وزیر اعلیٰ سہیل افریدی کی تقریر کا وہ حصہ جو خزف کیا گیا۔۔
تقریر خزف کرنے سے حقیقت بدلتی نہیں عمران خان ناحق قید ہے اور طبعیت بھی جیل میں ہی خراب ہوئی ہے، مگر عدالتیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ کے سامنے بے بس ہیں۔
آپ ایک چیز نوٹ کریں۔ کمپنی کے سب کارندوں کی توپوں کا رخ علیمہ خان کی طرف ہے۔ کچھ سیدھے حملے کر رہے ہیں کچھ غیر محسوس طریقے سے حملہ آور ہیں۔ یعنی باریک وارداتیں ڈال رہے ہیں۔ کیونکہ عمران خان کے بعد یہ علیمہ خان کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کی بصیرت اور دانش کی وجہ سے۔
اس لئے کمپنی نے علیمہ خان کی عمران خان سے ملاقاتیں بند کی ہوئی ہیں۔ نورین نیازی کو کہتے ہیں وہ مل لے۔ ڈاکٹر عظمی کو بھی ملاقات کی اجازت نہيں دے رہے کیونکہ اس نے پچھلی بار واپس آ کر سب کچھ بتا دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ بھی نڈر اور صافگو ہیں۔
نورین نیازی ایک مہربان ماں اور مشفق بہن ہیں۔ سیاست سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ بھائی سے محبت اور انکی سلامتی کی فکر انہيں خان صاحب کا سخت پیغام باہر آ کر بتانے سے روکے گا۔ جو درست اندازہ لگتا ہے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس بنانے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ٹرائل مکمل اور سزا ہونے کے بعد، قانونی طور پر نیب کا اڈیالہ جیل میں ان کی قید سے اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ لیکن نیب وفاقی حکومت سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر دونوں قیدیوں کی 'قیدِ تنہائی' کے خلاف دائر درخواست پر متحرک نظر آ رہا ہے۔ عدالت میں نیب کا اصرار ہے کہ چاہے 7 ماہ سے قیدیوں کی کسی سے ملاقات نہ کروائی گئی ہو، پھر بھی اسے قیدِ تنہائی ہرگز نہیں کہا جا سکتا؛ بلکہ بیرسٹر سلمان صفدر اور تحریک انصاف محض ایک ماحول بنا رہے ہیں۔ نیب نے یہ عجیب دعویٰ بھی کیا کہ اس معاملے میں قیدیوں کی بہن اور بیٹی متاثرہ فریق ہی نہیں ہیں، انکی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جائے۔ پروگرام خبر نشر میں سینئر صحافی نصرت جاوید اور عدنان حیدر کے ساتھ گفتگو
@AhilsC10423 ہاں ہوئی نہں ملاقات نورین خان کی جب سے تمہاری رہائی ہوئی ہے تم مسلسل علیمہ خانم کے خلاف بول رہے ہو کروائی نہیں تیرے سگوں نے ملاقات نورین آپا کی
عمران خان تابعدار نہیں تھا اس نے باجرے کا ماجرا جان لیا تھا،اس لئے اس کے خلاف پہلے دن سے ہی منے اور ٹکلے چھوڑ دیئے گئے تھے، اب جو عمران خان پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے ہمیں نوکریوں سے نکلوایا وہ جا کر راوی کے گندے نالے میں چھلانگ لگا دیں
جہاں تک پیپلز پارٹی کے بیانات کا تعلق ہے یہ عوام کی توہین ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں گلگت بلتستان میں کچھ دن پہلے بلاول صاحب کہہ رہے تھے تم ہمارا مینڈیٹ چوری کرو میں تالیاں بجاؤں اور آج بلاول صاحب کہہ رہے ہیں ہم نے وہاں مل کر حکومت سازی کرلی ہے یہ دنیا میں انوکھا ایک ماڈل ہے جہاں
اپوز یشن بھی وہی ہیں حکومت بھی وہی ہیں کشمیر کے حوالے سے بلاول بھٹو بات کر رہے تھے لگ رہا ایسے تھا جیسے کشمیر میںPTI کی حکومت ہے اس قسم کے بیانات پر ان کے لئے فکر کی بات نہیں ہے لیکن ہمارے لئے ہے کہ آپ عوام کو اتنا گیا گزرا سمجھتے ہیں آپ ایک دو مہینے کے بعد اس طرح کے بیانات دے دیں گے اور عوام اسے تسلیم کرلے گی
اطہر کاظمی
بریکنگ نیوز🚨ایمل ولی خان کا منصور علی خان کی پوڈ کاسٹ میں تہلکہ خیز انکشاف 🔥🔥
9 مئی ایک ڈرامہ تھا جو PTI کو پھنسانے کیلئے کیا گیا۔ سب کو پتہ ہے کور کمانڈرز کے گھر ایسے کوئی نہیں گھس سکتا۔ یہ سب اسٹبلیشمنٹ اور ن لیگ کی گیم تھی، ہمیں بھی اس سارے معاملے پر خاموش رہنا کا حکم ملا تھا، جس کے بدلے میں انعام دیا گیا۔
ایرانیوں نے امریکہ کو Absolutely Not کہا تو ایران کے گرویدہ ہو گئے (ہونا بھی چاہئے) لیکن اپنے ایک سیاسی مخالف نے امریکہ کو Absolutely Not کہا تو اس جیل میں ڈال دیا
واہ رے حکمرانو