BBC reports that Kunar Provincial Hospital has confirmed civilian casualties following Pakistan’s rocket attacks on the province today.
No comments from Pakistan yet.
یکی از بزرگترین مشکلات سیاسی افغانستان همین است که پلتفورمهای بین المللی برای بحث آینده وطن توسط مفسد ترین اشخاص سیاسی تسخیر اند، آیا اینرا جامعه جهانی نمی داند؟ چرا کسانیکه واقعا در جنگ و نا امنی افغانستان رنج دیده اند حضور ندارند؟ چرا کسانیکه بر حق صحبت می کنند و پاک استند صدا بلند نمی کنند؟ این سوالات است که ارگان های بینالمللی به شمول اتحادیه اروپا و ملل متحد باید از خود بپرسند تا اشتباهات قبلی را مرتکب نشوند. چون خاموشی جواب است از طرف مردم افغانستان که پالیسی ها و اجنده های ایشان دیگر قابل اعتماد نیست.
افغانستان ہمارا پڑوسی اسلام�� ملک ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے تشویشناک اورسمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں افغانستان کا بگرام ایئربیس چاہیے۔اس کے بعد سے افغانستان سے لڑائی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں حملے کئے جارہے ہیں۔
افغانستان سےپاکستان کی کبھی جنگ نہیں تھی،جب 1979ءمیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے خلاف افغانیوں نے لڑائی شروع کی تو وہ پاکستان کی لڑائی نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اس لڑائی کوجہاد کانام دیاگیا اور اس کا مرکز افغانستان سے اٹھاکرپاکستان لے آیاگیا، روس کے خلاف افغان مجاہدین کوتیار کیاگیا،انہیں اسلحہ اورٹریننگ دی گئی، اس کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کوچنا گیا، پاکستان کے ��مام شہروں میں جہادی مدرسے قائم کئےگئے، علمااورمفتیوں کی جانب سے افغان جہاد میں شرکت کے فتوے جاری کئے گئے،ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے اورلوگوں کوافغانستان میں جہاد میں شرکت کے لئے کھلی دعوت دی گئی، ان کے نام لکھے گئے اورافغان جہاد کے نام پر انہیں ٹریننگ دیکرسوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان ��ھیجا گیا، اس مقصد کے لئے بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر ملے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا اورپاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنادیا گیا۔آج پھرپاکستان کوبیرونی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کا اڈہ بنایا جارہا ہے اور افغانستان پر حملے کئے جارہے ہیں اورپاکستان کامیڈیا اس حوالے سے بڑی بڑی بریکنگ نیوز دے رہاہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ امریکہ اورمغربی طاقتوں نےبھی کئی برسوں تک افغانیوں سے لڑائی کی اورپھربالآخر انہیں وہاں سے نکلناپڑا۔ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لڑائی کی جارہی ہے۔ ��یں پاکستان کےحکمرانوں سے کہتا ہوں کہ افغانستان ہماراپڑوسی اسلامی ملک ہے، اس سے جنگ نہ کریں، اس پر حملے نہ کریں، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے جنگیں نہ کریں۔آخر ہم کب تک غیروں کے مفادات کی لڑائی لڑتے رہیں گے اوراپنانقصان کرتے رہیں گے؟ خداکے لئے یورپ سے سبق حاصل کریں جنہوں نے برسوں تک جنگیں کیں، جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے، بالآخر انہوں نے جنگیں ختم کیں، امن کے راستے پرچلے اور ایک دوسرے سے جنگ وجدل کے بجائے آپس میں بہترتعلقات قائم کئے۔ آپ بھی افغانستان سے جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کرکے معاملات کوطے کریں اور بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایک طرف تو افغان باشندوں کوپاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکالاجارہاہے اور انہیں ٹرکوں میں بھربھر کے افغانستان واپس بھیجا جارہا ہے، انہیں وہاں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے لیکن دوسری طرف وہ افغان باشندے جو کراچی میں بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، جن کے عالیشان کاروبارہیں انہیں نہ صرف کراچی میں رہنے سہنے کی آزادی ہے بلکہ ہرطرح کاکاروبارکرنے کی کھلی اجازت ہے، میں حکومت اورفوج کے حکام کودعوت دیتاہوں کہ وہ خود کراچی کادورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں بڑے بڑے کاروبار کون کررہاہے۔ یا توافغان باشندوں کوافغان جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ان کے ملک وا��س بھیج دیاجاتا لیکن اب جبکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے 40سال ہوگئے ہیں توانہیں واپس بھیجاجارہا ہے۔
میں یہی سمجھتاہوں کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے جنگ کسی بھی طرح درست نہیں لہٰذا میں پاکستان اور پاکستان سے باہررہنے وا لوں سے کہتاہوں کہ وہ افغانستان پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اس وقت پاکستان کوامن و استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 389 ویں فکری نشست سے خطاب
16 مارچ 2026ء
I’ve been inside this facility in Kabul.
It’s a vast drug rehabilitation centre where thousands battling addiction are brought for treatment — part of a desperate effort to confront one of the country’s worst social crises.
Tonight it’s burning. https://t.co/lQZMwdvTK7
A hospital bombed in Afghanistan during Ramadan by Pakistan…
Where is international law now? Where is humanity now?
How many innocent lives must be lost before the world speaks? 💔
I am deeply saddened by the latest reports of civilian casualties as a result of Pakistani airstrikes in Kabul. Targeting civilian homes, educational facilities or medical infrastructure, either intentional or by mistake, is a war crime. The sheer disregard for human lives, especially during the holy month of Ramadan, is sickening and deeply concerning. It will only fuel division and hatred. I call upon the UN and other human rights agencies to thoroughly investigate this latest atrocity and hold the perpetrators to account. I stand with my Afghan people in this difficult time. We shall heal, and we will rise as a nation. We always do. Inshallah ! 🇦🇫
پاکی فوج غالباً ٹرمپ کی تھپکی پر اوقات سے باہر ھوکر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ھوئے افغانستان میں سویلین پر بمباری کررہی ہے۔ گوریلا جنگ میں فتح گوریلوں کی ھوتی ہے اور چند ہزار بلوچ سرمچار روز انکو باندر بنائے رکھتے ہیں اور اگر افغانستان نے بھی کام شروع کردیا تو روتے پھریں گے
یہ کیسی بہادری ہے کہ دہشتگردی کا الزام تو ہمیشہ 🇮🇳 بھارت پر، مگر جہاز صرف 🇦🇫 افغانستان پر؟
بھارت کے پاس مضبوط فضائیہ ہے اس لیے وہاں “اسٹریٹیجک صبر”، اور افغانستان کے نہتے شہریوں پر فضائی حملے؟ واہ رے شیر دلی۔
زمینی فوج بھیجنے کی ہمت کبھی نہیں ہوگی، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ افغان قوم زمین پر لڑنا جانتی ہے۔ آسمان سے بم گرانا آسان ہے، مگر غیرت مند لوگوں کا سامنا زمین پر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں!
افغانستان میں سٹرائیک سے ایک ہی خاندان کے 17 افراد شہید کر دئیے گے جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ❤️🩹
مبارک ہو بدلہ لے لیا گیا 👏👏
انسانیت اور امن کے دشمنوں کے لیے خوشی کا دن ۔۔
د تاريخ پاڼې به وليکي چې ازاد ولس هېڅکله د يرغلګرو پر پښو نه دی پرېوتی. 🇦🇫
د پنجاب څخه به ستا د هر څاڅکي وينئ بدل اخيستل کېږي
#UNITYAGAINSTENEMYOFAFGHANISTAN
نام خداوند بزرگ و توانا
بیست و نو سال از آن روز سیاه ی دردناک و فاجعه بار میگذرد. روزیکه همسرم رئیس جمهور افغانستان دوکتور نجیب الله و براد��ش جنرال احمد زی ظالمانه، نامردانه و وحشیانه به شهادت رسیدند!
یاد و خاطرات آنها در قلب مان و همه وطندارانم و خصوصاٌ در صفحات زرین تاریخ پر افتخار کشورمان بدون شک جاویدان مانده و خواهد ماند.
دوکتور نجیب الله به منظور بوجود آوردن فضای صلح و ثبات و حفظ حاکمیت ملی در سرزمین بخاک و خون کشیده مان تلاش های شبانه روزی خستگی ناپزیر نمود.
دوکتور نجیب الله از روزی انتخاب شان منحیث رئیس جمهور جمهوری افغانستان الی واپسین لحظات حیات اش از استقلال ملی کشور، صلح، عدالت اجتماعی و آبرو و عزت هر هموطن، با شهامت و مردانگی خاص دفاع نمود. به منظور آوردن فضای صلح و ثبات در کشور خودش حاضر شد تا دواطبانه از پُست ریاست جمهوری کنار رود! او امیدوار بود و سخت آرزو داشت تا مردم و نیرو های ملی بتوانند مطابق به عنعنات ملی با حفظ حاکمیت ملی زعامت آینده را، خودشان آزادانه و مستقلانه انتخاب نموده و راههای تعالی و ترقی کشور را در فضای دوستی، صممیت و اعتماد ملی به پیش گیرند.
از تلاش های سیاسی و اجتماعی دوکتور نجیب الله به ده ها و حتی صد ها رساله چه در داخل کشور و چه در خارج از کشور به نشر رسیده است، ولی بهر حال، منحیث همسر دوکتور نجیب الله و یک مادر می خواهم بگویم که دوکتور نجیب الله به زنان پر افتخار وطنش قدر و منزلت خاصی قایل بود. او رول زنان افغان را در عرصه های مختلف زندگی اجتماعی در پهلوی برادران هموطن شان ارج گذاشته و اعمار افغانستان نوین را فقط با فعالیت های مشترک زن و مرد وطن می نگریست. با تأسف امروز قسمیکه می گویند و می نویسند: تنها در ولایت کابل، بیشتر از سه صد هزار زن بیوه با حد متوسط چهار طفل خورد سال بدون اندکی درآمد در محوطه بسته در حالت فلاکت بار فقر و بدبختی زنده گی بسر می برند! و این یک فاجعه بزرگ انسانی است.
من به زنان و مادران هموطن ام همیشه افتخار نموده و می نمایم و به آن زنان و دختران وطنم که بخاطر حقوق انسانی شان بدون ترس و هراس مانند خواهران و ��ادران شان از زمانه های آریائی ها تا امروز مبارزه می کنند، افتخار می کنم و باور کامل دارم که پیروزی و موفقیت آنها قطعی و مسلم است، چنانچه حق بر باطل و روشنایی بر تاریکی همیشه پیروز شدنی است.
زنده و پاینده باد افغانستان!
جاویدان باد خاطرات فرزند صدیق وطن دوکتور نجیب الله!
روح همه شهدای راه آزادی وطن شاد باد!
با حرمت و احترام فایقه
فتانه نجیب