جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”
مقدمہ ابن خلدون سے...
الأدب العالمي
مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی
تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی
تیرے بھی صنم خانے میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی دونوں کے صنم فانی
وزارت خارجہ کو CSS جنرسلٹ امتحان کی بجائے اپنا سپیشلسٹ ہیومن ریسورس بھرتی کرنا چاہیے ۔ ایسے ہی آڈٹ، اکاؤنٹس ، ٹیکس کا سپیشلسٹ HR بھرتی ہونا چاہئے ۔
جبکہ پولیس ، انتظامیہ کو صوبے اور ریلوے کو CCI ماہرین کے ذریعہ بھرتی کرے۔ یہ جنرل بھرتی اداروں کو ناکام کر رہی ہے
ریپبلک پالیسی کی بیوروکریسی پر اہم کتاب "دی بیوروکریٹک کو" اب ہوم ڈلیوری کے لیے دستیاب ہے۔ یہ واحد کتاب ہے جو پاکستان میں بیوروکریسی کے کام کرنے کے اصل طریقہ کار کو درست انداز میں بیان کرتی ہے۔
ہر قاری کے لیے اس کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
ہوم ڈلیوری کے لیے مسٹر عمار علوی سے اس نمبر پر رابطہ کریں: 03362567031
اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے