آئین کے آرٹیکل 37 اور 38 کے ساتھ ساتھ آپ آرٹیکل 120, 121, 122 اور 123 پر ملاحظہ فرمائیں جس میں یہ لکھا ہے کہ بجٹ بنانا ، پیش کرنا اور منظور کروانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کہ اپوزیشن کی۔ مولانا شیرانی صاحب نے آپ کو یہی آئینی اور جمہوری راستہ دکھایا ہے
جمہوریت میں اپوزیشن کا کام حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا نہ کہ ڈکٹیٹ کرنا ہے کہ بجٹ کو کیسے بنایا جائے۔ بلوچستان کی اپوزیشن کو مولانا شیرانی جیسے زیرک، بزرگ اور مدبر سیاستدان کی نصیحت پر غور کرنا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینیئر ترین راہنما سے ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ "مولانا صاحب #PDM کا کیا مستقبل آپ کو نظر آ رہا ہے؟"
مولانا شیرانی کا دو ٹوک دو لفظی جواب: کچھ بھی نہیں ہے
😂😂😂
We will consider Jewish Zionist US President Joseph Joe Biden to be a serious, sensible and democratic man when he combines party politics within Pakistan with the hegemony, betrayal and wealth-dominated baboons with spoons and workers. Throw "Mother of Bombs".
کوئٹہ
جےیوآئی پاکستان صوبائی دفتر
جمعیت علماءاسلام پاکستان کے صوبائی نمایندہ اجلاس مولانا محمد خان شیرانی صاحب کے زیرصدارت جاری
#jui_pakistan#molana_sherani
Another milestone achieved by Incumbent Govt of #Balochistan by issuing the notification of:
Bifurcation of Zhob division in to two Division i.e Zhob & Loralai Division
Bifurcation of District Killa Abdullah in to two Districts i.e Killa Abdullah & Chaman
#EmergingBalochistan
#باباشیرانی_لیڈرنہیں_داعی_ھے
بابا شیرانی کا یہ مزاج ھےکہ سامعین کم ھویازیادہ اپنی بات پوری کرتے ھے۔
بابا شیرانی اپنی بات ہرکسی کوکرتےھےجس سےلسانیت،وطنیت،قومیت اور یا پھر مذہبیت کےعنصرکوبالائےطاق رکھتے ھےمگر انسانیت مدنظر ھوتی ھےبابا شیرانی کےمجلس علم وعمل کی بات ہروقت ھوتی ھے
پہلا اقلیتی سیاسی تدریسی اجتماع !
تمام اکثریتی اور اقلیتی عوام کو دعوت عام دی جاتی ہے
مہمان خاص : حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب
3 جولائی بروز ہفتہ شام 5:00 بجے
بمقام پریس کلب کوئٹہ