#MutualFollowSsupport! 💯
*If you mutually follow each other, please reply here!
Let's all follow that person!
*I would appreciate it if you could retweet...
#Follow everyone who liked it
#Follow4folloback 💯
پورے صوبے میں ہزاروں ہاوسنگ سوسائٹیز نے ماحول اور ماحولیات کو برباد کر دیا ہے۔سارا سبزہ درخت کھیت ہاوسنگ سوساٹیز کھا گئی ہیں۔
پچھلے پندرہ بیس سالوں میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمینین، درختوں اور فطری لائف کو تباہ کیا گیا ہے جس میں سیاستدان، سول ملٹری بیوروکریسی اور میڈیا سب نے مل کر اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ جہاں بھی کوئی کھیت ، درخت اور سبزہ نظر آیا اس پر بلڈوز اور کلہاڑا چلا دیا۔
اور تو اور اسلام آباد اس وقت جلتا ہوا تندور بنا ہوا ہے جہاں تھوڑی سی گرمی کے بعد کبھی تو روز بارشیں ہوتی تھیں۔
ایک چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سب کچھ برباد کر گیا ہے اور ہمارے پیارے محسن نقوی صاحب کی “اعلی ظرفی” کی بدولت وہ ڈی جی پاسپورٹ بھی لگ کر بیٹھا مزے کررہا ہے۔
جب آپ درختوں اور ماحول کے سرکاری قاتلوں کو سزا کی بجائے انعامات سے نوازیں گے تو ہیٹ ویوز آئیں گی۔ مزید تباہی ہوگی۔
افسوس کی بات ہے نواز لیگ کے ہر دور حکومت میں ماحول سب سے زیادہ برباد ہوتا ہے خصوصا شہباز شریف ماحول سے ہرگز رغبت نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک بس سریا سیمنٹ بکنا چاہیے، آسمان پر چھتیں ڈال دی گئی ہیں۔ بس سریا بکے اور بے تحاشہ بکنا چاہئے۔ سب سریا سمینٹ بجری دھرتی کے سینے میں ٹھوک دو۔ دھرتی پھر آگ ہی اگلے گی۔ اسے معاشی ترقی کا نام دیا جاتا ہے۔
اب یا تو سریا سمینٹ بیچا جا سکتا ہے، افسران اپنی چونچیں گیلی کر سکتے ہیں یا پھر درخت چرند پرند جانور اور ماحول کو بچایا جا سکتا ہے۔
بہرحال آپ کی مہربانی کہ چلیں اس سخت گرم موسم میں وائلڈ لائف جانوروں کا تو سوچا۔ یہ حکم نامہ ڈی سی صاحبان کو پورے صوبے میں جاری کریں کہ اس ہیٹ ویو میں ان بے زبان جانوروں اور پرندوں کا بھی خیال رکھا جائے۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@CDAthecapital@SohailAshrafGor@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@DrMusadikMalik
پنجاب میں مریم نواز کے اندر اتنی زیادہ سختی کیوں بڑھتی جارہی ہیں۔۔ جس طرح کا زیرو ٹالرنس وہ اپلائی کر رہی ہیں اور حیران کن قوانین لا رہی ہیں کل کو باقی چھوڑیں ان کی اپنی پارٹی کے خلاف بھی وہی قوانین استمعال ہوسکتے ہیں ؟
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/ubdXZ3EG07 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@amnahussain96
اخلاقیات کا Selectiveجھنڈا اٹھاۓ باجی حمایت میں آہی گئیں۔
توشہ خانہ کی وہ گھڑی جس پر صرف خانہ کعبہ کی تصویر تھی اسے مقدس ترین بناکر اپنے پروگرامز میں گھنٹوں توہینِ مذہب پر لیکچر دینے والی،
آج مقدس ترین ہستی کےمتعلق جیو نیوز کے اتنے بڑے بلنڈر پر خود احتسابی کی سفارش کررہی ہیں۔
پنجاب حکومت صوبے کے عوام پر وہ قانون (الیکٹرانک ڈیوائس شہری کو باندھنا) لاگو کرنے جا رہی ہے جو گوانتاناموبے میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا اور امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔
جیو پر آن ائر جانے سے قبل مواد کو کئی لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ میڈیا میں موجود ایک عمومی عقل کے حامل ذہن کو پتہ ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہ قابل نشر ہے کہ نہیں۔ میری رائے میں اس ڈاکومنٹری کے پروڈیوسر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ ہونا چاہئے۔
ان فرقہ پرستوں کو اسی طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔
🚨🚨 جیو کی چند دن کی نمائشی معطلی کافی نہیں ہے۔
جیو نے “سفر عشق” کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری چلائی جس میں AI کی مدد سے نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسم اور تمام اہل بیت کے تصوراتی جسم بنائے۔ پاکستان میں جیو نے شروع سے ہی مذہب میں خرابی کی بنیاد رکھی ہے۔ مشرف دور میں انہوں نے حدود قوانین کے خلاف لمبی اشتہاری مہم چلائی، وہ قوانین پھر تبدیل ہو گئے۔ رمضان میں کھیل تماشے والی ٹرانسمیشن، عالم آن لائن کے نام پر عامر لیاقت جیسے کردار جیو کی ہی عطا ہیں۔ غرض مذہب کے حوالے سے باریک وارداتوں کی لمبی تاریخ ہے، چند دن کی معطلی سے کیا ہوگا؟ یہ یوٹیوب پر چلتے رہیں گے۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، وہ بند ہونے چاہییں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ وزارت اطلاعات انہیں بچا رہی ہے۔
برائے اطلاعِ عام: براہِ مہربانی اس ہفتے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ کریں۔ حکومت نہ تو کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، صارفین تک کوئی بھی فائدہ پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اسی عہد کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے آج تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔ پاکستان زندہ باد!
آج وزیر اعظم کا امتحان ہے کہ وہ عوام کے وزیر اعظم ہیں یا آئل مارکیٹنگ کمپنی کے وزیر اعظم ہیں۔ وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ عالمی قیمتوں کے مطابق عوام کو ریلیف دیں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے سامنے سرینڈر کریں گے یا نہیں، اگر کمی دیکھی جائے تو کم از کم 30 سے 60 روپے پٹرول کی قیمت کم ہونی چاہیے۔
بتایا گیا ہے اس بجٹ میں 1800 ارب روپے IPPs کو کپیسٹی چارجز کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اتنے زیادہ بجلی گھر لگائے گئے جو ہماری ضرورت سے سولہ سترہ ہزار میگا واٹ زیادہ ہیں۔ جن کی ہمیں ضرورت نہیں. حالت یہ ہے چھ بجلی گھروں کو کہا گیا تھا آپ انہیں بند رکھیں ہم آپ کو پیسے دیتے رہیں گے۔ حکمران خاندانوں کے اپنے بجلی گھر ہوں گے تو پھر فیملی اینڈ فرینڈز پیکجز ہی ملیں گے۔ان چھ بجلی گھروں کے ساتھ حیران کن معاہدہ کیا گیا تھا کہ فیول بھی آپ کو حکومت پاکستان خرید کر دے گی اور ان کی سب بجلی بھی خریدے گی اوراگر نہ خریدی تو سب پیسے دے گی۔
اب وہ چھ بجلی گھر بند تھے لیکن انہیں اربوں یونٹس پیدا نہ کرنے کے بھی پیسے مل رہے ہیں۔ ایسا چمت کار تو صرف پاکستان میں ہی ہوسکتا ہے۔
سینئر صحافی سہیل اقبال بھٹی کا جواب سنیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/VOcsyVV7WD via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@naveedqamarmna@SenatorSaleem@PalwashaKhan18@BarristerGohar@Ali_MuhammadPTI@JunaidAkbarMNA@SanaMastiKhel@KhSaad_Rafique@akleghari@CMShehbaz@KhawajaMAsif@MIshaqDar50@sohaileqbal1@Rashidlangrial
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پیغمبرِپاک صلی اللہ علیہ وسلم کےنواسےراہِ حق پر تھے،کوفہ کےلوگ یزید کےخوف سےانکی مدد کو نہ نکلےاور اسلام کےعظیم ترین المیےکووقوع پذیرہونےدیاگیا۔ہر دور کااپنایزیدہوتا ہے۔مجرموں کےبرسرِاقتدارگروہ،جسےتبدیلئ حکومت کی امریکی سازش کےذریعےحکومت میں لایاگیااور
G 6 sector is completely under official siege right now. It is now giving frightening look of war zone than a residential sector. Containers and police are everywhere.
Even F 11 sector is facing same siege like situation. barricades everywhere.
Last night Jinnah Avenue /Centarius road were blocked. Fazal Haq Road is blocked. hundreds of Containers everywhere in city.
Strangely Poly clinic hospital is now under siege of police and containers. You cant visit civil hospital if facing any medical problem or emergency.
Since Mohsin Naqvi sb took reigns of interior ministry in 2024, these are new SoPs and people suffer for days.
People in these sectors are facing this situation of “official curfew type” situation in name of law and order. This is concept of security to cage every citizen.
@MohsinnaqviC42@ICT_Police@CMShehbaz@RajakhurramNA48@dcislamabad@SohailAshrafGor@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif@AyazSadiq122@MIshaqDar50@BilalAKayani@sherafzalmarwat@sherryrehman
بالکل ایسا ہی ہے، بطور حوالہ اس ایک کیس کی مثال دے رہا ہوں، یہ امیر کبیر Rapists کیخلاف CCD کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟
لاہور ماڈل ٹائون میں ایک ماہ قبل گھریلو ملازمہ کے ساتھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ ہوا، گھریلو ملازمہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اسکا اسقاط حمل کروایا گیا اور وہ جان سے گئی۔ ملازمہ نے ویڈیو بیان میں مالک مکان کے بیٹے اور ملازم کو نامزد کیا لیکن چونکہ مالکان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور دبا کر امیر تھے لہذا CCD پاس سے بھی نہیں گزری۔۔۔
ہے ہمت CCD میں یہاں پولیس مقابلے کی؟