کہ رہے ہیں کہ کوئ نظیر نہی ملتی کسی مریض کو سرکاری ہسپتال کی بجائے پرائیویٹ میں لے جایا جائے۔یہ جھوٹ۔نواز شریف کو زاتی ہسپتال تو چھوڑیں جاتی عمرہ میں منتقل کر دیا اور وہ اتنے صحت یافتہ تھے کہ پہلے انہوں نے بزرگوں کی قبروں پر حاضری دی۔ کوئ پولس نہی تھی۔ ٹوٹل خاندان کا کنٹرول تھا
آج پہلے شرجیل میمن سے پریس کانفرس کرائی گئی اور اب اس کے جواب میں عظمیٰ بخاری سے پریس کانفرنس کروائی جارہی ہے،
ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان کو سنتے ہیں یا یہ لوگوں کو بیوقوف بنا پائیں گے؟
انہیں شکلوں کی وجہ سے ہی تو لوگوں کو ٹی وی چینلز سے نفرت ہوئی ہے اور ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ہے
پہلے محسن نقوی کا بیان سسٹم ناکام ہو چکا اور اب پیپلزپارٹی کا بار بار کہنا کے نون لیگ نے 2024 کا انتخاب بری طرح ہارا۔ اب مختارا ہی بتا سکتا ہے کیا واقع ہی گل ودھ گئی ہے۔
سینیٹر مشتاق جو کے امن کا پیغام لے کر کشمیر جا رہے تھے انہیں اٹھا لیا گیا تھا۔ شکر ہے عقل و فہم کا فیصلہ ہوا اور اب رہا کر دیا گیا۔ لیکن اگر سینیٹر مشتاق جیسے قانون، جمہوریت اور امن کی بات کرنے والوں کی بات بھی طاقت سے دبا دیں گے تو لاوا پکنے کے علاوہ اور کیا ہو گا؟
میں حیران ہوں عمر چیمہ جیسے لوگ جب سٹیٹمنٹ دیتے ہیں ان کو بھی صحافی کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں
کشمیر کے لوگوں کو پاکستان نے جو پروٹیکشن دی ہے اگر 12 گھنٹے وہ پروٹیکشن ختم ہو جائے تو بھارت انہیں کچا کھا جائے
پاکستان میں ان کو سینئر صحافی کہا جاتا ہے ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ معاملات کو ٹھنڈا کیسے کیا جاتا ہے
سید ذیشان
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊
یہ ویڈیو نہ مقبوضہ کشمیر سے ہے، نہ مقبوضہ فلسطین سے۔ یہ کوٹلی آزاد کشمیر کی آج کی ویڈیو ہے۔ جس ظلم، بربریت اور دہشت گردی کا مظاہرہ پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت کام کرنے والی پولیس نے آزاد کشمیر میں لوگوں کے خلاف کیا ہے، اس کی مثال صرف مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہی ملے گی۔