صَلَّى اللَّهُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ
Peace and blessings be upon Muhammad (SAW).
“Indeed, in the remembrance of Allah do hearts find rest.”
(13:28) Al-Quran ♥️
Nay, We hurl the truth against falsehood, and it crushes it, so it vanishes. And woe to you for what you describe."
(Qur'an 21:18)
how truth overpowers falsehood, and falsehood (which is often linked to Satanic influence) cannot stand before it. Those aligned with evil always try to resist or silence the truth, but Allah declares that truth will ultimately prevail....
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
ڈی ایس پی عمران الدین تب ناصر باغ تھانے میں ایس ایچ او تھا تب عمران نے مراد سعید کی فیملی کے خلاف پرچہ دینے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا تھا اسے معطل کر دیا گیا
جب عمران معطلی کے بعد تھانے سے جانے لگا تو والہانہ استقبال عوام نے کیا تھا
پنجاب والے ٹک ٹاکس اب خیبر پختونخوا میں بھی دستیاب ہیں! ٹک ٹاکر تھیف منسٹر کے بعد ٹک ٹاکر گورنر۔ کوئی ذی ہوش انسان غریب عوام کا پیسہ اتنی بے دردی اور بے شرمی سے اپنی نوٹنکیوں پر کیسے لگا سکتا ہے!
نامعلوم (جو اب سب کو معلوم ہیں) نقاب پوش افراد کا ایم این اے اقبال آفریدی کو اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو ان کے رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا ہے.
#AsimLaw
گورنر راج 6 مہینے اور ایمرجنسی تاحیات رہے گی ۔ طارق فضل
آئین کے مطابق گورنر راج خود بخود 6 مہینے بعد ختم ہو جاتا ہے جبکہ ان کے آئین کے مطابق ایمرجنسی پہاڑوں کے نیچے چھپی معدنیات امریکہ کے لے جانے تک قائم رہتی ہے.