"Absolutely no one can close the door that Allah has decided to open. Have faith, in the right time, you will be blessed with it, Little more sabr. Soon you will see beautiful blessings."
وجاہت سعید خان جیسے یوٹیوبرز ڈالرز کی بھوک میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ زندہ عمران خان کو مردہ ثابت کر کے ویوز اور پیسہ کما رہے ہیں۔ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ آج سامنے یہ آیا ہے کہ آج راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے ایک ورکر نے سیکیورٹی فورسسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے ہیں ۔یاد رکھیں خون کا ذمہ دار صرف وہ ہاتھ توہے جو بندوق چلاتا ہے مگر وہ زبان بھی ہے جو نفرت اور جھوٹ بیچتی ہے۔ڈالرز کے لیے وطن کا سودا کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔
وجاہت سعید خان کی جعلی خبر نے ایک زندگی چھین لی!
آج راولپنڈی مال روڈ پر اس یوتھیا نے فوجی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ شروع کردی جبکہ یہ یوتھیا بھی مارا گیا۔
انہی جعلی خبروں نے 9 مئی کروایا۔
صرف جعلی خبروں سے ذہن فرائی ہو رہے ہیں۔
سعودی عرب میں جام پور سے تعلق رکھنے والا نوجوان فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کو دھمکیاں دینے پر پابند سلاسل ہوگیا
راولپنڈی میں ایک نوجوان سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے جان کی بازی ہار گیا
جبکہ اس کلٹ اور پارٹی کے مُکھیا کی اپنی اولاد لندن میں عیاشی کررہی ہے
یہ رہا آج راولپنڈی مال روڈ میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرنے والے کا ٹک ٹاک اکاونٹ!
مشعال یوسفزئی، صنم جاوید، علی امین گنڈاپور، اپنے بچے کو بلیو پاسپورٹ پر فرار کروانے والے اقبال آفریدی سب کے ساتھ ویڈیوز موجود ہیں۔
ان نوجوانوں کا ذہن گندا کرنے میں عمران ریاض جیسوں کا کردار ہے۔
🚨 بریکنگ نیوز
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز (GHQ) راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے مسلح دھشت گرد کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے مال روڈ راولپنڈی میں فائرنگ کرنے والے انتشاری ملزم کو ہلاک کر دیا۔ کراس فائرنگ میں ایک آرمی جوان زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ہلاک ملزم کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ پی ٹی آئی کا سرگرم رکن تھا اور پارٹی کی متعدد ریلیوں و احتجاجوں میں فعال رہا۔ اس کے لیڈرشپ اور ارکان اسمبلی کے ساتھ رابطے بھی سامنے آئے ہیں۔
ملزم کے قبضے سے پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد کی گئیں۔
#پی_ٹی_آئی_دھشتگرد_ناکام
راولپنڈی مال روڈ پر دن دیہاڑے سکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کرنے والے شخص کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور یہ واقعہ 9 مئی کا تسلسل ہے جس میں عمران خان کے حمایتوں نے مسلح جتھہ بندی ذریعے ریاست پاکستان پر حملہ کیا
Do this joker and many like him care if they will ever again be able to return to Pk absent a very unlikely not regime change but change of thinking about people like them? Or is the originally ISPR and now YouTube and PTI donor money the only thing that matters, they live for?
He claims that senior military officers told him they believe, but cannot confirm that Imran Khan has already died in jail. If this is false or just a clickbait, this man should be held accountable for spreading rumours that could create chaos in the country’s already chaotic political situation.
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، مال روڈ راولپنڈی پر فائرنگ کرنے والا ملزم ہلاک۔ ہلاک ملزم کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی، جو پی ٹی آئی کا سرگرم رکن تھا؛ ملزم کے قبضے سے پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات بھی برآمد، مزید تحقیقات جاری: سیکیورٹی ذرائع
مال روڈ میں سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے تحریک انصاف کے یوتھیا کی مزید ویڈیوز منظر عام پر آ گئیں
فون کال ریکارڈ سے پتہ چل رہا ہے کہ خیبر ضلع سے تعلق رکھنے والا یہ یوتھیا عبدالغنی آفریدی ایم پی اے سے دس فون کال کرچکا ہے جبکہ سال 2024 میں سہیل آفریدی سے بھی رابطے میں تھا
جب تک ۹ مئ کے ماسٹر مائنڈ کو پھائے نہیں لگاؤ گے یہ پین چود مردود دہشت گرد اسی طرح حملے کرتے رہیں گے 🤷♂️
ان کے لیڈر اور انکو تلف کرنا ہو گا چاہے کوئ بھی قیمت چکانا پڑے ✊
طیب بلوچ تجھے سلام!
علیمہ خان بڑی خوشی سے بتا رہی تھی کہ جیل میں عمران خان اسلامی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔
سوال آ گیا،
"اگر عمران خان کی آنکھوں میں مسلہ ہے تو وہ کتابیں کیسے پڑھتے ہیں؟"
پھر چراغوں میں روشنی نا رہی۔
چار لفظوں کے سوال سے چار ارب کا بیانیہ خاک میں ملا دیا۔
ہنگو میں 18 بے گناہ پولیس والوں کی لاشیں گریں لکی مروت میں 7 معصوم سویلین خون میں لت پت ہوں یا روز روز فوجیوں کے سینوں میں گولیاں اتریں 😭
لیکن صوبے کے"چیف ایگزیکٹو "کا صحافی کو جواب یہ ہے کہ ہم صرف عمران خان کی "آنکھ" اور "ملاقات " پر بات کریں گے
وجاہت ٹکلا جیسے یوٹیوبرز کی اشتعال انگیز اور گمراہ کن مہمات کا خمیازہ آج ایک نوجوان کی جان کی صورت میں سامنے آیا۔ پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے اور پورا خاندان بربادی کے لیے چھوڑ گیا۔
حکومت اب بھی خاموش رہی تو یہ خاموشی مزید سانحات کو جنم دے گی۔ ایسے چینلز فوری بین کیے جائیں، اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور صدیق جان سمیت اس نیٹ ورک کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔