرپٹ ھے،کمشنر ڈی سی اے سی شہروں میں آج بھی عام آدمی کی دسترس سے بہت دور ھیں،ابھی چند دن پہلے کا واقعہ ملاحظہ ھو۔
بہاولنگر چغتائی لیب میں 28 لاکھ روپے کی ڈکیتی ھوئی،پولیس نے پہلے تو ایف آئی آر نہیں لکھی ،پھر بڑوں کی سفارش پر ایف آئی آر ھوئی ،کچھ دنوں میں ڈکیت پکڑے گئے ،پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ 24 لاکھ روپے کی ریکوری ھوئی ھے،لیکن عدالت کے باھر ایس ایچ او مدعی کو کہتا کہ 15 لاکھ روپے دینگے،یعنی 9 لاکھ روپے کا چونا لگایا جارھا تھا،اور میں پورے یقین سے لکھ رھا ھوں کہ اس میں ایس ایچ او سے اوپر لوگ بھی شامل تھے،کیونکہ ایک صاحب کے ذریعے جب حکام بالا کو رابطہ کرکے شکایت کی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ فی الحال 15 لاکھ لے لیں،جب ریکور 24 لاکھ ھوئے تو کیونکر 15 لاکھ روپے لئے جائیں۔یہ تو رھا ھماری پولیس کا حال،ھمیں سوچنا چاھئے کہ یہ پولیس ھے یا پھر ڈاکو،یہ ھم لوگوں کی حفاظت خاک کرینگے؟
🚨🚨اگر میرا اکاؤنٹ اچانک خاموش ہو جائے تو سمجھ جائیں
کل میری پاکستان اپنے گھر کے نگران سے بات ہوئی اس کی فقط اتنی ڈیوٹی وہ مختلف کرائے داروں سے کرایہ پکڑ کر محلے کی دو مساجد کے بجلی کا بل میری طرف سے ادا کر دیتا ہے
ہم نے کرائے کی انکم مساجد کے لئے وقف کی ہے اس نے بتایا کہ تین چار دفعہ مختلف سول ایجنسیوں کے لوگ اس کے پاس جا کر میرے بارے پوچھ گچھ اور دھمکیاں دے کر جا چکے اسے ہراساں کیا وہ ڈر گیا
عمران دور میں بھی کرائے دار بھگا دیتے تھے اب مسجد کے لئے وقف کرائے کے ساتھ ایسا کرنے سے عمران کا جو حال ہوا وہ وہ موجودہ والوں کا بھی ہو گا
میں نے کونسی اینٹی سٹیٹ بات کی ہے ؟
مہنگی بجلی پیٹرول یا عوام کی بات کرتا ہوں جو معاملہ وہ میرے تک رکھیں پاکستان موجود لوگوں کا میرے سے کیا تعلق ہے ؟
میری بیٹی کی تصاویر نکالیں مجھ پر گھٹیا الزامات لگائے کتا فورس چھوڑی کیا یہ سب کافی نہی ہے ؟
کچھ تو خدا کا خوف کرو میں اگر نا بھی لکھوں تو لوگوں کے جو جذبات مہنگائی کی وجہ سے وہ نہی بدلیں گے ۔
سب طرف سے بہت دباؤ ہے دیکھو کب تک برداشت ہوتا مگر اگر چپ ہوا تو وجہ یہی ہو گی نہی چاہتا والدہ کے نام پر جو تھوڑا ُنیک کام ہو رہا وہ رک جائے
میرے لیے دعا کیجئے گا
درخواست
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔
عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب عالی،
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 15 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
*عام شہری*
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔.
یہ یقیناً گلبرگ کا امتیاز سٹور ہوگا کیونکہ یہ کراچی کے کاروباری ہیں اور ان کو عادت کراچی کی لگی ہوئی ہے پیسے دو جان بچاؤ جو مرضی عوام کے ساتھ کرو لیکن یہ بھول گئے یہ سندھ نہیں پنجاب ہے یہاں مرتضیٰ وہاب نہیں سلمہ بٹ صاحبہ مریم نواز کی ہدایات پہ کام دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔
اسلام آباد میں اسٹامپ فروشوں کی لوٹ مار
آج مجھے بچے کے اسکول کی جانب سے ایک تیار شدہ انڈرٹیکنگ (بیانِ حلفی) کا متن ملا، جسے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر پرنٹ کروا کر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میں آبپارہ مارکیٹ کے ایک اسٹامپ فروش کے پاس گیا، جس نے 5 منٹ میں آن لائن اسٹامپ پیپر نکال کر پرنٹ دے دیا۔
میرا خیال تھا کہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر وہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے سروس چارجز لے گا، لیکن جب میں نے بل پوچھا تو اس نے کہا کہ 1000 روپے بنتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا اور پوچھا، "1000 روپے؟" جواب ملا، "جی ہاں!" میں نے کہا کہ یہ تو کھلی ناانصافی ہے، مواد میں نے خود فراہم کیا ہے، آپ نے تو صرف پرنٹ نکالا ہے۔ خیر، بحث و تکرار کے بعد اس نے 100 روپے کم کر کے 900 روپے طلب کیے۔ جب میں نے پکی رسید مانگی تو اس نے کارڈ پر اضافی سروسز درج کر کے 1000 روپے کی رسید میرے حوالے کر دی۔ میں نے یہ رسید اس نیت سے اپنے پاس رکھ لی کہ اس معاملے کو کم از کم حکومت کے نوٹس میں لایا جائے۔
دو روز قبل، میرے سالے سے بھی صرف ایک صفحے کے بیانِ حلفی کی تیاری کے لیے 2500 روپے وصول کیے گئے تھے۔
ہم خوش تھے کہ حکومت نے اسٹامپ پیپر آن لائن کر دیے ہیں، جس سے سائلین کا فائدہ ہوگا اور فیس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگی۔ مگر حکومت نے اسٹامپ فروشوں کو اس لوٹ مار سے روکنے کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا اور نہ ہی اسٹامپ کی قیمت کے ساتھ سروس چارجز مقرر کیے ہیں۔
سرکار سے اپیل ہے کہ اسٹامپ پیپر کی فیس کے ساتھ اس کے مناسب سروس چارجز بھی مقرر کیے جائیں تاکہ اس کرپشن اور ناجائز منافع خوری کا قلع قمع ہو سکے۔
@ICT_Police@dcislamabad
@RShahzaddk شہزاد بھائی ایک بات آپکے علم میں ہوگی کہ سرکاری سکول کی اساتذہ نے چار پانچ ہزار میں ٹیچر رکھی ہیں بچوں کو پڑھانے کے لیے اور خود سارا دن موج مارتی ہیں سکولوں میں ،
میرے ایک دوست کی بیوی بھی پڑھانے جاتی ہے اور اسے 4000 تخواہ ملتی ہے ۔۔۔
شہباز شریف سے ہاتھ باندھ کر درخواست کریں کہ وہ عوام کے درد کو تھوڑا کم محسوس کریں اور رلیف اب مزید لینے کی قوم میں سکت نہی ہے
نشے والی مائی پکڑی کیا گئی سارے وزیروں نے بہکی بہکی باتیں شروع کر دیں