اسلام علیکم۔
بچی کا نام عمامہ ہے۔
والد کا نام فخر الاسلام بتا رہی ہے۔ جہانگیرہ سے راولپنڈی میں مہمان آئی ہے اور اپنے چچا ضیاء السلام چچا کے بیٹے جواد اور فائق سے بوقت مغرب انیس اگست کو بچھڑ گئی ہے۔ ایک سامان کا بیگ بھی ساتھ ہے۔
برائے کرم جس کی بچی ہو یا جو جانتا ہو وہ اس نمبر
03144592236 اصف صاحب گرجا چوکی
03015213704 محمد خاقان صادق کالونی سے رابطہ کر لیں۔
برائے کرم راولپنڈی کے ہر گروپ میں شیئر کریں۔
شکریہ
ایک فرمائشی سروے میں ظاہر کیا گیا کہ صرف 49 فیصد پاکستانی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو نا پسند کر تے ہیں۔
بطور پاکستانی کیا آپ نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں؟
ہاں کے لیے (1)
اور
نہیں کے لیے (2)
لکھیے
مجھے پال پوس کے بڑا کرنیوالے ، میرے والد جیسے شفیق بھائی محترم جناب علیم فاروقی صاحب تھوڑی دیر پہلے وفات پا گئے ہیں ، جگر کے کینسر نے انہیں محض 3 ماہ میں ہم سے چھین لیا ، نمازہ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا - ایصال ثواب کی درخواست - انا للہ وانا الیہ راجعون
ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب انگریزی میں یہ ٹرینڈ #HappyBirthdayImranKhan شروع کریں اور اسے worldwide پینل پر لا کر خان صاحب کی رہائی کا مطالبہ کریں۔
بھولنا مت خان صاحب پچھلے 791 دنوں سے موت کی چکی میں ناحق قید ہے
A public service message
*یہ بچہ ملا ہے گجرات کنجاہ کے پاس گاؤں کوٹ لحہ بخش کے پاس سے اور اس بچے کو کسی نے اغواہ کیا ہوا تھا اور بہت ڈرا ہوا ہے اور یہ بچہ کوٹ لحہ بخش گاؤں میں موجود ہے اس تصویر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ بچہ اپنے گھر والوں پاس جا سکے ،،، اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین*
*نظر انداز نہیں کرنا آگے دوسرے گروپس میں بھی فارورڈ کرتے جائیں تاکہ ورثا تک بچہ سلامتی کے ساتھ پہنچ سکے شکریہ*
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 💔
میری والدہ خالق حقیقی سے جاملی 😭
تمام دوستوں سے اس کی مغفرت کے لئے دعا درخواست کی جاتی ہے 😭😭😭
یا اللہ ! ہمیں یہ بڑا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرما 🤲
تمام دوستوں سے یہ اپیل ہے اور گزارش ہے کہ آج جمعہ کی نماز کے بعد خصوصی طور پر میری والدہ کے لیے دعا کریں
کہ اللہ ان کو جلد صحت یاب اور شفا نصیب کریں
میری والدہ کومہ میں چلی گئی ہیں, 💔
لیکن اللہ کے ہاں کچھ بھی ناممکن نہیں, اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اللہ ہم سب کی مدد فرما اور تمام بیماروں کو شفا یاب کر, آمین ثم آمین 🤲
بہت شکریہ
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچ�� مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے ��ھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلیں۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔