ابھی تک علیمہ خان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا نہ ڈرائیور سے رابطہ ہو پارہا ،علیمہ خان اس وقت تمام مقدمات میں ضمانت پر تھی نہ تو ان کو کوئی سزا ہوئی نہ کسی کالے قانون کے تحت انہیں اٹھایا جا سکتا ، پہلے عمران خان صاحب کو ناحق قید کیا گیا، ان کی اہلیہ کو دیگر سیاسی قائدین، ورکرز کو بہنوں پہ مقدمات درج کیے گئے۔
آج ان کو اغوا کرنا جس کی ہم نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وکلا ٹیم، آئی ایل ایف، تمام دوستوں کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، جیل سمیت تمام جگہوں پہ فالو کریں ،سمجھ آ رہا ہے کہ 27 کا خوف ان پر طاری ہے۔ حقیقی آزادی کی منزل میں رکاوٹیں راستہ نہیں روک سکتی،
مریم جس سرکاری جہاز میں گئی کیا اس جہاز کی چیکنگ ہوتی ہے کہ اس میں کیا کچھ لے جایا گیا؟ جیسے ائیرپورٹس پر مسافروں کو چیک کیا جاتا ہے کہ وہ کون سی اشیاء کیری کر رہے؟ جیسے ایان علی کو چیک کیا گیا تو اس کے پاس مطلوبہ مقدار سے زیادہ کرنسی تھی ۔ کسی نے سوال کیا حکومت سے؟
علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد حکومت نے وہ محاز کھول دیا ہے جو شائد برسوں تک بند ناں کیا جا سکے، پاکستان میں سیاست کو اتنا زیادہ مشکل اور تکلیف دہ بنا دیا گیا ہے کہ اگر آپ کے گھر کا ایک فرد سیاست میں ہوگا اور وہ پارٹی زیر عتاب ہوگی تو اس سیاست دان کے بہن،بھائیوں، بیوی بچوں کو اس کا حساب دینا ہوگا، مجھے ان سیاسی جماعتوں کا مستقبل انتہائی خوفناک دہکھائی دے رہا ہے جو اس وقت حکومت میں ہیں،،
سیاسی انتقام میں اندھی ریاست کی بدترین فسطائیت جاری،چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری جس کا واحد جُرم اپنے بھائی کے لیے آواز اٹھانا ہے ۔
ایک غیر سیاسی خاتون جو صرف اپنے بھائی کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی ،قانونی و انسانی بنیادوں پر حمايت اور ان کے ساتھ جاری انسانیت سوز سلوک کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، اس کو تھری ایم پی او کے کالے قانون کے تحت پابند سلاسل کرنا قابل مزمت ہے۔
خواتین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا موجودہ قابض ٹولہ اخلاقیات کی ہر حد سے گر چکا ہے۔ریاستی جبر سے حق کو دبایا نہیں جا سکتا۔
ہاں جی؟ اب علیمہ خان سے بھی ڈر لگنا شروع ہو گیا ہے؟ کمال کے بہادر حکمران ہیں بھئی۔
انہوں نے مردوں سے کیا مقابلہ کرنا ہے جہاں سیاسی حریف کی بہن کو ہی اغوا کرنے پر آ گئے ہیں۔ کمال ہے۔
پاکستانیوں پہ ظلم و جبر پہلے ڈکٹیٹر جنرل ایوب کے سیاہ دور سے شروع ہوا، جنرل ضیاء کے دور میں بھی بدترین ظلم ہوئے، جنرل مشرف نے بھی اخیر کی لیکن موجودہ دور ظلم و ستم کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ پہلے عدالتیں تھوڑا بہت رلیف دے دیتی تھیں اب تو ان کا بھی کام تمام کردیا گیا ہے۔
علیمہ خان صاحبہ کی گرفتاری کی اطلاعات : اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کو بلیک میل کر رہی ہے کیونکہ پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ؛ اس لیئے اب عمران خان صاب کی بہنوں کو ٹارگٹ کر کے بلیک میل کیا جا رہا ہے : انہتائی گھٹیا حرکت
علیمہ خان کی گرفتاری انتہائی شرمناک فعل ہے۔ اس بار تو حکومت بہت زیادہ خوف زدہ ہے لانگ مارچ سے۔۔ تاریخ کا بد تریں کریک ڈاؤن ہو رہا ہے۔ ۔ کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
”ملک کا وزیر داخلہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر انتشار کے الزامات لگاتا ہے، اس سے ثبوت مانگے جائیں تو آگے سے سوشل میڈیا کا حوالہ دے رہا ہے۔ کیا کوئی ریاستی عہدیدار ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کر سکتا ہے؟ تحریک انصاف کو سیدھی دھمکیاں لگائی جا رہی ہیں کہ اگر احتجاج کیا تو گولی مار دیں گے۔ ہارڈ اسٹیٹ کا نام لے کر کیا سب جائز ہو جاتا ہے ؟ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے خود شہر بند کر رکھے ہیں۔“ پارس جہانزیب
@Parasjahanzaib1
#ستمبر27_لانگ_مارچ_بالقسط
“لاہور جیسے شہر میں ستر سالہ بزرگ خاتون سے نقص امن کو خطرہ، لہذا 30 دن کے لیے جیل
مگر
حفاظت کا بیڑہ حرمین شریفین کا اٹھایا ہے”
۔۔
ایسی منافقت تو یہودی بھی کرتے ہوئے سو بار شرمائیں گے
اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا، کنٹینرز کو ڈبل کر کے ویلڈنگ کردی گئی، لانگ مارچ سے پہلے لانگ مارچ کا آغاز ہو گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے Cheap Justice سرفراز ڈوگر کا حکم ہے کہ کسی کو روڈ بند کرنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
#عہدوفا_27ستمبر
وزیر داخلہ صاحب، سرکاری وسائل سے عوامی مارچ کو،عوام کو حق احتجاج کو روکنا غلط ہے غیر قانونی ہے ،
وزیر داخلہ صاحب، کیا اسلام آباد حکمرانوں کا ذاتی جاگیر ہے کہ عوام کو یہاں احتجاج کا حق نہیں۔
جب ٹرمپ کیلئے کئی بار کئی دنوں تک اسلام آباد کو بند کیا جاسکتا ہے تو پاکستان کے عوام کو بھی اسلام آباد میں پرامن احتجاج کا حق ہے۔
وزیر داخلہ پی ٹی آئی مارچ پر طاقت کے استعمال کے دھمکیوں کے بجائے ان سے مذاکرات کریں اور اور ان کو پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے کا موقع دیں۔
سندھ میں سیلاب نہیں آیا شدید بارشیں بھی نہیں ہوئیں مگر 77 کروڑ روپے فلڈ فائٹنگ کے نام پر مانگ لئے گئے محکمہ آبپاشی کی رقم کےلئے سمری بھجوائی گئی تکنیکی کمیٹی ایک ہی روز میں قائم ہوئی کاموں کی تصدیق کی اور سفارش کردی پیسے جاری کردیں،دیکھتے ہیں سی ایم سندھ مراد علی شاہ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
@MuradAliShahPPP
تحریکِ انصاف کا خوف حکومت کے اعصاب پر اس قدر سوار ہے کہ پنجاب میں جبر کی ہر حد پار کی جا رہی ہے۔
میاں محمود الرشید کو تین سو سال کی سزائیں بھی کافی نہ ہوئیں۔ سہیل آفریدی ان کے گھر چائے پینے آئیں تو پولیس پہنچ گئی، مرد اہلکار گھروں میں گھس کر پردہ دار خواتین کو ہراساں کر رہے ہیں۔ یہ ہے میڈم مریم کی "Red Line"۔
اقتدار کے زعم میں یہ بھول بیٹھے ہیں کہ نہ اقتدار ہمیشہ رہتا ہے، نہ ظلم بے حساب۔ آج جو ہاتھ جبر کے لیے اٹھ رہے ہیں، کل انہیں ہر زیادتی، ہر ناانصافی اور ہر ظلم کا حساب عوام کے سامنے بھی دینا ہوگا اور اللہ کی عدالت میں بھی
لاہور میں اسکول سے گھر لوٹتے ہوئے پانچویں جماعت کے ایک بچے کی سائیکل واپڈا ٹاؤن کے ایچ بلاک میں ایک گاڑی سے ٹکرا گئی۔ گھر والوں نے سوچا تھا کہ معمولی حادثے کے بعد معاملہ قانون کے مطابق حل ہو جائے گا، مگر کہانی نے ایک مختلف رخ اختیار کر لیا۔
اہلخانہ کے مطابق گاڑی ڈرائیور کے خلاف کارروائی کے بجائے ستوکتلہ پولیس بچے کو ہی گھر سے اٹھا کر لے گئی۔ خاندان کا الزام ہے کہ بچے کو سہولت دینے کے بجائے گاڑی ڈرائیور کے حق میں معاملہ ختم کرنے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ گاڑی ڈرائیور پولیس افسر کا دوست ہے۔
سماء نیوز سے @FahadReportsPK
کی خبر
@digopslahore