میں ایس ایچ او کو پچاس لاکھ روپے دوں گا وہ میرے بیٹے کے قاـتل کو میرے سامنے لے آئیں ۔
سات دن قبل منگو پیر کراچی کی حدود میں رات کے تین بچے پولیس کی یونیفارم پہنے کچھ لوگ روشم کے گھر گھس آئے انہوں نے آتے ہی فاـئرنگ شروع کردی
روشم کا والد پولیس والوں کو دیکھ کر سمجھ نہ سکا کہ معاجرا کیا ہے جیسے حافظ روشم باہر نکلا یہ بچہ ان کی زد میں آگیا اور موقع پہ شہید ہوگیا ۔
یہ آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جس نے ابھی میٹرک میں ٹاپ کیا اوپر سے حافظ قرآن بھی تھا اس کی والدہ روتی رہی اور والد اب تک انصاف کے لیئے ڈٹ گیا ۔
آج سات روز ہوگئے ہیں روشم کو تھانہ منگو پیر کے سامنے ایمبولنس میں رکھا ہوا اس کے والد اس کو دفنا نہیں رہے ہیں وہ اس بچے کے انصاف کے لیئے ڈٹ گئے ہیں
جبکہ ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ ان کو بچانے کی خاطر پولیس خاموش ہے اب تک کوئی بڑا شخص ان کے پاس نہ آیا ۔
اس کے والد نے اعلان کردیا ہے کہ جو میرے بچے کے ملزمان کو دے گا میں اس کو پچاس لاکھ دوں گا ۔
لوگ جوق در جوق اس کے والد کے پاس آرہے ہیں۔
آپ بتائیں کیا لاش کو اذیت دینا درست ہے ؟
یا اس بچے کو اگر دفنا دیا گیا تو انصاف نہیں ملے گا ؟؟؟ یا اس کے والد جو کر رہے ہیں وہ درست ہے ؟؟؟
اس بچے کی آواز بنیں۔
😥😥😥😥😥
@MubashirAZaidi خاص طور پر "إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ" کا مطلب یہ نہیں کہ جانور انسانوں کے بالکل برابر ذمہ داری اور شریعت رکھتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی منظم مخلوقات اور جماعتیں ہیں، جن کا ایک نظام ہے۔
@MubashirAZaidi جس طرح انسان ایک منظم اجتماعی زندگی رکھتے ہیں، اسی طرح یہ مخلوقات بھی اپنے فطری نظام کے تحت زندگی گزارتی ہیں۔ آیت انسان کو متوجہ کرتی ہے کہ اللہ کی قدرت اور اس کے قائم کیے ہوئے نظام کو ان مخلوقات میں بھی دیکھا جائے۔
پنجاب حکومت کا سب سے بڑا ظلم ریڑھی والوں اور چھوٹے کاروبار والوں کے روزگار کو تباہ کرنا ہے اس ظلم پر آپ بھی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں پاکستان میں غربت سرکاری اعدادوشمار میں بڑھ رہی ایسے میں اگر کوئی روزگار کمانے کی کوشش کرے تو اس کا روزگار تباہ نہی ہونا چاہیے
ہم کراچی والے محترمہ سمیعہ (پولیس سرجن) میر رضا علی قتل کیس میں انتہاٸ پریشر کے باوجود پوسٹ مارٹم رپورٹ کے اصل شواہد بے نقاب کرنے اور اس کرپٹ سسٹم سے ٹکرانے پر آپکی بہادری سلام یش کرتے ہیں❤️😘
ممتاز مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی سے ٹی وی پروگرام کے دوران ایک کالر نے سوال کیا کہ وہ پاکستان کے موجودہ ماحول کو کیسے دیکھتے ہیں جہاں ایک بڑی سیاسی شخصیت عمران خان جیل میں ہے ملک میں ایک گھٹن کا ماحول ہے اور ایسی ہی پابندیاں لگی ہوئی نظر آرہی ہیں جیسے ضیاء الحق کے دور میں تھیں تو کیا یہ قوم کا عروج و زوال نہیں ہے ؟ اس پر جاوید غامدی نے کیاجواب دیا خود سن اور دیکھ لیں ۔۔۔
🚨محمد عمیر کا پیغام🚨
براہِ کرم میرے 17 ماہ کے معصوم بیٹے محمد صالح بن عمیر کے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں
18 جولائی کو صبح تقریباً 5:00 بجے ہم اپنے 17 ماہ کے بیٹے کو سول ہسپتال مری لے گئے کیونکہ اسے الٹی اور اسہال کی شکایت تھی۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نہ اس کا بخار چیک کیا اور نہ ہی اس کی دیگر اہم علامات (Vital Signs) کا معائنہ کیا۔ اس کے بجائے اس نے پرچی پر پانچ انجیکشن لکھ دیے۔
یہ پانچوں انجیکشن پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لگا دیے گئے۔ حتیٰ کہ رنگر لیکٹیٹ (Ringer Lactate)، جو عام طور پر ڈرِپ کے ذریعے دیا جاتا ہے، اسے بھی ڈرِپ لگانے کے بجائے براہِ راست انجیکٹ کر دیا گیا۔ میں نے مرد نرس سے پوچھا:
“کیا رنگر لیکٹیٹ ڈرِپ کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟”
اس نے جواب دیا:
“ اب ہو گیا ہے۔”
اور باقی انجیکشن لگاتا رہا۔
اس کے فوراً بعد ڈاکٹر نے ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہہ دیا۔
اس کے بعد ہم اسے قریبی سی ایم ایچ مری (CMH Murree) لے گئے۔
وہاں عملے نے پہلے دیے گئے علاج کا جائزہ لینے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہمیں دوبارہ سول ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر بچے کو داخل نہیں کر سکتے، اور اگر تقریباً 10 گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھل جائے تو دوبارہ لے آئیں۔
صبح تقریباً 10:00 بجے ہم دوبارہ اپنے بیٹے کو سول ہسپتال مری کے ماہرِ اطفال کے پاس لے گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمارے بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پانچوں انجیکشن صرف پانچ منٹ کے اندر لگا دیے گئے تھے۔
ان کا جواب تھا:
“بی بی، یہ گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ یہاں یہی ہوتا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں ہم اسے ایڈمٹ کر لیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔”
بچے کو داخل کرنے کے بجائے انہوں نے ایک اور انجیکشن (Onset) لکھ دیا۔ نرس نے اس انجیکشن کا تقریباً آدھا حصہ لگایا۔ اس وقت تک ہمارے بیٹے کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ اور پاؤں نیلے پڑ چکے تھے، لیکن کسی نے بھی اس کی حالت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں دوبارہ گھر بھیج دیا گیا۔
گھر جاتے ہوئے اس کا بخار 105°F تک پہنچ گیا۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز کی ہر ممکن کوشش کے باوجود ہمارا 17 ماہ کا معصوم بیٹا اسی دن شام تقریباً 5:00 بجے انتقال کر گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سول ہسپتال مری میں ہمارے بیٹے کو دیے گئے علاج کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ہم جواب چاہتے ہیں، ذمہ داروں کا احتساب چاہتے ہیں، اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک معصوم کی جان سول ہسپتال مری میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث چلی گئی۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا ناقابلِ برداشت سانحہ ہے، اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا قانون کے مطابق احتساب انتہائی ضروری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور معصوم کی جان بھی اسی غفلت کی نذر ہو سکتی ہے۔
میں اپنے تمام میڈیا فیلوز، صحافی دوستوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور انصاف پسند لوگوں سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ براہِ کرم اس معاملے پر آواز اٹھائیں، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اور ہماری آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔
براہِ کرم ہماری آواز بنیں۔ ایک معصوم جان واپس نہیں آ سکتی، لیکن انصاف ضرور ہونا چاہیے۔
#JusticeForMuhammadSualehBinUmair #JusticeForSualeh #MedicalNegligence #CivilHospitalMurree #VoiceForJustice #THQHospitalMurree
Maryam Nawaz Sharif Raja Osama Sarwar Punjab Healthcare Commission - PHC PML-N Punjab
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
غزہ کے بچوں کی زندگی آج بھی کربلا جیسی ہے ایران امریکہ جنگ نے غزہ سے دنیا کی توجہ ہٹا دی ہے آپ سب جب بھی وقت ملے غزہ کا مسلہ اٹھاتے رہا کریں تاکہ ایلگورتھم میں فیڈ میں یہ چلتا رہے 🥲🥲🥲
⬅️ پہلی بات تو یہ ہے کہ سولہ (16)سے اٹھارہ سال (18)کی بے وقوف
لڑکیاں عشق معشوقی کے چکر میں گھر سے خود بھاگ جاتی ہیں اور سب سے
بڑی غلطی ان بچیوں کی ہی ہوتی ہے، ان کے گھر والے اغوا کا پرچہ کرواتے
ہیں لیکن وہ اغوا ہوتا نہیں .لیکن اگر دس (10)بارہ سال کی بچی گھر سے
غائب ہو جائے تو اسے اغوا کہا جاتا ہے، 💯
♦️نو دن پہلے سلانوالی کے قریب بڑانا بھٹیاں (بھوڑانی) کے غریب والدین
کی معصوم بچی کائنات جسکی عمر تقریباً 12 سال ہے علاقہ کے با اثر اور جرائم
پیشہ لڑکے نے اٹھا لی، اب معصوم کائنات کو اٹھانے والا بھٹی ہے، اور جن
غریبوں کی بچی اٹھائی گئی ہے وہ قوم کے قصائی اور بھٹیوں کے ملازم ہیں،
♦️سات دن گزرنے کے بعد تھانہ محمد والا ضلع چنیوٹ پولیس نے مقدمہ تو
درج کر لیا لیکن اب جرات نہیں ہو رہی کہ بھٹیوں سے معصوم بچی لے کر
واپس والدین کو دی جائے،
مریم نواز شریف کہتی ہے خواتین اور بچیاں میری ریڈ لائن ہیں، شاید وہ اشرافیہ
کی لڑکیوں کی بات کر رہی ہو گی
♦️افسوس ہے سلانوالی اور چنیوٹ کے صحافیوں پر جو بھٹیوں کے ڈر سے غریب والدین کی آواز نہیں بن رہے
♦️کائنات کا ب فارم دیکھیں، اگر آپ کی بیٹی یا بہن بارہ سال کی ہے تو آپ
سمجھ جایئنگے کہ اس عمر کی بچیاں تو پھول ہوتی ہیں، جن کے گھر بچی کی کوئی
عزت نہیں ہوتی وہ شاید لکھیں کہ بچی کا قصور ہے
♦️سننے میں آیا ہے کہ پولیس بھٹیوں سے درخواست کر رہی ہے کہ ضمانت کرا
لیں پھر بات چیت کرتے ہیں🥲
♦️اب اگر اتنی چھوٹی بچی کسی با اثر فیملی کی ہوتی اور اٹھانے والا کوئی
غریب ہوتا تو بندہ سی سی ڈی یا پولیس مقابلہ میں پار ہو چکا ہوتا لیکن ادھر بچی
انتہائی غریب ہے اور اٹھانے والے گاؤں کے با اثر تو سب چپ ہیں
سات دن سے جن کی کائنات لٹی ہیں وہ بس رو رہے ہیں💔
🙏🏻میری آپ سے گزارش ہے کہ کائنات کے غریب والدین کی آواز بنیں،
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب، آر پی او فیصل آباد اور ڈی پی
او چنیوٹ تک بچی کی بازیابی کی آواز پہچائیں
🙏🏻افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ اس ملک کا قانون غریب کے ساتھ تعاون نہیں کرتا🥲
سعودی عرب میں جہاں بور کرو تیل نکل آتا ہے آدھی دنیا کو تیل بیچتا ہے.
اسکے باوجود یہاں ججز کو فری پٹرول نہیں ملتا صرف عدالت آنے جانے کا کوٹہ ہے وہ بھی پیسے ملتے ہیں.
ہمارے والے 90 ڈالر فی بیرل خرید کر فری دیتے ہیں ان ججز کو.
اور انصاف کا حال یہ ہے کہ 134 نمبر پہ ہیں دنیا میں.
کائنات کا سب سے بڑا ظلم کسی کا روزگار تباہ کرنا ہے آپ کے بچے تو لاکھوں ڈالر کے کاروبار اور فراڈ کر رہے جبکہ غریب کی ریڑھی بھی آپ سے برداشت نہی ہے اور پھر یہ اراکین اسمبلی اپنے لیے مفت کی مراعات بھی مانگ لیتے ہیں
غریب کو مزدوری بھی نہی کرتے دیتے ہیں
📢اہم اطلاع برائے عوام
آج بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں ایک نوجوان لڑکا ہسپتال کے احاطے میں ایک بینچ پر زخمی حالت میں ملا جس کو ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسے آرتھوپیڈک وارڈ میں داخل کر کے علاج معالجہ شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس کی ٹانگ میں فریکچر ہے اور وہ بولنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے اس کے اہلِ خانہ یا رہائش کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں اگر کسی شخص کو اس نوجوان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں یا وہ اس کے لواحقین کو جانتا ہو تو براہِ کرم انہیں فوری طور پر بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ سے رابطہ کرنے کی اطلاع دیں عوام سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ اطلاع جلد از جلد اس نوجوان کے اہلِ خانہ تک پہنچ سکے اور وہ اپنے پیارے تک رسائی حاصل کر سکیں۔
آپ کے تعاون کا شکریہ۔
یہ بچہ دسمبر 2025 کو کراچی میں لاوارث ملا تھا۔ اپنا نام یا دیگر معلومات بتانے سے قاصر ہے۔
بچہ اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ بہت کوشش کی گئی لیکن ورثاء نہیں ملے۔ برائے مہربانی بچے کو ماں کے آغوش تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔اس عمر میں ماں باپ سے دور ہونا بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور کریں شاید آپ برداشت نا کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829
نوٹ: برائے مہربانی گود لینے کے
خواہشمند بالکل بھی رابطہ نا کریں۔
2 jun 2026
#waliullahmaroof
“ہم یہ ویڈیو اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ ہم کسی بھی لمحے مر سکتے ہیں۔ ہمارے 70–80٪ مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں۔ میں نے ایک ایسی خاتون کا بچہ ڈیلیور کیا جو 9 ماہ کی حاملہ تھی اور جس کا سر کٹ چکا تھا۔ براہِ کرم اس دہشت اور ہولناکی کو روکیں “
آسٹریلوی خواتین ڈاکٹرز کا غزہ سے بیان