آج وزیراعظم ہاؤس میں نرس رضیہ نورین کی عزت افزائی نے ایک مضبوط پیغام دیا، پاکستان میں غفلت پر احتساب اور بہادری پر انعام ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے کی تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت و ایک کروڑ روپے کا انعام بھی پیش کیا۔ 🇵🇰
شاباش سیلمان بٹ شاباش
اسکائی سپورٹس عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کرکٹ کے پلٹ فارم پہ کرتا ہے تو مائیکل ایتھرٹن غزہ کے بچوں کے لئے آواز کب بلند کریں گئے ؟ معین علی کو فلسطین کے جھنڈے والا ربن باندھے سے روکا جاتا ہے تو پھر اس پلیٹ فارم کو سیاست کے لئے کیوں استعمال کیا جاتا ہے ؟ سیاست کرو سیاست کے پلٹ فارم پہ کرکٹ کے چینل پہ نہیں واہ جی واہ زندہ باد
کہا تھا نا کہ تم ہمارا پانی بند کرو گے ہم تمہاری سانس بند کر دیں گے، 9 مئی 2025 کو معرکہ حق میں بدترین شکست کے بعد انڈیا نے اپنی اوقات سے باہر نکل کر پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیں تھیں، پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا، آج عالمی ثالثی عدالت سے انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی ہے، عدالت نے انڈیا کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا ہے۔
کل میں نے ایک پروگرام میں بات کی تھی کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں نہیں چاہتے کہ ڈیل کریں اس پہ گل صاحب کہتے ہیں کہ اپ ایک ہی بندے کی بات کریں (عمران خان) جو ڈیل نہیں چاہتا میں کیسے ایک بندے کی بات کروں جب کہ مجھے پتہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈٹی ہوئی ہے وہ کسی صورت ڈیل نہیں کرنا چاہتی نجم سیٹھی
میرا کپتان کرکٹ کی تباہی کا بھی ذمہ دار نکلا
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ میں ایمانداری سے بات کروں گا تو پھر کچھ لوگ مائنڈ کر جاتے ہیں عمران خان نے جب احسان مانی کو لایا تو وہاں سے کرکٹ کی تباہی شروع ہوئی حالانکہ ان کو منع کیا گیا لیکن انہوں نے ضد کی کہ نہیں اسٹریلیا کا نظام لاؤ اور اس کے بعد رمیز راجہنے بھی انکار نہیں اور سسٹم تبدیل کردیا گیا اس کے بعد زکا اشرف اور مجھے چلنے ہی نہیں دیا گیا پاکستان میں کرکٹ کا بڑا اچھا سسٹم تھا اس سے اچھے کھلاڑی اتے تھے لیکن وہ تمام سسٹم میرے کپتان نے ختم کر دیا
سانحہ پمز: کون کون فارغ ہوا؟
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے (جس میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوئے) کی انکوائری رپورٹ کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 اعلیٰ افسران کو فوری طور پر عہدوں سے فارغ / معطل کر دیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے معطل افسران اور اہلکاروں کے خلاف جو فوجداری مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہی وہ درست قدم ہے جو وزیراعظم کو لینا چاہئیےتھا اور نرس نورین کیلئے بچے کو بچانے ہر ایک کروڑ روپے اور ستارہ خدمت دینے کا اعلان بھی بہترین قدم ہے
_PMO Press Release_
*پرائم م
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطحی اجلاس، وزیرِ اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش*
وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کرے انکے خلاف فوری کاروائی کرنے کی منظوری دے دی.
وزیرِ اعظم کی کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کاروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کاروائی کرنے کی خصوصی ہدایت.
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن ان آٹھ لوگوں میں شامل.
وزیرِ اعظم کی بلا امتیاز فوجداری کاورائی کی ہدایت.
وزیرِ اعظم کی سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اسکے عہدیداران کے خلاف کاروائی کی بھی منظوری.
وزیرِ اعظم کی اپنی جان کی پراہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت دینے کی منظوری.
وزیرِ اعظم کی وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت.
وزیرِ اعظم کی ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او- این آئی ایچ (NIH) کو پمنز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت.
وزیرِ اعظم کی جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے انکی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت.
وزیرِ اعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت، رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویپ سائیٹ پر آویزاں کر دی جائیگی.
مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں. وزیرِ اعظم
اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا. وزیرِ اعظم
معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے. وزیرِ اعظم
بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں. وزیرِ اعظم
واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائیگی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اسکا لخت جگر جدا نہ ہوا. وزیرِ اعظم
اجلاس کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی.
تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی.
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں.
پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا. بریفنگ
واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا. بریفنگ
واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے. بریفنگ
آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا. بریفنگ
ایک نرس نے وارڈ میں اگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک بچے کی جان بچائی. بریفنگ
آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا. بریفنگ
صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں لئے گئے. بریفنگ
وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا. بریفنگ
نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی. بریفنگ
ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی. بریفنگ
اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کا تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ. وزیرِ اعظم کی تحقیقات کو مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت.
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفی کمال، کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل (ر) خورشید اترا، اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
آج پرائم منسٹر شہباز شریف @CMShehbaz کے اندر پرانی والی روح گھس گئی تھی وہی روح جو ہمیں پنجاب کے وقت دکھائی دیتی تھی
پرائم منسٹر نے اُنہیں نوکری سے برطرف کر کے مقدمات قائم کرنے کا حکم دیا جن کے بارے کہا گیا بہت وڈے طاقتور ہیں
پرائم منسٹر صاحب یہی پھرتیاں بجلی گیس پیٹرول کے لیے اک واری دکھا دیں تو چس آ جائے گی
بجلی آج بھی غائب ہے گیس صبح نہیں آتی اور سلنڈر گیس 420 کیوں بک رہی ہے اس پر بھی کمیٹی بننی چائیے شکریہ
قوم کی ہیرو بیٹی۔۔
پمز کی ہیرو نرس رضیہ نورین مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق کی طرح جلتی آگ میں آئیں اور بچے کو بالکل اپنے بچے کی طرح گلے لگا کر لے گئیں۔
پھر دوسری دفعہ واپس آئیں مگر آگ بھڑک چکی تھی اور دھماکے شروع تھے۔۔
وزیراعظم نے انہیں ستارہ خدمت دے کر بہت عمدہ اقدام کیا ہے۔۔ وہ قوم کی ہیرو بیٹی ہیں۔
نرس رضیہ نورین جیسے لوگ پاکستان کا فخر ہیں۔۔۔!!!
مجھ سے سویا نہیں جاتا،وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے،بہت کوشش کی کے باقی بچوں کو بھی بچالوں،لیکن آگ تیز تھی، باقی بچوں کو نہیں بچا سکی،میں نے کوئی احسان نہیں کیا، اپنی ڈیوٹی کی، نرس رضیہ نورین
🚨 اسلام آباد: PIMS ہسپتال کی نرسری میں آگ کیسے لگی، 14 بچوں کی جان کیسے گئی؟ CCTV سامنے آ گئی!
🔥 51 سیکنڈ کی CCTV فوٹیج نے سب کچھ کھول کر رکھ دیا! فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کی شدت انتہائی تیز تھی،اگر فائر فائٹنگ سسٹم موجود ہو، عملہ تربیت یافتہ ہو اور آگ ابتدائی مرحلے میں ہو تو 51 سیکنڈ میں آگ کو قابو کرنے کی کوشش شروع کرنا اور اسے محدود کرنا بالکل ممکن تھا۔
ایسے میں نرس صرف 1 بچے کی جان بچانے میں کامیاب ہوئی، اگر حاضر دماغی اور بروقت بچوں کو باہر نکالا جاتا تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھی، اپکی نظر میں 14 بچوں کو 51 سیکنڈ کی شدید اگ میں بچایا جا سکتا تھا؟؟
وہ بات جو ڈاکٹر اسرار احمد کئی دہائیاں پہلے بتلا چُکے تھے آج وہ بات سو فیصد درست ثابت ہوچکی ہے اور اس وقت چاروں طرف سے سسرائیلی لابی اپنے اثاثے عمران نیازی کو ریسکیو کرنے کیلئے میدان میں اتر چکی ہے
ڈاکٹر صاحب آپکی یہ پیشنگوئی بھی درست ثابت ہوئی
شازیہ نے ایثار رانا کو شرم دلائی یا تو صحافت کر لیں یا عشق عمران کیونکہ صحافی کو ہر کسی کے لئے آنکھیں کھولنا پڑتی ہے۔
شازیہ ذیشا
ایثار رانا اپ اپنے تجربات لوگوں کو بتانے نہیں آۓ صحافت کرنے آۓ ہیں کریں اپنے تجربات اپنی آل اولاد کو دیں عوام کو صحافت کر کے دکھائیں۔
محترمہ بھول گئیں شیشے کے گھر میں بیٹھ پتھر نہیں مارتے جب اختیار ولی نے بات شروع کی سبزی منڈی کی تو کہا یہاں بات ہسپتال کی ہورہی ہے جیسے ہی اختیار نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں آکسیجن ختم ہونے پر 35 بچوں کی ہلاکت یاد کرائی تو محترمہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور شو چھوڑ کے بھاگ گئی۔