بہترین شریکِ حیات دنیا کی سب سےبڑی دولت ہے🙂
اس دنیا میں اگر کوئی دولت سب سے قیمتی ہے تو وہ نہ سونا ہے، نہ چاندی، نہ نوکری ہے، نہ کاروبار بلکہ ایک بہترین شریکِ حیات ہے۔
مرد کے لئے نیک بیوی، اور عورت کے لئے اچھا شوہر۔ یہی وہ دولت ہےجو نہ دکان سے ملتی ہے، نہ قسمت ہر بار دیتی ہے
👇
بیٹی کی قسمت سے باپ راج کرتا ہے
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بیٹی باپ کی قسمت سے پیدا ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ باپ اپنی قسمت سے نہیں بلکہ بیٹی کی قسمت سے راج کرتا ہے۔
بیٹی صرف گھر کی رونق نہیں ہوتی بلکہ
👇
آنٹی چوسنی نے اپنے ساتھی اداکار کو تصویر بناتے وقت کہا ڈونٹ ٹچ می جو کہ اس کا حق ہے یقیناً ہر عورت کو ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے
لیکن جب تم نے سارا ڈرامہ ساتھ کر لیا اور اس میں یقیناً رومانٹک سین بھی ہونگے اور تصویر بنواتے وقت حاجن بننے کا مظاہرہ کر دیا ۔ خیر اس اداکار نے نہایت احسن طریقے سے معاملے کو درگزر کیا اور آگے بڑھ گیا پھر ساتھ چلتے ہوئے اسی آنٹی چوسنی نے بات کرتے ہوئے اس اداکار کے اسی بازو پر ٹچ کیا جس کو تصویر بناتے ہوئے اس نے کندھوں پر رکھنے سے منع کر دیا تھا ۔
تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ کیا مرد کا جسم تمہارے باپ کی ملکیت ہے جو جب چاہے ٹچ کر لو
جب تمہیں اسکا کیمرے کے سامنے کندھے پر ہاتھ رکھنا ٹچ کرنا لگتا ہے اور تم منع کر دیتی ہو تو پھر چلتے ہوتے دانت نکال کر اس کے بازو پر ٹچ کرنا تمہیں غلط نہیں لگا یہ دوغلی پالیسی کیوں بھئی ؟ یہ مردوں کے ٹچ کو غلط اور اپنے ٹچ کو جائز سمجھنا کونسے قانون میں لکھا ہے ، کیا یہ ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا ۔
میں تو یہ کہتا ہوں کہ عورتیں مردوں کو زیادہ ہراس کرتی ہیں جیسے ایک مرد کا کسی باپردہ خاتون کو تاڑنا ہراسمنٹ ہے اسی طرح عورتوں کا غیر مردوں کے سامنے بیہودہ اور نامناسب لباس پہن کے آنا بھی ہراسمنٹ ہی کہلاتی ہے ۔ مگر ایسی عورتوں کا مسلہ یہ ہے کہ انہیں انکی برائی بتاؤ تو آگے سے مرد کو آنکھیں نیچے رکھنے والا اسلام بتانا شروع کر دیتی ہیں اور جب مرد آگے سے پردے والا اسلام بتاتا ہے تو وہ انہیں پسند نہیں آتا ۔ جس طرح مردوں کو آنکھیں نیچے رکھنے کا حکم ہے اسی طرح عورت کو غیر مردوں سے نرم لہجے میں بات بھی کرنے سے منع کیا گیا ہے مگر یہ عورتیں ایسا لباس پہن کر نمودار ہوتی ہیں جس کے اوپر بھی لباس پہننے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انکی ہر جگہ بلکل واضح نظر آ رہی ہوتی ہے مگر انکو کہہ دو تو انہیں اس بات کی بڑی تکلیف ہوتی ہے اور آگے سے طعنہ دیتی ہیں کہ مردوں کو صرف عورتوں کا لباس ہی نظر آتا ہے ۔ مرد و عورت کو وہ والا اسلام پسند ہے جو انکے حق میں جاتا ہو اور جہاں انکو برائی سے روکا گیا ہو یا انکے ہاتھ باندھے گئے ہوں تو وہ ان دونوں کو پسند نہیں آتا ۔ یہی ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ ہے کہ ہم اپنی حدود میں رہنا ہی نہیں چاہتے ، اور پھر شکوہ بھی کرتے ہیں کہ عورتیں اچھی نہیں اور مرد اچھے نہیں ہم یہ نہیں سوچتے کہ انکو برا کون بنا رہا ہے ، ظاہری سی بات برائی کا انتخاب ہمارا اپنا ہوتا ہے مگر عورت مردوں پر الزام لگا کر بھاگتی ہے اور مرد عورتوں پر ۔
وارث بزمی
جس طرح آپ اپنی ماں بہن اور بیوی کے بارے میں کوئی غلط بات سننا یا دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں کی عزت کا بھی خیال رکھیں
ہمیشہ خود سے یہ سوال کریں کہ اگر میری بہن یا بیوی کسی نامحرم سے اسی طرح غیر ضروری باتیں کرے یا ایسا تعلق قائم کرے تو مجھے کیسا محسوس ہوگا؟
ایک باحیا اور باکردار انسان وہی ہوتا ہے جو دوسروں کی عزت اور حرمت کا بھی اتنا ہی خیال رکھے جتنا اپنی عزت کا کرتا ہے
ہر لڑکی کسی کی بیٹی بہن یا بیوی ہوتی ہے اس لیے اپنے رویوں اور تعلقات میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور لوگوں کی عزت کا احساس رکھیں
جو چیز آپ اپنے گھر والوں کے لیے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے گھر والوں کے لیے بھی پسند نہ کریں یہی انصاف اخلاق اور حقیقی شرافت کی نشانی ہے
اپنی قسمت سے نہیں، بلکہ اپنی بیٹی کی محبت، دعاؤں اور نیک بختی سے راج کرتا ہے۔ کیونکہ بیٹیاں صرف خاندان کا حصہ نہیں ہوتیں، وہ گھر کی برکت، دل کا سکون اور زندگی کی سب سے خوبصورت دعا ہوتی ہیں۔
زندگی میں بیٹی ہے تو اسے بوجھ نہیں بلکہ رب کی خاص نعمت سمجھیے۔ اس کی اچھی تربیت کیجیے، اسے عزت دیجیے، اس کے خوابوں کی حفاظت کیجیے اور اسے اعتماد دیجیے۔ یقیناً ایسی بیٹیاں اپنےوالدین کےلیےفخر بنتی ہیں اور ان کے نام کو عزت دیتی ہیں۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ باپ
@MariaBalochPK
👇
میں نے کتابوں میں عورت کا بناؤ سنگھار ، ناز و ادا اور نفاست پڑھی مگر حقیقی زندگی میں وہ جلتی ہوئی تحریر ، مرجھایا ہوا گلاب اور دھویں میں تحلیل ہوتی شمع ہے ، وہ جنم لیتی ہے ، عہد نبھاتی ہے اور مر جاتی ہے.
قدرت کی شان بیشک عظیم ہے۔
5 دن سے نہ ہنس سکتا تھا نہ لمبی سانس لے سکتا تھا کھانسی سے تکلیف ہوتا ، اکثر سوچتا کہ چھینک سے تو کلیجہ باہر کو آجائے گا۔ لیکن جب تک تکلیف برداشت سے باہر تھا ، چھینک بھی نہیں آیا ، آج طبیعت ٹھیک ہوئی تو کئی دنوں کے بعد چھینک کا بھی اپنا مزہ تھا۔