جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جناب امیر العظیم کے انتقال کی دلخراش خبر سُن کر دل و دماغ غم سے بھر گئے ھیں ۔۔
انا للّٰہ و انا الیہ راجعون
طلبا سیاست کے پُر آشوب دور میں 1982 سے 1986 تک انکے ساتھ بطور قریبی حریف مقابلہ رھا جو دھائیوں پہلے قریبی دوستی اور بھائ چارے میں بدل گیا تھا
وہ حلیم الطبع ، ملنسار ، مخلص ، با اخلاق اور خوشگوار شخصیت کے حامل گوھر ِ نایاب تھے
طویل سیاسی جدوجہد کے دوران نہایت دلیری اور استقامت سے قید وبند کی صعوبتیں اور ریاستی تشدد سہا لیکن اُف تک نہ کی ، وہ کبھی رُکے نہ جھُکے ، اسلامی و جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے جہد مسلسل انکا شیوہ رھی
وہ نرم دم ِ گفتگو اور گرم دم ِ جستجو کی عملی تصویر تھے ۔۔
انہوں نے کینسر کے موذی مرض کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بیماری کے دوران بھی اپنا نظریاتی و سیاسی کام جاری رکھا
اللّٰہ کریم انھیں اپنے جوار ِ رحمت میں جگہ دیں ، اپنے دیندار بندے کی کامل مغفرت فرمائیں اور انکے لواحقین کو صبر ِ عظیم سے نوازیں
اصل مطلوب ھے آخرت کی نجات اور دنیا کی کامیابی سیکینڈری ھونی چاھیے،،،،،،
؟
مروجہ نظام کے ساتھ تعلق کم سے کم ھونا چاھیے ،،،،،
جب کوئی تحریک چلتی اس میں ایک نیوکلس ھوتا ھے باقی اس نیکلس کے گر د الیکٹران،نیوٹران ھوتے جو مال بھی خرچ کر رھے ھوتے ھیں اور کچھ نہ کچھ سیکھ بھی رھے ھوتے ،،،،
سیرت سے ھمیں پتہ چلتا ھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھت کامیاب تاجر تھے لیکن نبوت کے بعد کوئی دنیاوئی کام نھی کیا اسی طرح حضرت ابوبکر بھت کامیاب تاجر تھے لیکن حجرت کے وقت گھر میں کچھ نھی چھوڑا ،،،
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
Even now the timing is mischievous, FWO taking over university road project and the talks about new federal units and twisting PPP's hand for 28th amendment.
If meri jind meri jaan asim munir managed to get rid of PPP in Karachi, it would be bigger than defeating India.
3/3
میئر کراچی کی ہدایت پر ہل پارک کی پہاڑی پر قبضے کے خلاف انہدامی کارروائی شروع
یہ کریڈٹ صرف و صرف جماعت اسلامی کا ہے جس نے اس اشو کو سب سے پہلے اٹھایا بھرپورانداز میں اٹھایا منظم انداز میں اس کے خلاف مہم چلائی اگر یہ مہم نہ چلتی تو آہستہ آہستہ پورے ہل پارک پر قبضہ ہوجانا تھا جماعت اسلامی کی مہم جب پوری شدت اختیار کرگئی اور اس مہم میں عام شہری میں شریک ہوئے تو اس کے بعد ایم کیوایم اور دیگر جماعتوں نے چھلانگ لگاکر مہم میں شامل ہونے کی کوشش کی جماعت اسلامی کی مہم کی وجہ سے بلدیہ عظمی قبضے کی جگہ پر آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی پہلے تو بلدیہ عظمیٰ نے اس جگہ کو اپنی جگہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا
شکریہ جماعت اسلامی
Alhamdulilah I'm back home!
A mentor of mine told me that a journalist should leave no stone unturned to follow a story but should avoid becoming a story at every cost..
But I guess life had different plans.. I will not discuss the ongoing case , just wanted to
Despite ongoing tensions between India and Pakistan, a recent incident in the Arabian Sea showed how maritime rescue operations can rise above politics.
According to reports, an Indian cargo vessel, MV Gautam, suffered a major technical failure while traveling from Oman to India. Its generators failed, power systems shut down, and the ship began drifting at sea.
The incident occurred inside Pakistan’s Search and Rescue Region, making the response technically Pakistan’s responsibility under international maritime protocols.
After contact from the Maritime Rescue Coordination Centre Mumbai, the Pakistan Navy deployed ship to assist.
Reports say emergency food, medical aid, and technical assistance were provided, while the Indian Coast Guard also coordinated towing support.
Because at sea…survival comes first.
#indiapakistan #Pakistan #indiannavy #navy
The shooting down of 8 Indian jets took all the spotlight, but what people don’t realize is how difficult and daring the S-400 mission undertaken by the PAF actually was.
The JF-17 pilots had to penetrate the Maximum Abort Range (MAR) of the S-400, launch the CM-400 missile, and return safely without being shot down.
This mission changed the course of the war.
پنجاب پولیس بادشاہ ہے وہ چوھے کو ہاتھی بناکر پیش کرسکتے ہیں جیسا کہ محمد سعد کے کیس میں سی ٹی ڈی نے انکشاف کیا ہے وہ بریلوی مسجد میں القاعدہ لٹریچر تقسیم کر رہا تھا اور اسے القاعدہ نے رکنیت سازی کا کارڈ جاری کیا یہ آگ بات ھیکہ گھر والے کہتے ہیں کہ مسجد سے نہیں گھر سے اٹھایا
#کراچی_سول_سوسائٹی نہ ہو تو ان طلباء کی آواز کون بنے گا؟
کراچی میٹرک کی بہادر بیٹی (سعدیہ) اور اسکی کلاس فیلو طالبات نے #پیپلز_پارٹی_چور_ہے کو بے نقاب کردیا مگر ان طالبات کے رزلٹ اب دشمنی میں تبدیل کیے جانے کا خطرہ ہے
@KhiCivilSociety طلباء/طالبات کے ساتھ ہے
@sardarshah1
کراچی:
“پیسے ہیں تو پرچہ دو””پیسے دو بی کاپی لو”!
نقل کے لئے مجبور کیا جارہا
پیسے نہیں ہیں تو وقت سے پہلے امتحانی روم سے نکال دیا !
عثمان پبلک اسکول میٹرک کے طلباء سے سنیں #پیپلز_پارٹی_چورہے کی کرپشن کی اندرونی کہانی
نوٹ:(ان طباء کو سچ بتانے پر نقصان کی ذمیدار سندھ حکومت ہوگی)
ہاہاہا پانچ ہزار سال پرانی بدتہذیبی چھپائے نہیں چھپتی ٹیم @BBhuttoZardari کی،
بھولڑن یہ 15 سیکنڈ میں تو اپکی اچھل کود پوری نہ ہوگی، بینظیر انکم سپورٹ سے امداد بھی نہ رہ جائے۔۔
تو میں پوری ویڈیو لگا دیتی ہو ،اب ناچو یا اپنے زخم چاٹو آپکی مرضی ۔
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے یونیورسٹی روڈ بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیرات میں حیران کن انکشافات ۔۔۔۔۔تاخیر کا زمہ دار کون ہے اور منصوبہ کب بنے گا؟؟ سامنے آگیا۔۔۔۔
بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی اس دوران
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بیان دیا کہ لاٹ ٹو کنٹریکٹ تاحال کسی کو نہیں دیا گیا ہے ،کنٹریکٹر کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے دلائل دئیے کہ سائٹ پر موجود سامان کی انوینٹری مکمل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگے گا ،سائٹ پر چھ چھ کنٹریکٹرز دندناتے پھر رہے ہیں پتہ نہیں کس کس کو کنٹریکٹ دیا جارہا ہے ، جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ دندناتے پھر رہے ہیں مطلب ننگے پاؤں پھر رہے ہیں؟ جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،کنٹریکٹر کے وکیل نے کہا ایڈووکیٹ جنرل سندھ قانون بتائیں کس قانون کے تحت پولیس اور مختیار کار نے سائٹ سیل کی ہے ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا جہاں پر کنٹریکٹر کا دفتر بنا ہوا ہے وہ جگہ کے ایم سی کی ملکیت ہے ، وکیل ٹرانس کراچی نے کہا کہ یہ بہت ہی متنازع معاملہ ہے اس پر اربیٹریشن چل رہی ہے ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے دلائل دئیے ابھی بھی لاٹ ٹو کی سائٹ کنٹریکٹر کے پاس ہے ،الاٹ ٹو کا کنٹریکٹ نوٹس پیریڈ ختم ہونے بعد کسی اور کو دیا جائے گا (ایف ڈبلیو او) کو فی الحال لا ٹ ٹو پر ڈرینج اور سڑک کی بحالی کا کام دیا گیا ہے ،صلاح الدین احمد نے کہا کہ میڈیا میں دیکھیں لوگ وہاں کام کررہے ہیں مئیر ،وزراء کہے رہے ہیں کہ کنٹریکٹ ختم کردیا ہے ایف ڈبلیو کو بھی لے آئے ہیں ،جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے ریمارکس دئیے کہ یونیورسٹی روڈ شہر کی مرکزی سڑک ہے شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے، اگر کہیں اور یہ کنٹریکٹ ہوتا تو کب کا ختم ہوچکا ہوتا،وکیل درخواست گزار نے انکشاف کیا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے 16 اسٹیشنز بننے تھے20 اپریل 2026کوصرف ایک اسٹیشن کا ڈیزائن دیا ہے،15 اسٹیشنز کا ڈیزائن آج تک نہیں ملا ہے ، سائٹ سے یوٹیلیٹیز کلئیر کراکے کنٹریکٹر کے حوالے کرنے تھیں جو 30 ماہ بعد حوالے کی گئی ہے تاہم یوٹیلیٹیز اب موجود ہیں ،ساڑھے تین ارب روپے نہیں جو دینے تھے وہ دئیے نہیں اور کہتے ہیں راتوں رات پروجیکٹ بن جائےانہوں نے کسی اور کو پروجیکٹ دینا ہے اور دے بھی دیا ہے ،کنٹریکٹ ختم کرنے کے لیے 14 دن کا ٹائم دینا تھا ،یہ معاملہ عوامی مفاد کا بھی ہے ،اگر معاہدہ زبردستی درمیان میں ہی ختم کردیا جائے گا تو ریکوڈیک کی طرح کنٹریکٹر اضافی رقم کا دعویٰ کرے گا، اور وہ اضافی رقم وزیر اعلیٰ سندھ کی جیب کے بجائے قومی خزانے سے جائے گی ،جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے ریمارکس دئیےدنیا میں اس طرح کا کنٹریکٹ کہیں نہیں ہوتا ہے ،صلاح الدین وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا پوری دنیا میں اسی طرح کے کنٹریکٹ ہوتا ہے سنگاپور ،چائنہ وغیرہ ، واضح طور پر بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت سائٹ سیل کی گئی ہے ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاہمیں اپنا جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے ،متعلقہ ڈپٹی کمشنر کا جواب آنے دیں ڈی سیلڈ کا معاملہ بعد میں دیکھ لیں ،وکیل ٹرانس کراچی کے مطابق درخواست گزار نے 470 ملین روپے کی مشنری کی انوینٹری دی ہے ، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ایک سیلڈ پراپرٹی پر دوسرے کنٹریکٹر کیسے وہاں گھوم رہے ہیں ؟ سائٹ کو کورٹ کی تحویل میں رکھا جائے جب تک ناظر کام کررہا ہے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہالاکھوں لوگوں وہاں سے روز گزرتے ہیں اسپتال ہیں ،یونیورسٹیز ہیں ، اس پر جیسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دئیے کہ ٹائم پر کام کیوں نہیں کیا ہے اہم سوال یہ ہے ،بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ جب گورنمنٹ سندھ اپنے مسلح افراد کے ساتھ آتی ہے تو کنٹریکٹ کہاں جائے گا ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق سی ای او ٹرانس کراچی کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ 2028 میں مکمل ہوگا،جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دئیے کہ تاخیر کس کی وجہ سے ہوئی ہے اس کمیشن بنادیں ،جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے کہا اس سے پورے شہر کی لائف متاثر ہورہی ہے،متاثرتو عوام ہورہی ہے آپ لوگوں کا کیا ہے یونیورسٹی روڈ کے ارد گرد رہنے والے بلکہ پورا شہر اس متاثر ہورہا ہے ،وکیل درخواست گزار کے مطابق ایک دستاویز دیکھا دیں کہ پروجیکٹ میں تاخیر کنٹریکٹر وجہ سے ہوئی ہے ،جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے پھر دہرایا کہ ہم تو چاہتے ہیں اس معاملہ پر کمیشن بنایا جائے اور کہا ہمیں آپ کےمعاہدے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ہمیں سڑک چاہیے ، اتنا وقت ہوگیا یونیورسٹی روڈ کی وجہ سے شاہراہِ فیصل اور شاہراہِ پاکستان پر بھی ٹریفک کے مسائل ہوتے ہیں ، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت یہ بھی بتایا جائے کہ یونیورسٹی روڈ کب مکمل ہوگی آئندہ سماعت پر بتایا جائے ،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ٹرانس کراچی کے وکیل کی استدعا پر سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی