اللہ کے سوا ہم کسے کے سامنے نہیں جھکیں گے۔عمران خان
تو یہیں ہار گیا ہے میرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا
وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہاؤس میں میرا آخری انٹرویو-اس میں یہ شعر پڑھا تھا کیونکہ مجھے اپنی پاکستانی قوم پر اعتبار تھا
پاکستانی تجھے سلام 🌹❤️🇵🇰
میرے والد اپنے عزم اور ارادے میں اتنے مضبوط انسان ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا مضبوط شخص نہیں دیکھا۔ انہوں نے انتخابی کامیابی حاصل کرنے سے قبل مسلسل 22 سال تک تمسخر اور مشکلات کا سامنا کیا۔ وہ ایک ہولناک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے، بے شمار مصائب برداشت کیے، اور اب گزشتہ تین سالوں سے قید تنہائی کے باوجود ہمت نہیں ہارے۔ تاہم اس ناروا سلوک کے اثرات اب ان کی جسمانی صحت پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ ان کی عمر 73 سال ہو چکی ہے ۔ انہیں بمشکل 6x8 فٹ کی ایک ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جہاں نہ کوئی کھڑکی ہے اور نہ قدرتی روشنی کا گزر۔ انہیں دن کے 23 گھنٹے سے زائد وقت اسی تاریک ماحول میں قید رکھا جاتا ہے ۔ جب گزشتہ سال اکتوبر میں ان کی بینائی متاثر ہونا شروع ہوئی ، تو تین ماہ تک محض آنکھوں کے ڈراپس دینے پر اکتفا کیا گیا۔ رواں سال فروری میں جب ان کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا ، تب تک وہ اپنی دائیں آنکھ کی بینائی کا ایک بڑا حصہ کھو چکے تھے ۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران معزز جج نے نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ان کی نبض اور دل کی دھڑکن معمول پر نہیں تھی ۔ اس کے علاوہ یہ تشویشناک انکشاف بھی ہوا کہ ان کے اہم ترین جسمانی اعضاء متاثر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ کسی شخص کو صرف قید میں ہونے کی وجہ سے طبی نگہداشت سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے ۔ سپریم کورٹ نے اس صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم صادر کیا تھا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت عدالتی حکم کی پابندی کرے، غیر جانبدار ماہرین کو معائنے کی اجازت دے ، طبی رپورٹ منظر عام پر لائے اور بطور اولاد ہمیں ان سے رابطے کا حق فراہم کرے ، قاسم خان
جو کچھ ہورہا ہے وہ عمران خان کی فیملی کے لیے بہت دردناک ہے ۔عمران خان دنیا کے لیے ہمہ وقت کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک اور پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر ایک غیر معمولی قائد کے طور پر جانے جاتےہیں، جتنا ٹارچر جیل کی کوٹھڑی میں عمران خان برداشت کررہے ہیں ،وہ سب ان خاندان کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے ، کیونکہ وہ تو اپنے لمحہ بہ لمحہ کے حالات سے واقف ہیں، لیکن ان کی فیملی اور بیٹے ہر روز کسی برے خدشے سے ڈرتے رہتے ہیں مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے بیٹوں کی ہر صبح اپنے والد کی فکر میں ہوتی ہے اور ہر رات انہی کا خیال دل میں لیے سوتے ہیں۔ یہ پورا خاندان ہے جسے اذیت کا نشانہ بنایاجارہا ہے صرف عمران خان کو نہیں ۔
میں خان صاحب کی قید کے حالات کی تفصیلات پیش کرنا چاہتا ہوں: انہیں مسلسل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں دن کے 23گھنٹے انہیں ایک انتہائی تنگ سیل میں بند رکھا جاتا ہے اور کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کی کوٹھڑی کا سائز بمشکل (7x7)فٹ ہے ۔ وہاں نہ کوئی کھڑکی ہے ، نہ قدر تی ہوا یا روشنی کا گزر۔ شدید گرمی اور سردی کے موسم میں وہاں کے حالات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں بشمول شدید حبس اور کیڑے مکوڑوں کے ۔ ٹوائلٹ کے گرد چھوٹی سی دیوار ہے جس کی کوئی چھت یا درواز نہیں ۔ اور 24گھنٹے کیمروں کے زریعے ان کی پرائیویسی کوپامال کیاجاتا ہے ۔ انہیں مذہبی اور سماجی حقوق سے محروم رکھا گیا ، یہاں تک کہ باجماعت نماز یا عید کی نماز میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ وکلا اور خاندانی ملاقاتوں پر غیر قانونی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سےان کا قانونی دفاع شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ جیل کے اندر بند کمرے میں کینگرو عدالتیں لگا کر انہیں قانونی حقوق سے محروم کیا گیا طبی غفلت کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے ۔ ہسپتال کے نام پر پمز لے جا کر چند گھنٹوں میں ڈرامہ رچا کر واپس جیل بھیج دیا گیا، انہیں مسلسل نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے یہ تمام حالات نیلسن منڈیلا قواعد، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور پاکستان کے اپنے آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں ، انسانی حقوق کے وکیل جیرڈ جینسر کی گفتگو
عمران خان کے لیے عالمی سطح پر مزید آوازیں اٹھنے لگیں ، چیف جسٹس پاکستان کا کیس نہ لگانا پاکستان اور پاکستان کی عدلیہ کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا سبب بن رہا ہے
پورے پاکستان کو پتا ہونا چاہئے کہ ہم کوئی سیاست نہیں کررہے بلکہ آپ کی اور آپ کے بچوں کی زندگیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ، جب تک آپ نہیں نکلیں گے اور آپ کا خوف نہیں ہوگا تو یہ سانحات ہوتے رہیں گے ، اس حکومت کو گھر بھیجے بغیر کوئی چارہ نہیں ، عوام کو ہمارے ساتھ نکلنا ہوگا ، سلمان اکرم راجہ
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
Imran Khan, the former Pakistan prime minister and legendary cricket captain, will be moved from his “death cell” in prison to hospital amid concerns about his health.
The Supreme Court of Pakistan ordered on Tuesday that Khan, 73, should be moved to hospital, having been in jail for the last three years for a string of cases following his ousting as prime minister in 2022⤵️
https://t.co/BSFORuHRwb
سابق وزیر اعظم عمران خان پر 250 سے زیادہ مقدمات ہیں تین سال سے جیل میں ، قید تنہائی میں ہیں 8 ماہ سے فیملی کی ملاقات ہونے نہیں دی گئی، ڈاکٹروں سےمکمل چیک اپ نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اس کو زاتی انتقام کہنا غلط نہ ہو گا۔
جو یہ دعوے کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑی انویسٹمنٹ آئے گی وہ پہلے حکمرانوں سےکہیں اپنے اربوں روپےجو انہوں نے دوسرے ملکوں میں انوسٹمنٹ کی ہےپہلے وہ اپنے ملک میں لے کر آئیں انٹرنیشنل انوسٹمنٹ تب آتے ہیں جب ملک میں دہشت گردی، رشوت اور لا قانونیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
"ہماری جماعت کو 8 فروری، 2024 الیکشن میں ووٹ نہیں پڑا۔ ہمیں تیسرے، چوتھے نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر لایا گیا" -
جاوید لطیف کا یہ اعترافی بیان مریم نواز کے جھوٹ پکڑنے کیلئے کافی ہے۔ 👏👏👏
آپ نے مارنا ہے تو کتنوں کو ماریں گے؟ فرعون سے زیادہ تو آپ نہیں مار سکتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، آئیں عہد کریں، ہر ادارہ عہد کرے۔ جہاں تک بات معافی مانگنے کی ہے، تو معافی سب مانگیں، سارے ادارے۔ افواجِ پاکستان بھی، ایجنسیاں بھی، ادارے بھی اور سیاسی لوگ بھی۔
مصلحتوں سے کام نہ لیں۔ چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کی وجہ سے آپ نے بربادی کر دی ہے۔
جب تحریک انصاف کی چھینی ہوئی سیٹیں بانٹی گئیں تو کسی نے انہیں لینے سے انکار نہیں کیا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، وہ ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے تھے اور ہم نے اپنی جیبیں کھلی رکھی ہوئی تھیں کہ اس میں ڈال دو۔ کیا ملک ایسے چلے گا؟
جب افواج اس حد تک آ جاتی ہیں، جب وردی والے لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ دیتے ہیں کہ 'بسم اللہ! یہ بولی ہے، سیٹوں کا ریٹ کیا ہے؟ 30 کروڑ، 40 کروڑ،جب آپ 40 کروڑ میں اسمبلی کی سیٹیں بیچیں گے اور ان کو وزیر بنائیں گے، تو وہ یہ 40 کروڑ پاکستان کے پیٹ سے ہی نکالیں گے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟۔
محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP