okay memefi fam dont need to wait anymore
here's the results for today's giveaway:
https://t.co/oUDgACAIhK
are you still playing? you'd better do 😎
How to get in? 🚀
⭐️Spin the Wheel
🔷 Hit the Ether icons
💯 Fill the Ether progress bar
💥JOIN: https://t.co/yxQJlFxgSO
Top up for cheaper in the Top Up Bot:
🔝TOP UP: https://t.co/F6zWiA6xoc
کل گنڈاپور نے جس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی آج بلکل اس کے الٹ ہوا ہے ۔ عمران خان سے ملاقات پر پابندی ، ورکرز پر مزید کریک ڈاؤن ، اعظم سواتی ، علیمہ ، عظمیٰ خان سمیت دیگر رہنما کے جسمانی ریمانڈ کا منظور ہونا اچھی خبر نہیں
چوہدری الیکشن میں کھڑا ہوا تو اس نے سٹیج پر مراثی کو بلا کر کہا کہ میری تعریفیں کرو۔
مراثی نے کہا: چوہدری صاحب کے والد نے ایک دفعہ ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے چار بندے مار دیئے
لوگوں نے پوچھا کہ ہوائی فائرنگ سے بندے کیسے مر سکتے ہیں؟
مراثی نے جواب دیا: وڈے چوہدری صاب کُبے (کبڑے) تھے ۔ ۔ ۔
اگر پاک فوج سوشل میڈیا کا فتنہ ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اگلے ہی دن اسرائیل پر حملہ کردے گی - میجر ریٹائرڈ میسم مرزا
آپ ہماری فوجی اہلکاروں کی دماغی استعداد اور سوچ کا اندازہ اس مراثی کی باتوں سے لگا سکتے ہیں!!!
میرا سورس جاننے کی بجائے یا مجھے گالیاں دینے کی بجائے حکومت اور پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے مطالبہ کریں کہ عمران خان کی زندگی کے حوالے سے فوری طور پر قوم کی تسلی کروائی جائے۔ علیمہ خان ہمیں خود آکر بتائے یا عمران خان کی لائیو ویڈیو دکھائی جائے۔
اس سے کم پر ہم راضی نہیں ہوں گے۔
ایک خوفناک خبر ملی ہے جس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ جس دن عمران خان کی علیمہ خان اور اپنے وکلا سے آخری ملاقات ہوئی، اسی رات عمران خان کو کھانے میں زہر دے دیا گیا تھا۔
ہمیں ہر حال میں عمران خان کی زندگی کا ثبوت چاہئیے اور اس کیلئے یا تو علیمہ خان کی اپنے بھائی سے ملاقات کروائی جائے اور پھر اس کے ذریعے تصدیق ہو یا پھر عمران خان کی جیل سے ویڈیو ریلیز کی جائے۔
یہ بہت اہم ڈویلپمنٹ ہے اور اگر قوم نے ذرا سی بھی غفلت دکھائی تو یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا، ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ!!!
میری اطلاعات کے مطابق آج نعیم پنجوتھہ اور دوسرے وکلا کو عمران خان سے ملاقات کے نام پر پانچ سے چھ گھنٹے انتظار کروایا جائے گا اور پھر بغیر ملاقات کے واپس بھیج دیا جائے گا۔
اگر جمعرات کو بھی ملاقات نہ ہونے دی گئی تو جمعہ کا روز سب کو اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوجانا چاہئیے۔
یہ معاملہ ایسا نہیں کہ اسے اپنی خوش گمانی کے سہارے چھوڑ کر نظرانداز کردیا جائے۔
عاصم منیر کو بھی نظر آرہا تھا کہ (غیر) آئینی ترمیم شاید ممکن نہ ہوسکے۔ اور اگر یہ ترمیم ہوگئی اور قاضی کو آئینی عدالت کا چیف لگا دیا گیا تو اس کے پاس ضرورت سے زیادہ طاقت آجائے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ بھی جسٹس سجاد علی شاہ یا افتخار چوہدری کی طرح آنکھیں دکھانا شروع کردے۔
چنانچہ ترمیم چاہے ہو یا نہ ہو، یہ آپشن ذہن میں رکھی گئی کہ قاضی اکتوبر کے بعد ریٹائرڈ کردیا جائے۔
اگر اگر یہ بات قاضی کو پہلے کہہ دی جاتی ہے تو چونکہ وہ نفسیاتی طور پر ایک غیرمتوازن شخصیت کا حامل ہے، عین ممکن ہے کہ وہ فرسٹریشن میں کوئی انتہائی اقدام کرگزرے۔
اس رسک کو مینیج کرنے کیلئے دو اقدامات کئے گئے:
پہلا اقدام یہ کیا کہ چابی والے لنگوروں کے ذریعے توہین مذہب والی ججمنٹ کو لے کر احتجاج کروایا گیا جس سے قاضی کی شلوار گیلی ہوگئی کیونکہ اس ملک میں یہ بات اتنی حساس ہے کہ کوئی بھی اسے پھڑکا سکتا تھا۔
دوسرا اقدام مولانا فضل الرحمان کے ذریعے ترمیم کی مخالفت کروا دی گئی۔ قاضی اگر چاہتا بھی تو مولانا کو بلیک میل نہیں کرسکتا تھا کیونکہ مولانا مذہب کارڈ کے ذریعے قاضی کے نیچے سے بیک وقت موتر نقوی اور فیصل گانڈیا نکلوا سکتا ہے۔
قاضی کی مزید ہوا خراب کرنے کیلئے بیکری والا واقعہ کروایا گیا اور اس کی ویڈیو پبلک کردی گئی۔
اب قاضی سردیوں کی شام آنے سے قبل ہی اداس پھرنا شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور اپنے نام کروا گیا، نہ ایکسٹینشن ملی، نہ ہی نیا عہدہ مل سکا۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف بغض رکھنے پر قابل نفرت ٹھہرا، عالمی سطح پر بدنام ہوا، اور جاتے جاتے مذہبی انتہاپسندوں کو بھی اپنے خلاف کرگیا۔
قاضی کا قصہ تمام ہوا۔ اب اسے شاید تاریخ کا گٹر بھی اپنے اندر ڈوبنے کی جگہ نہ دے!!!
بلوچستان میں اتنا بڑا حملہ ہوا، 23 پنجابی مارے گئے، فورسز کے اہلکار شہید ہوئے، محسن نقوی نے احمقانہ بیان دیا بی ایل اے ایک ایس ایچ او کی مار ہے، اب اسی بی ایل اے نے چینی شہریوں پر حملہ کر دیا۔ محسن نقوی قذافی اسٹیڈیم کا جائزہ لے رہے ہیں، نااہلی پر استعفیٰ لینا چاہیے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام
اس وقت سارا لندن پلان پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ جس کے مطابق تحریک انصاف کو کرش کرنا، نواز شریف کے کیس معاف کروانا اور عمران خان کو جیل میں ڈالا جانا تھا۔ اس پلان کے تحت قاضی فائز عیسیٰ جو کہ ایمپائر کی جگہ کھلاڑی بن کر کھیل رہا ہے۔ وہ اس پلان کا مرکزی کردار بنا ہوا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ ہم پر ظلم کو تحفظ دے رہا ہے۔ اس نے ہمارے بنیادی حقوق، الیکشن لیول پلینگ فیلڈ، خواتین پر ظلم اور ہمارے ساتھ ہوئے ظلم پر مبنی کیس کھولنے کی بجائے ہر وہ کیس سن رہا ہے جس میں ہماری سیاسی شناخت کو مسخ کیا جا سکے۔ قاضی کا کردار جسٹس منیر والا ہے، بلکہ یہ جسٹس منیر پرو میکس بن گیا ہے۔ کیونکہ اسکا ہر فیصلہ قانون کے خلاف اور ایکسٹنشن مافیا کے حق میں ہوتا ہے۔ ایکسٹنشن مافیا نے اپنی ایکسٹشن کیلیئے ملک کو تباہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور ہم ایکسٹینشن مافیا کا راستہ پر امن احتجاج سے روکیں گے۔ ایکسٹنشن مافیا جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین کا تشخص تباہ کرنے کیلئے ایک انتہائی گھناونی سازش کر کے آئین میں ترمیم کا منصوبہ بنا رہے ہیں میں ان تمام کو اس آئینی ترمیم سے باز رہنے کی تنبیہ کرتا ہوں۔
لندن پلان کے مطابق نواز شریف کو کپتان بنایا جانا تھا لیکن اس کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا اور تھرڈ ایمپائر خود ہی کپتان بن گیا اور نواز شریف کو بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
شہباز شریف آج کل بہت بیان بازی کر رہا ہے اور نو مئی جو ن لیگ کی انشورنس پالیسی ہے کا ذمہ دار بار بار ہمیں ٹھہرا رہا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ ہمت کرو اور ان سے پوچھو کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے، فوٹیج ملنے سے یہ کیس فورا حل ہو جائے گا۔
علی امین نے بڑا زبردست بیان دیا ہے میں اس کے بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ جب معاشرے سے انصاف اٹھ جاتا ہے تو پھر معاملہ انقلاب کی جانب جاتا ہے۔ اور جس طرح کی بے انصافی ہمارے ساتھ ہو رہی ہے اب انقلاب ہی آئے گا۔ ہماری خواتین جیلوں میں پڑی ہیں لیکن کوئی ان کے کیسز نہیں سن رہا۔ اسی سالہ بزرگ خاتون پر دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا لیکن سسٹم میں کسی کو تکلیف نہیں ہوئی ۔ہم نے ہمیشہ پر امن احتجاج کیا، ہمیشہ قانون کا احترام کیا لیکن یہ قانون اب ہمیں تحفظ دینے سے قاصر ہے۔
میں راولپنڈی کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس طرح انہوں نے فسطائیت کا مقابلہ کیا، جہاں ان پر آنسو گیس، شیلنگ اور سیدھی گولیاں ماری گئیں لیکن راولپنڈی کی عوام نے زبردست مقابلہ کیا۔
میں خیبر پختونخواہ کی عوام اور علی امین گنڈاپور کو بھی سراہتا ہوں جس طرح انہوں نے بڑی تعداد میں نکل کر حقیقی آزادی کیلیے جدوجہد کی اور علی امین کی سربراہی میں راولپنڈی کی جانب مارچ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ علی امین نے خیبر پختونخواہ کی عوام کو جگانے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے میرے موقف کو عوام تک پہنچایا۔
جمہوریت کا مطلب آزادی ہے، جمہوریت جب آتی ہے تو قانون کی حکمرانی اور احتساب ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی سے انصاف قائم ہوتا ہے اور عوام کے پاس احتساب کا اختیار ہوتا ہے جو وہ ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران چن کر کرتے ہیں۔ جمہوریت حقیقی آزادی ہے اور ہم حقیقی آزادی کے حصول تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، میں اور میری بیوی پندرہ ماہ سے جیل میں ہیں، کسی کے دل میں جیل جانے کا ڈر نہیں ہونا چاہئے، جیل مجھے نہیں توڑ سکی تو آپ نے بھی گھبرانا نہیں ہے۔
اس وقت عدلیہ کو قابو کرنے کیلئے سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے ججز، سپریم کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں لیکن قاضی لندن پلان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ہی ادارے کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو ختم اور ہائی کورٹ کو سیشن کورٹ بنانا چاہتے ہیں۔ جنہیں یہ ان عدالتوں کی طرح کنٹرول کر سکیں جیسی عدالتیں یہاں جیل میں مجھے اور میری بیوی کو پانچ دن میں تین سزائیں دے چکی ہیں۔ ہم عدلیہ کا دفاع کریں گے اور اپنی آزادی کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔
عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کیلئے ہم دو اکتوبر کو میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور میں بھرپور احتجاج کریں گے۔ اور پانچ اکتوبر کو لاہور میں مینار پاکستان پر بھی احتجاج کریں گے۔ جبکہ اسلام آباد کیلئے میں نے علی امین گنڈاپور کو چار اکتوبر بروز جمعہ ڈی چوک میں احتجا ج کی کال دینے کا پیغام دیا ہے۔
پاکستان زندہ باد