قاسم خان سلیمان خان کا آسٹریلیا کے ادارے اے بی سی کو بھی انٹرویو ہوگیا۔۔۔۔
قاسم خان، سلیمان خان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے والد کو بزدل ، آمر سمیت یہ لوگ بیرونی دنیا میں جلاوطنی پر تیار ہیں لیکن ہمارے والد کبھی اس پر سمجھوتا نہیں کرسکتے۔
ہماری والدہ ہماری بہت مدد کر رہی ہیں اس ساری صورتحال میں۔
ہمارے والد کو ایک 6x8 کے سیل میں رکھا گیا ہے،وہاں کم روشنی ہے،انکو کتابیں بھی نہیں دی جاتیں،24 گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ سیل سے باہر نکالتے ہیں۔سلیمان خان۔
جیل میں بہت سے لوگ ہیپاٹائٹس سے مر رہے ہیں اور ہمارے والد سے یہ سب کچھ اس طرح کر رہے ہیں تاکہ کل کو کہا جائے ایک قدرتی موت تھی۔
قاسم خان
پاکستان میں اس وقت ملٹری ڈکٹیٹر شپ ہے، سب کچھ ان کے کنٹرول میں ہے، میرے والد جو پاکستان میں سب سے مشہور بندے ہیں ان کو ٹارچر کیا جا سکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ یہ کیا کرتے ہوں گے؟ اگر کوئی اس رجیم کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اس کو گولیاں ماری جاتی ہیں۔ قاسم خان
عمران خان وزیر اعظم نا بنتا تو ایک ملک گیر سیاسی جماعت کا سربراہ تو تھا ، وہ بھی نا ہوتا تو ایک بہت بڑا فلاحی ادارہ بنانے والا ، وہ بھی نا ہوتا تو ورلڈ کپ وننگ ٹیم کا کپتان ، وہ بھی نا ہوتا تو اپنے وقت کا بہترین آل راونڈر ، وہ بھی نا ہوتا تو جہاں بھی ہوتا تو جو بھی کرتا کمال ہوتا کمال کرتا۔ یا پھر وہ جیسے عمران خان نے کہا تھا کہ اگر میں شوکت خانم بنا سکتا تھا ، نمل یونیورسٹی بنا سکتا تھا تو میری نظر کمزور نہیں تھی میں شوگر ملیں اور فیکٹریاں بھی بنا سکتا تھا۔
دوسری طرف؟ ایک عہدہ ، ایک عہدہ ، ایک عہدہ نا اس سے آگے کچھ نا اس کے پیچھے کچھ۔ اس کی جگہ کوئی بھی چھکن ، ڈھکن ، چھپن آسکتا تھا ، ایسا ہی دھنیا پانجہ ، ایسا ہی ٹٹ پونجیا ، ایسا ہی پھدو پھنٹر۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
عمران خان ایک انسان ہے، وہ کوئی لوہے کا نہیں بنا۔ عمران خان کو بھی درد ہوتا ہے، لیکن عمران خان اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لیے ہر ظلم برداشت کر رہا ہے۔ عمران خان کی جدوجہد صدیوں یاد رکھی جائے گی! اداکارہ حناء بیت خان
#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عدالت نے واضح حکم دے رکھا ہے کہ ہر ہفتے عمران خان کی گھر والوں سے ملاقات کرائی جائے۔
عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات سے متعلق قاسم اور سلیمان خان کیا سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کے ساتھ انٹرویو۔
اردو ڈبنگ
@Kasim_Khan_1999#StopRiskingImranKhansLife
میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں، ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ عمران خان
جس وقت دنیا میں عمران خان کے لیے آواز اٹھائی جارہی ہے اس وقت خاندان ، پارٹی قیادت ، اوورسیز، انڈرسیز ہر طرح کے رہنماؤں کو اپنے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پندرہ بیس سیکنڈ کی انگریزی ویڈیو اپلوڈ کرنی چاہیے جس میں بتایا جائے کہ عمران خان پر جھوٹے کیسز تو ایک طرف عمران خان کو ملاقات ، علاج کا بنیادی حق بھی حاصل نہیں۔ عمران خان کو طویل عرصے کےلیے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
ہمارا بھائی، ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔ ہم نے عمران خان کو بتایا کہ آپ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، تو خان صاحب نے کہا، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم چپ بیٹھ کر انتظار نہیں کر سکتے، ہم سب پر عمران خان کی حفاظت فرض ہے۔ علیمہ خان
#pakistan@Aleema_KhanPK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Huge appreciation to Imran Khan’s sons, Kasim @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman, for stepping up and giving these interviews. They’re using their voice to raise global awareness about their father’s human rights and health situation — and clearly it’s rattling Pakistan’s military establishment, given how quickly the attacks on them started. Keep going, you’re doing the right thing.
آخر کا جاوید میانداد صاحب نے غیرت ہمت اور انسانیت دکھائی۔ پاکستانی دوسرے کرکٹرز کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیئے۔ عمران خان کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ آپ خود کو ایکسپوز کر رہے ہیں۔ وہ بھی پوری دنیا کے سامنے۔
کل PTi کی تمام ریجنل لوکل اور ذیلی تنظیموں کو جمعہ کی نماز کے بعد عمران خان صاحب کی صحتیابی کے لئے مساجد میں بعد نماز دعا کی اپیل کرنی چاہیئے۔ایک تو دعا ہو گی - دوسرا پوری دنیا کو خانصاحب کی صحت کے بارے موجود خطرات سے آگاہی بھی ملے گی
براہ مہربانی اس پیغام کو پھیلائیں
"والدکومناسب علاج کی اشدضرورت ہے،عمران خان آنکھ پرتکلیف کے باعث پٹی باندھے ہوئےتھے،انہیں دباؤ اوراضطراب میں دیکھنا ہمارے لیے ناقابل تصور ہے،وہ مشکل ترین حالات میں بھی پرسکون اور پراعتمادرہے ہیں"۔ قاسم خان اور سلیمان خان کا مائیک ایتھرٹن کو انٹرویو، جسے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کی لنچ بریک کے دوران سکائی سپورٹس نے نشر کیا
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
وہ کھلم کھلا وہاں عمران خان کی جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ انہیں بس زیادہ سے زیادہ وقت اندر قید رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کو خاموش کرایا جا سکے۔
قاسم خان