گوادر آج ایک پھر قدرتی آفات کے شدید زَد میں ہے مگر افسوس کہ ضلعی انتظامیہ نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ ڈی سی صاحب کہہ رہے ہیں گوادر کو آفت زدہ قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں اسطرح جب عوامی نمائندگی کے نام پر غیرمتعلقہ کاروباری لوگوں کو عوام پر مسلط کیا جائے گا تو بے حسی ہوگی
جیو والے #بلوچستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کی ذحمت گوارا نہیں کرتے - یہ لیں اس سال کے اوائل میں @TheBlackHole_pk میں #NFC کے مسلہ پر ھم نے اپنا #مقدمہ پیش کیا اور انڈیا و پاکستان کے وسائل کی تقسیم پر بھی بات کی - مکمل ویڈیو Black Hole کے یو ٹیوب چینل پر دیکھ سکتے ہیں -
https://t.co/WDNUrMDQl1
@KlasraRauf یہ انتہا قسم کے جنونی ذہنیت کے لوگ ہیں ان کی تربییت ڈپلومیسی سے نہیں جہالت سے کی گئی ہے ان ہی ذہنیت کے کم علم لوگوں نے ہی ملک کی اداروں کا یہ حال کیاہے اندازہ کریں یہ دو ایٹمی قوت رکھنے والے ملکوں کے درمیان جنگ کو مزاق سمجھتے ہیں
کراچی میں دس منٹ کی چند بوندوں کی رحمت کو @KElectricPk نے نہ صرف انتہا قسم کی زحمت میں تبدیل کردیاہے بلکہ پورے کراچی میں پچھلے پانچ گھنٹوں میں اس ماہ رمضان میں لوگوں کو عذاب میں ڈالا ہواہے، دنیا کہاں پہچ گیاہے اور ہم کراچی والے کہاں ہیں @CMShehbaz@BBhuttoZardari
@iAmjadKhann یہ ااختیار ولی @ikhtiarwali تو شروع سے بازاری لونڈا ہے یہ پختون قوم کے نام پر ایک گھٹیا داغ ہے اُس کو تحریک انصاف کے سامنے رکھا اسلیے گیاہے یہ گالی دے، سیاسی پارٹیوں میں ایسے گھٹیا قسم کے لوگ رکھے جاتے ہیں یہ اُن میں سے ایک ہے
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے نیشنل پریس کلب ووٹ پر پہرہ دینے کا حق ادا کر دیا 40 گھنٹے سے سے سوئے نہیں اپوزیشن اتحاد کی طرف سے ووٹوں کی گنتی میں نمائندہ کے طور پر موجود تھے 24 گھنٹے گنتی ری کاونٹنگ ہوتی رہی ۔۔۔ 14 سال پہلے پریس کلب میں تبدیلی کے لئے جاگو گروپ بنانے اور آخرکار تبدیلی میں بھرپور کردار ادا کرنے والے مطیع اللہ جان کی زبانی 24 گھنٹے کی روداد سنیں ۔۔ !!
@drnicolas_ You fools, this is not the doctor Nicolas Kokkalis real account; it belongs to some impersonator. Don’t you people even have the sense to know who you are addressing?
@Qadirbuxkalmati صاحب شمارا وتی پارٹی ءِ گورنر مُراد بات۔ کم از کم ایک پرانا سیاسی کارکن ہے جس ٹپوری بازاری کو گورنر سندھ جیسے اہم عہدے پر لگایا تھا وہ اس کرسی کی توہین تھی۔ نہال ھاشمی ایک جمہوری سیاسی کارکن ہیں اس کا گورنر بننا خوش آیند ہے۔
کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.
آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.
کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.
واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی جائے. سنی ہوں اور بڑی خواہشوں میں سے ایک ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضری دینے جاؤں. وہاں کا موقع تو جانے کب ملے. عبداللہ شاہ غازی بھی تو اسی خانوادے سے ہیں ، بس دل کھچا سا چلا گیا.
مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا.
آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.
پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟
جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.
حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے
نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو
نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.
رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.
میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.
زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.
کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.
جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.
Amma Houri came all the way from Balochistan to Islamabad hoping someone in govt wld just listen to her plight. @ImaanZHazir was handling her legal case & is now penalised 4 empathising with these long suffering families. Amma Houri died today & Imaan is convicted for 17 yrs!
یہ فنکار #بلوچستان کی ایک نایاب اور طاقتور موسیقی روایت ، #نڑ_سُر ، کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔ یورپ میں ان کا ثقافتی تبادلہ پروگرام نہ صرف اپنی ثقافت کو پیش کرنے کا موقع ہے بلکہ مکالمے اور ہم آہنگی کے ذریعے ایک پسماندہ خطے کی نمائندگی بھی ہے۔
انہیں اس سفر کو ممکن بنانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، سہولت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ان کی حمایت دراصل ثقافتی تنوع، امن اور ایک قدیم موسیقی ورثے کے تحفظ کی حمایت ہے۔
یہ صحافت کے بدصورت بدنما غلیظ اور گھٹیا داغ ہیں یہ شاونسٹ ذہنیت کے غلیظ ترین کردار ہیں جو قومیت کی بنیاد پر تعصب اور نفرت پھیلاتے ہیں اِن میں ایک عمر چیمہ @UmarCheema1 بھی ہے
اس غلیظ شخص نے اعترافِ جرم کر لیا ہے کہ اس نے نہروں کے مسئلے پر سندھیوں کی کردار کشی کی مہم کسی ’خفیہ حکم‘ پر شروع کی تھی۔ اس نے سندھی قوم کا مذاق اڑایا، ان کی توہین کی اور سندھیوں کے خلاف نسل پرستانہ تبصروں تک جا پہنچا۔ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ یہ شخص تحریکِ انصاف کے خلاف ایک 'ٹاؤٹ' کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس کی کل اوقات دو ٹکے کی ہے اور اسے کوئی بھی خرید کر استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ بقول اس بدبخت کے، اس نے ہمیشہ 'نوکر کی تے نخرہ کی'، اطاعت کی ہے'۔