ثمر ہارون بلور نے جنوبی خیبر پختونخوا میں بدامنی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث خواتین کی تعلیم کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق والدین سماجی رکاوٹوں کے باوجود اپنی بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم طالبات کے لیے محفوظ اور پُرامن تعلیمی ماحول کی فراہمی ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بی آر ٹی کے فلیگ شپ منصوبے میں تجارتی پلازے کی جگہ پارکنگ پلازہ بننے کا انکشاف سامنے آیا ہے _ اس تنازع کی پوری تفصیل تیمور خان کی خصوصی رپورٹ میں دیکھیں۔
https://t.co/BnQDtshzb9
پی ٹی آئی کے فلیگ شپ پروجیکٹ بی آر ٹی میں کمرشل پلازے کی جگہ پارکنگ پلازہ بننے کا انکشاف۔ اس حوالے سے مزید کیا تفصیلات ہیں جانیے تیمور خان کی اس رپورٹ میں
BLA’s claim of killing 18 security personnel and seizing government installations is contradicted by reported ground operations. Between 18–23 Sept, security forces reported multiple operations across Balochistan, killing terrorists, recovering weapons/explosives and foiling attacks.
#RaddUlFitna3
افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی انسانی قیمت پاکستان کے لیے مسلسل بڑھ رہی ہے، جو طالبان حکومت کے دعوؤں اور زمینی سکیورٹی صورتحال کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتی ہے۔ 2026 میں افغان سرزمین سے منسلک دہشت گردی کے نتیجے میں مبینہ طور پر 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی ہوئے، جبکہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ لڑتے ہوئے 260 شناخت شدہ افغان شہری بھی مارے گئے۔ غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی اور نیٹو و امریکی ساختہ عسکری سازوسامان کے استعمال کی اطلاعات سرحد پار دہشت گردی کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنج کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔
The human cost of terrorism emanating from Afghan soil continues to expose the gap between Taliban regime denials and the security realities facing Pakistan. In 2026, attacks linked to militant activity from Afghan territory have reportedly resulted in 1,327 Pakistanis martyred and 2,484 injured, while identified Afghan nationals have also been killed fighting alongside the TTP inside Pakistan. The reported presence of foreign fighters and the use of NATO- and US-origin equipment further underline the scale and complexity of the cross-border security challenge.
Pakistan has strongly condemned the alleged 23 September drone incursion launched from Afghan territory, calling it a violation of its sovereignty and territorial integrity.
According to Pakistan’s statement, its air defence systems detected and neutralised all intruding drones before they reached their intended targets. Pakistan says it subsequently carried out precision strikes against 10 locations in Afghanistan identified as launch and storage sites.
Islamabad has warned that further violations of its sovereignty will be met with a firm response, while reiterating that it remains committed to regional peace, dialogue and constructive engagement.
23 ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب آنے والے ڈرونز کی دراندازی کو پاکستان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔
پاکستانی فضائی دفاع نے تمام درانداز ڈرونز کو ان کے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی شناخت کرکے ناکارہ بنا دیا۔ اس کے بعد دفاعِ وطن کے حق کے تحت افغانستان میں ڈرونز کی لانچنگ اور اسٹوریج سے منسلک 10 مقامات پر محدود اور درست فضائی و ڈرون کارروائیاں کی گئیں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی کسی بھی جارحانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اسلام آباد نے خطے میں امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
گوجرانوالہ میں کیپٹن ابوزر کی نمازِ جنازہ اور آخری سفر کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شہریوں نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ وطن کے اس بہادر سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کیپٹن ابوزر کی قربانی پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ قوم اپنے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ شہداء کی قربانیاں قوم کی تاریخ کا ہمیشہ روشن باب رہیں گی۔
گوجرانوالہ میں کیپٹن ابوزر کی نمازِ جنازہ اور آخری سفر کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شہریوں نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ وطن کے اس بہادر سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کیپٹن ابوزر کی قربانی پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ قوم اپنے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
شہداء کی قربانیاں قوم کی تاریخ کا ہمیشہ روشن باب رہیں گی۔
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟
📷27 ستمبر ایک اور 9 مئی📷
ایک بار پھر ہم اپنے جوانوں کی تذلیل ان آوارہ کتوں کے ہاتھوں ہونے دیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہمارے محافظوں پر ڈنڈے برساۓ جائیں گے؟کیا ایک بار پھر ہم ٩ مئی کو دوہراتا ہوا دیکھیں گے؟ کیا ایک بار پھر ہم خاموش تماشائی بنیں گے ؟