لاکھوں کا مجمع، عوام کا سمندر، اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سچ ، لیکن غلام میڈیا خاموش !
پشین میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ملکی پالیسی سازوں کو وہ آئینے دکھائے ہیں کہ پورے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے بکاؤ میڈیا نے اس تاریخی جلسے پر مکمل بلیک آؤٹ کر دیا۔
2018ء انتخابات سے پہلے اے این پی کو پیغام پہنچایا گیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کر لے، جو ہم نے نہیں کی۔ ان انتخابات میں ہم سے 15 یا 16 نشستیں چھینی گئیں۔
فواد چوہدری صاحب!
میڈیا نے دکھایا یا نہیں، یہ الگ بحث ہے؛ مگر پشین نے اتنا ضرور ثابت کر دیا کہ عوام جب فیصلہ کر لیں تو ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان
مولانا فضل الرحمنٰ کا جلسہ نیشنل میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا گیا، سمجھ سے باہر ہے پاکستان کا کرنٹ افئیرز میڈیا اگر مین سٹریم ایونٹس بھی نہیں دکھا سکتا تو وہ Survive کیسے کرے گا، بہرحال JUI نے بہت بڑا پاور شو کیا ہے، سیاست کے قبرستان میں کچھ زور تو اٹھا ہے!!
“Muslim countries, including Pakistan, Saudi Arabia, Egypt, Turkiye, Iran, Indonesia, and Malaysia, should establish a strong Islamic bloc that could lead broader Asian cooperation,” the JUI-F chief suggested.
https://t.co/St3XPiKylG
پشین میں جمعیت علماء اسلام کے تاریخی جلسے اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خطاب کو میڈیا پر وہ جگہ نہ مل سکی جس کا یہ اجتماع مستحق تھا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوامی سمندر کو کیمروں سے نہیں، میدانوں سے ناپا جاتا ہے۔
پشین نے بتا دیا کہ جمعیت علماء اسلام ایک زندہ، متحرک اور عوامی قوت ہے
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان
مولانا فضل الرحمان نے پشین میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کہا
قوم کو تقسیم کرنے کی سیاست دراصل بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے کی،
ملک میں اس سوچ کو شکست دینا ہوگی جو اسٹیبلشمنٹ سے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو غدار قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مطمئن کرنا ضروری ہے اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے اسمبلیاں تشکیل دینا سیاسی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
جمعیت علماء اسلام مسلسل نشانے پر ہونے کے باوجود وہ چاروں صوبوں میں عوام کے درمیان جا رہے ہیں، جبکہ ان کے کارکنوں، علماء اور اساتذہ کو شہید کیا جا رہا ہے اور جماعت دہشت گردی کا سامنا کر رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے فرقہ وارانہ نفرتوں کی سیاست کو شکست دی ہے اور محبت، اتحاد اور قوموں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ پشتون اور بلوچ نفرت کی سیاست کی گئی اور نہ ہی مہاجر اور سندھی تعصبات کو ہوا دی گئی، بلکہ ایک متحد پاکستانی مسلمان قوم کا پیغام دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام ہر صوبے اور قومیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت اور علاقائیت کی نفرتوں کو مسترد کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی ملکی مفاد میں کوئی مثبت اقدام کیا گیا، جمعیت علماء اسلام نے اس کی حمایت کی۔ بھارت کی جانب سے حملے کے جواب میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی میں ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خطے میں جنگ نہیں چاہتے لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ملک کی پالیسیاں کون بناتا ہے اور آیا وہ پاکستان کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اس وقت سفارتی اور معاشی تنہائی کا شکار ہے۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشوں کے باعث نہ مشرق کی جانب تجارت ممکن ہے اور نہ مغرب کی طرف، جبکہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری پر بھی مطلوبہ سرگرمی دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کو ہر طرف سے محصور کر دینا کون سی حکمت عملی ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی کے مراکز افغانستان میں موجود ہیں تو ملک کے اندر بنوں اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے، لیکن پاکستان میں عوام ووٹ کسی کو دیتے ہیں اور نتائج کسی اور کے حق میں آ جاتے ہیں۔ انہوں نے انتخابی دھاندلی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایسے واقعات کے گواہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ صاف اور شفاف سیاست کی ہے اور ان کی بدنامی کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے، مگر مخالفین کو ہر بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ ایک بڑے عوامی اجتماع کے سامنے بے داغ کھڑے ہیں، جبکہ داغدار عناصر عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے عالمی سطح پر جمہوریت کے زوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی دنیا سرمایہ دارانہ نظام کو مستحکم کرنے کے لیے جمہوری اقدار کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ بعض تنظیمیں بھی جمہوریت کے خاتمے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا اور جمعیت علماء اسلام واضح طور پر اسلامی دنیا کے اتحاد کی حامی ہے۔ انہوں نے اسلامی بلاک کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ملائیشیا کو مل کر ایک مضبوط اسلامی اتحاد تشکیل دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف مؤثر موقف اختیار کرنے اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے اسلامی دنیا کا متحد ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں بلکہ حکمرانوں میں قوتِ ارادی کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران مغربی دباؤ کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے جمعیت علماء اسلام کو آگے بڑھ کر قوم کی نمائندگی کرنا ہوگی۔ انہوں نے ایشیائی ممالک کے اتحاد کے تصور کی بھی حمایت کی اور کہا کہ شیخ الہند اور مولانا عبید اللہ سندھی نے ایشیاٹک فیڈریشن کا نظریہ پیش کیا تھا۔
خطاب کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں اس سوچ کو شکست دینا ہوگی جو اسٹیبلشمنٹ سے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو غدار قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مطمئن کرنا ضروری ہے اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے اسمبلیاں تشکیل دینا سیاسی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد جاری رہے گی اور اگر قوم متحد ہو جائے تو کامیابی یقینی ہے۔
ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟
یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟مولانا فضل الرحمان نے پشین جلسے میں اہم سوالات اٹھا دئیے
(میں تو کل مصروف تھی نہ دیکھ سکی لیکن کیا یہ جلسہ مین سٹریم میڈیا نے دیکھایا ؟)