اسلام آباد : سازشوں کے اس شہر اقتدار میں ہماری آخری رات :
جبر کی ایسی کئی راتیں ہم نے حوصلو�� سے مات دی ہیں سرد راتوں کو کانپتی مائیں سینے سے لگائے اپنے بچوں کی تصویریں کھلا آسمان چاروں اطراف بندوق بردار اور ہم نہتے لوگ ۔۔۔!
بڑی بڑی عمارتوں سبز اور سرخ بتی والی گاڑیوں میں بیٹھے اقتدار کے پوچاریوں کی نگاہوں میں ہم چھوٹے ضرور نظر اتے ہیں
مگر ہمارے حوصلے بولان کی سنگلاخ پہاڑوں کی طرح بلند ہیں
ہم نے ظالم کی طرف انگلی اٹھا کر اسکے منہ پر اسے ظالم اور جابر کہا اسکی بربریت کی کہانی انکوں بتاتے ہوئے ہچکچائے نہیں ان قلم پروش ضمیر پروشوں کی طرح ڈرے نہیں ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے رہے :
ہم نے ایسی سیاہ تاریک راتیں پہلے بھی دیکھی ہیں مگر اس سحر کی امی�� ہماری جیت کی چاہ ہمارے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی ہیں ۔
ہم اس وقت تک لڑیں گے جبتک لڑنے کی ضرورت باقی ہ��
یہ لڑائی صرف بلوچوں کی نہیں پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والی زیر دست اقوام کی لڑائی ہے جس کو منزل تک پہنچائیں گے
رات باقی ہے سفر اور سفر اور سفر
#MarchAgainstBalochGenocide
In the name of security and sovereignty, both Pakistan and Iran have endangered the lives of ordinary Baloch children and women.
Under the pretext of safeguarding their security and sovereignty, missiles are indiscriminately deployed against Baloch, which has put the safety of Baloch at grave risk on both sides of the border.
The ongoing Baloch genocide continues to escalate, leaving the well-being of Baloch lives compromised and vulnerable. The unsettling reality is that the name of security is being misused. This has resulted in the tragic victimization of innocent Baloch civilians, particularly women and children.
#StopBalochGenocide
Due to my activism in the fight against enforced disappearances and rights abuses in Balochistan, I am continuously being targeted and am at risk. The State of Pakistan, caretaker Prime Minister Anwaar Ul Haq Kakar, and government spokesman Jan Achakzai should be held accountable for any harm to me, my family, and loved ones.
The state should know that my peaceful struggle to expose human rights violations in Balochistan will continue, despite threats, intimidation, malicious campaigns, and harassment from the state.
@amnestysasia, @hrw, @freedomhouse, @FrontLineHRD, @ProtectHRD_EU, @EUPakistan, @RKionka, @HRCP87, @UNinPak
#MarchAgaisntBalochGenocide
زاکر جان ہم نے آپ کی صرف چند تصاویر اور تقاریر سُنی ہونگی مگر یہ نااہل آپکی نظریے کو قید نا کر پاۓ آج ڈی جی خان تا مکران مزاحمت کررہا ہے
لمہ جان آج بھی کہی جاتی ہے تو آپ کے بہت سے ساتھی اُن کے پاس آتے ہیں اور ہر ایک ساتھی میں لمہ کو آپکی جھلک آتی ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
The Baloch women are shaping history.
They are the epitome of strength and spreading hope to the next generation.
I am honoured to witness the bravery of beautiful and powerful Baloch women who stand tall against all repression and keep on unwavering fight against injustices.
اسلام آباد : ایک تصویر میں اس سے زیادہ درد نہیں سما سکتی
آنکھوں کی بینائی تقریبا جا چکی ہے مگر پھر بھی اسلام آباد دھرنے میں موجود یہ اماں چاہتی ہے کہ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے جگر کے ٹکڑے سے لپٹ کر جی بھر کر رو لے اور اس دنیاوی غم کو اپنے ساتھ نہ لے جائے
ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے تو اس ریاست کے پاس اس ماں کو کہنے کے لیے کچھ بچا ہے ؟
بقول مینر نیازی
چاہتا ہوں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
#MarchAgainstBalochGenocide
ریاست اور جنگی منافع خور اپنی آنکھیں کھول کر دیکھ لیں، یہ عوامی تحریک ہے، ملیر سے ڈی جی خان تک عوامی قوت اس تحریک کے ساتھ ہے اور سب سے اہم بات ہزاروں خواتین ہمارے اس تحریک کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔
اس تحریک کو طاقت اور تشدد سے شکست دینا اب خام ��یالی ہے۔ جو دوسرے کو گوگل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اب ہم ان کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ دنیا کے عوامی تحریکوں کا مطالعہ کریں اور اپنے علم میں اس بات کا اضافہ کریں کہ عوامی تحریکوں کو طاقت اور تشدد سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔
ایک اور اہم بات اب یہ تحریک رکنے والی نہیں، اب اس تحریک کے خواتین بلوچ نسل کشی کے خلاف اس تحریک کو ہر گھر میں پہنچائے گے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد : اس ٹھٹھرتی خون جما دینے والی سردی میں جہاں گھروں میں بند کمروں میں بھی بغیر ہیٹر زندگی کرنا مشکل ہے وہاں چھوٹے چھوٹے بچے 80 سال سے اوپر بزرگ عورتیں اور مرد کھلے آسمان تلے اس ریاست کے شہری ہونے کی قیمت ادا کررہے ہیں اور ریاست کا آئین قانون انکوں تحفظ دینے مطالبات ماننے کے بجائے چند دروغ گو مقتدرا کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے
مجھے یقین ہے یہ سیاہ تاریک یخ بستہ سرد راتیں بھی کبھی نہ کبھی تو صبح نو کی نوید لے کر ضرور ائیں گی
#MarchAgainstBalochGenocide
ہم (بلوچستان والوں ) پر نمائندگی کے نام پر ایسے لوگ مسلط کیے گئے ہیں جنکوں ہم جانتے تک نہیں ہیں
محترمہ کو ہمارا یہ احتجاج بلیک میلنگ اور سازش نظر آتی ہے اور سالوں سے ہمارے احتجاج نظر نہیں اتے
ایک عورت ہوکر کوئی کیسے Gender discrimination کرسکتی ہے ؟
محترمہ سیاست میں نئی نئی آئی ہیں وگرنہ ہم گزشتہ ایک دہائی سے زائد اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہے ہیں
ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے نہ دیں ہمیں کسی سازش بلیک میلنگ سے جوڈ کر ہمارے زخموں کو مزید نہ کریدیں
ہم کہتے کہتے تھک چکے ہیں کہ ہمارے پیارے بازیاب کریں مزید جبری گمشدگی بند کریں زیر حراست لوگوں کو قتل کرنا چھوڈ دیں آپکو اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے یہ چھوٹے چھوٹے معصوم بلیک میلر اور سازشی نظر نہیں آئیں گے
So very proud of you. You've become such a strong voice for the voiceless. You took the stand where even the strongest shy away. More power to you 💪🏾✌️🏾👍🏾
From Aged ones to Little Souls Baloch is well aware of the very Needs of Reading of the Books.
And in keeping view the Zealousness of Masses to the Reading here is the Org’s (@BSAC_org ) Decision on the Eve of New Year at Saryab Shaal.
#BalochistanKitabKarwan
ھزار مراد پہ منی ڈیھ ءِ مکھیں ماتاں
کہ مرچاں موتک نیارانت تمردیں تران کن انت
مبارک قاضی
A thousand salutations to the revered mothers of my homeland
They no longer mourn but speak with audacity and courage
Translated by Fazal Baloch
It cannot get stronger and more painful than this. Despite Balach’s martyrdom, his family haven’t quit the march and chant for justice. They say it is now about all the Baloch who are facing forced detentions. They joined the camp in Islamabad today.
#MarchAgainstBalochGenocide