موصوف نے سرکلر ریزننگ نامی مغالطے کا ذکر تو کر دیا، لیکن یہ ذکر کرتے ہوئے وہ جس مغالطے کا خود ارتکاب کر رہے ہیں، اس کا نام نہیں بتایا۔ اسے “سٹرا مین” کہتے ہیں۔
سٹرا مین سے مراد یہ ہے کہ مخالف فریق کی طرف ایک ایسا کمزور استدلال منسوب کر دیا جائے جو اس نے پیش ہی نہ کیا ہو، یا اس کے اصل مؤقف کو توڑ مروڑ کر ایسی شکل دے دی جائے جسے رد کرنا آسان ہو۔
اگر کوئی شخص واقعی یہ کہے کہ حضرت محمد ﷺ صرف اس لیے اللہ کے رسول ہیں کہ قرآن میں ایسا لکھا ہے، اور قرآن صرف ��س لیے اللہ کا کلام ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے، تو یقیناً یہ سرکلر ریزننگ ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی علمی روایت اور دلائل النبوۃ کے پورے لٹریچر میں نبوت کی دلیل صرف یہی پیش کی گئی ہے؟ کیا سیرت، کردار، پیش گوئیاں، معجزات، تاریخی شہادتیں، قرآن کا متن، اس کا لسانی اعجاز، اس کی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺ کی پوری دعوت کسی استدلال کا حصہ نہیں؟
پھر موصوف فرماتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، لہٰذا یہ بھی سرکلر ریزننگ ہے۔ یہاں بھی دو الگ باتوں کو خلط ملط کیا جا رہا ہے۔ محض قرآنی آیت کو قرآن کے الہامی ہونے کی دلیل بنانا ایک الگ بحث ہے، لیکن قرآن کا چودہ سو سال سے عملاً محفوظ چلے آنا ایک تاریخی اور تجربی حقیقت ہے۔ ایک کتاب اپنے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے، پھر صدیاں گزرنے، سلطنتیں بدلنے، جنگوں، فتنوں اور اس کے خلاف تمام تر کوششوں کے باوجود وہ غیر معمولی طور پر محفوظ رہتی ہے، تو اس خارجی اور تاریخی حقیقت کا جائزہ لینا سرکلر ریزننگ نہیں کہلاتا۔ یہ دعوے اور قابل مشاہدہ تاریخی نتیجے کے درمیان مطابقت کا مطالعہ ہے۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ موصوف خاصے صاحب مطالعہ انسان ہیں۔ لیکن میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ سیکولر طبقے کے جاہلوں اور نام نہاد علما میں بسا اوقات صرف لفظ “جاہل” اور “عالم” ہی کا فرق رہ جاتا ہے، علمی کرتوت دونوں کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
البتہ ان کی ایک بات نہایت خوش آئند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور قرآن کے الہامی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اس عقیدے کی دلیل وہ اس سرکلر استدلال سے اخذ نہیں کرتے�� تو پھر ہم ان سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے حق میں اپنے پانچ مضبوط ترین دلائل اور قرآن کے الہامی ہونے کے حق میں اپنے پانچ مضبوط ترین دلائل ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
اس سے ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہوگا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ موصوف جس گہری علمیت کے مقام سے دوسروں کے استدلال کا محاکمہ فرما رہے ہیں، اس مقام پر ان کے اپنے دلائل کیا ہیں۔
محب وطن شہری وقاص کی تحریک انصاف کے 27 تاریخ کے لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، اٹارنی جنرل 10 ستمبر کو طلب۔۔۔قرون اولی ادوار کے فوری انصاف کی یاد تازہ کرادی بھائی۔ ایمان تازہ ہوگیا۔
سبحان اللہ!