پشاور یونیورسٹی مشاعرے میں جب ایک سٹوڈنٹس نے کہا
یہ نظم نیلسن مینڈلہ کے نام
یہ نظم باچا خان کے نام: نوجوانوں نے تالیاں بجانا شروع کی
لیکن جیسے ہی کہا: یہ نظم خاص کر عمران خان کے نام تو پورا حال تالیوں اور نوجوانوں کے نعروں سے گونج اٹھا ♥️
پختون خوا پولیس کے بہادر بیٹے DSP عمران الدین آج دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہو گئے، کیریئر میں ہمیشہ فرنٹ لائن پر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، جوانوں کیلئے بڑی ڈھال رہے۔
انا لله و انا الیه راجعون
کرک میں شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر، آر پی او کوہاٹ شاکر حسین داوڑ اور دیگر کی شرکت
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور انکی مشاورتی کونسل کے کسی بھی رکن نے شرکت نہیں کی
ہم کہیں نہیں جائیں گے یہی پر انکا مقابلہ کریں گے، یہ بزدل لوگ ہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، شہید ڈی ایس پی CTD عمران الدین کے الفاظ 💔
پختون قوم اپنے اس بہادر آفیسر پر فخر کرتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا!!!
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بلی بلے کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں تھیلے سے برآمد ۔
آج فیصلہ ہوا کہ مدارس کو ریگولرائز کیا جائے گا ہمیں چیک رکھنا پڑے گا کہ مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے کیا سکھایا جا رہا ہے اور ان کے پیچھے کس کے ساتھ لنکس ہیں ! ثمر عرفان اللہ مروت ۔
امن و امان کا بہانہ بنایا گیا ہے اصل مقاصد ان کے کچھ اور ہیں ۔۔
مینا خان نے تو صرف پشاور کیلئے 200ارب کا پیکیج دیدیا تھا
سہیل آفریدی نے قبائل کیلئے ایک ہزار ارب، ہزارہ کیلئے 206 ارب کا پیکیج اورمردان کیلئے 50 ارب کا پیکیج کا اعلان کیا تھا
عاصم منیر، شہباز شریف، گورنر سمیت تمام وفاقی کابینہ اور کور کمانڈرز آج پشاور میں تھے تو وہ جنازے میں کیوں نہیں گئے؟
یہی ٹولہ سہیل آفریدی پر الزام لگاتا تھا کہ وہ چند جنازوں میں ہی گیا- تو خود سب کہاں گئے؟
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
ڈی ایس پی عمران الدین تب ناصر باغ تھانے میں ایس ایچ او تھا تب عمران نے مراد سعید کی فیملی کے خلاف پرچہ دینے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا تھا اسے معطل کر دیا گیا
جب عمران معطلی کے بعد تھانے سے جانے لگا تو والہانہ استقبال عوام نے کیا تھا
مخلص عورت توجہ کی محتاج ہوتی ہے ، نہ وہ مرد کی امیری سے متاثر ہوتی ہے اور نہ غربت سے، وہ تو اس بات سے متاثر ہوتی ہے
کہ مرد اسے کتنی عزت اور توجہ دیتا ہے۔
کامیابی وہ جو غلیظ ترین دشمن بھی تسلیم کرے
بلکل 2020 میں عمران خان کی پالیسی کی وجہ سے خیبرپختونخوا امن کا گہوارا بن گیا تھا، دہشتگردی ختم ہو گئی تھی، لیکن پھر بند کمروں کی پالیسیوں نے یہ امن تباہ کر دیا