@mansoorlaughs بالکل یہ ششکے والدین پر اضافی بوجھ ہیں پتہ نہیں کس طرح سے وہ اسکول کی فیس مینج کرتے ہیں پھر اوپر سے یہ کلرز ڈے کبھی مزدور ڈے کبھی ٹیچرز ڈے کے نام پر والدین کی جیب پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے ۔والدین نہ کریں تو بچے احساس کمتری کا شکار
بہت سی ایسی چیزیں تھیں جنہیں میں چھوڑنا چاہتی تھی،
مگر کوشش کے باوجود میرے لیے انہیں چھوڑنا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ یہ جائز نہیں،
معلوم تھا کہ اللہ کو پسند نہیں،
پھر بھی میں خود کو روک نہیں پاتی تھی۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ میں TikTok کھولتی،
سامنے کوئی ایسی ویڈیو آ جاتی جس میں موسیقی ہوتی،
دل کہتا آگے بڑھ جاؤ،
مگر میں وہ ویڈیو پوری دیکھ لیتی۔
پھر دل میں عجیب سی بے چینی ہوتی۔
میں خود سے پوچھتی:
جب مجھے معلوم ہے کہ یہ غلط ہے تو میں اسے چھوڑ کیوں نہیں پا رہی؟
مجھے اس بات سے بہت تکلیف ہوتی تھی کہ میں اپنے ہی رب کو ناراض کر رہی ہوں۔
پھر میں نے قرآن اور تفسیر کی کلاس میں داخلہ لیا۔
اور الحمدللہ…
جو سکون اور تبدیلی میں نے اپنے اندر محسوس کی،
میں خود حیران رہ گئی۔
آہستہ آہستہ میری زندگی میں ہر چیز سے پہلے
اللہ کی رضا شامل ہونے لگی۔
پہلے میں قرآن مجید صرف پڑھتی تھی،
اب اسے سمجھنے اور اس میں تدبر کرنے لگی۔
پہلے چھوٹی چھوٹی باتیں مجھے بہت پریشان کر دیتی تھیں،
اب دل میں ایک بات رہتی ہے:
میرا رب میرے ساتھ ہے۔
اور یہی قرآن کی برکت ہے۔
میں سوچتی ہوں،
ہم اپنی زندگی میں اتنے بے چین کیوں ہیں؟
ہر وقت دل میں بے سکونی کیوں رہتی ہے؟
شاید اس لیے کہ ہم نے قرآن کو اپنی زندگی میں صرف پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔
ہم اسے پڑھتے ہیں،
مگر اس پر رک کر سوچتے نہیں۔
ہم اس کی آیات سنتے ہیں،
مگر یہ نہیں سوچتے کہ
اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔"
سورۃ الرعد، 13:28
پھر ہم سکون کہاں تلاش کر رہے ہیں؟
کبھی گانوں میں،
کبھی سوشل میڈیا میں،
کبھی لوگوں کی توجہ میں،
اور کبھی ایسی چیزوں میں جو ہمیں چند لمحوں کے لیے مصروف تو کر دیتی ہیں،
مگر ہمارے دل کو سکون نہیں دیتیں۔
اور کبھی ہم صرف خود تک نہیں رکتے،
اپنی Story پر بھی وہی چیزیں لگا کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
ذرا سوچیں…
جس رب کے سامنے ایک دن اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے،
کیا ہمیں اس دن کا خوف نہیں؟
صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کے آلات کو حلال سمجھ لیں گے۔
صحیح البخاری، 5590
تو پھر ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
چند لمحوں کی تفریح کے لیے میں اپنی آخرت میں کیا جمع کر رہی ہوں؟
آج عجیب بات ہے کہ حرام چیز کو اپنی Story پر لگاتے ہوئے ہمیں شرم محسوس نہیں ہوتی،
لیکن قرآن کی آیت لگاتے ہوئے ہم سوچتے ہیں:
لوگ کیا کہیں گے؟
کیوں؟
کیا میری Story قرآن کی کسی آیت سے خوبصورت نہیں ہو سکتی؟
کیا میرے الفاظ کسی پریشان دل کو اللہ کے قریب نہیں لے جا سکتے؟
کیا میری ایک آیت کسی ایسی لڑکی کے دل کو سکون نہیں دے سکتی جو اندر ہی اندر کسی تکلیف سے گزر رہی ہو؟
اس لیے میں نے خود سے ایک بات سیکھی ہے:
گناہ چھوڑنے کے لیے صرف خود سے لڑتے رہنا کافی نہیں،
اپنے دل کو قرآن کے قریب کرنا بھی ضروری ہے۔
ایک گانا لگانے کے بجائے قرآن کی کوئی آیت اپنی Story پر لگا کر دیکھیں۔
شاید آپ کو معلوم بھی نہ ہو،
مگر آپ کی وہ ایک چھوٹی سی کوشش کسی کے دل کو اللہ کی طرف موڑ دے۔
قرآن کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں۔
اسے سمجھیں،
اس پر تدبر کریں،
اور اسے اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ جب قرآن دل میں اترتا ہے تو عورت صرف اپنی عادتیں نہیں بدلتی…
اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں،
اس کی سوچ بدل جاتی ہے،
اس کا دل بدل جاتا ہے،
اور پھر اللہ کی رضا اس کی سب سے بڑی خواہش بننے لگتی ہے۔
اور شاید یہی وہ سکون ہے
جسے ہم دنیا بھر میں تلاش کرتی پھرتی ہیں…
حالانکہ وہ ہمارے رب کی کتاب میں موجود ہے۔
کرک کے لوگوں سے گزارش ہے کہ کل لانگ مارچ کے شرکا کا شاندار استقبال کریں ان کے کھانے پینے اور دوائیوں کا انتظام کریں ۔۔۔سی ایم صاحب نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اپ سب کو اپنی مدد اپ کے تحت شرکاء کی خدمت کرنی پڑے گی