@DurraniViews عمران خان کے نام فالورز لیے اب اسی کے خلاف بھونکتے ہوے شرم نہیں آتی
ویسے فوجی کے پیشاب سے پیدا ہونا نے والا کبھی حق اور سچ کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا
26 نومبر کے واقعات کو میں نے کور کیا تھا، ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے گولی چلتے دیکھی، دو افراد جن کو سر پر گولی لگی انہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لہذا حسن ایوب کا کہنا کہ "شہید کہاں ہیں" دراصل انسانی اقدار سے گرا ہوا انسان ہی یہ سوال کرسکتا ہے۔ #گولی_کیوں_چلائی
@_Mansoor_Ali منصور علی خان نے دو مہینے میں صرف تین ٹویٹس کی ہیں اور آج یہ ضرورت اسلیے محسوس ہوئی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ملبہ کسی بھی طرح عمران خان پر ڈالا جاسکے۔ ۔ فوج اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہی ہےفوج کسی ممکنہ ردعمل سے سخت گھبرائی ہوئی ہے
منصور علی خان فوج کا ٹٹو ہے
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)