🇵🇰🇨🇳 Pakistan and China have signed a deal to build a lithium-ion battery plant in Karachi's Korangi Industrial Area.
Initial output will be around 2,000 batteries per month.
بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے 11 ارب کا تھرمل پاور پلانٹ خرید کر 600 یونٹ تک بجلی فری کردی صوبے میں.
جس سے تقریبا 80 فیصد گھروں کا بل مفت ہو گیا ہے.
اور ھماری وزیر اعلی نے 11 ارب کا جہاز خرید لیا جسکا عوام کو ایک ٹکے کا فایدہ نہی ھے ؟؟
سندھ بدل نہیں رہا سندھ بدل چکا ہے
آج سندھ کے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے کرپٹ جاگیردارانہ اور پیپلز پارٹی کے مسلط کردہ فرسودہ نظام کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جدوجہد کی بنیاد رکھ دی ہے
#PPPmeritmurderer
بیٹا
آپ کا پیغام مجھ تک پہنچ گیا ہے
میں اس زیادتی پر نہ صرف خود آواز اُٹھا کے آزاد تحقیق کا مطالبہ کررہی ہوں بلکہ میری سندھ حکومت سمیت وزیراعظم صاحب @CMShehbaz اور @TararAttaullah سے درخواست ہے کہ سندھ کے ان باصلاحیت نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچائیں
اب تو یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ آصف علی زرداری اور پی پی پی ریاستی ایسٹیبلشمنٹ کی پاور پالیٹکس میں شریک نہیں ہیں ۔ بلکہ کھلی اپوزیشن ہیں ۔ ہم روز اول سے لکھ رہے ہیں کہ 2024 کے الیکشن سے پہلے ہی صرف پی پی پی نے SIFC اور دیگر ریاستی بندوبست میں فوجی بالادستی کا انکار کیا تھا ۔ جس پر ریاست نے
2024 کے الیکشن میں پی پی پی کو اپنے راستہ کی واحد رکاوٹ مان کر پنجاب اور پختونخوا میں جہاں جہاں اس کا بس چلا ۔ کچل دیا تھا ۔ بدقسمتی سے نواز لیگ الیکشن میں مجوزہ بندوبست کے باوجود سنگل لارجسٹ جماعت نہ بن سکی ۔ اور عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اجازت اور عام معافی کے اعلان کے بغیر پارلیمانی جماعت کے طور پر کردار ادا کرنے اور حکومت بنانے سے انکار کر دیا ۔
اس صورتحال میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی مجبوری بن گئی اور پارلیمانی نظام کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی گئی ۔
ایس ائی ایف سی اور فوجی بالادستی کے کچھ اور مظاہر کی موجودگی میں پیپلز پارٹی 2024 میں الیکشن کے بعد حکومت کا حصہ بننے سے انکاری رہی ۔
2002 میں بھی پرویز مشرف کے ساتھ پارٹنرشپ نہ ہونے کے پیچھے یہی مطالبہ تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے جمہوری چہرے پر کوئی سیاہ نشان لگوانا پسند نہیں کرتی ۔
پیپلز پارٹی نے پارلیمان میں اپنے طاقتور وجود کی بنا پر صدر کی نشست میں کامیابی حاصل کی اور مسلم لیگ نواز کو وزیراعظم بنوانے کے لیے مطلوبہ ووٹ دیے ۔
لیکن پالیسی پر اختلافات پہلے روز سے ہی نمایاں نے دکھائی دیتے ہیں ۔
ہم بار بار کہتے ہیں کہ پنجاب اور پختون خواہ میں پیپلز پارٹی کو داخلہ کی اجازت نہ دے کر درحقیقت اور یہ بات اصف علی زرداری الیکشن سے 50 روز قبل عاصمہ شیرازی کو دیے گئے انٹرویو میں کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کی کامیابی کا راستہ پی پی پی کو روک کر بنایا گیا ۔ کیونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر یا پی ٹی آئی کے لوگ ریاستی میں فوجی عزائم کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے اور نہ ہوں گے ۔ عمران خان نے آج تک موجودہ حکومت کو موجودہ حکومت کے ون پیج بندوبست کو حافظ عاصم منیر کو یا اس کی خارجہ پالیسی کو کبھی کسی ایک وقت پر چیلنج نہیں کیا ۔
پیپلز پارٹی اپنے معاملات اختلاف کو کمیٹیوں اور پارلیمان کے اندر طے کرنے کی عادی رہی ہے ۔ کبھی میڈیا پر نمبر ٹانکنا یا پروپیگنڈا کرنا پیپلز پارٹی کا کام نہیں رہا۔
اس لیے میڈیا میں جو کچھ بھی آتا ہے وہ پیپلز پارٹی کے مخالفت میں آتا ہے ۔ پیپلز پارٹی پاپولسٹ جماعت نہیں ہے وہ قومی حساس معاملات کو ہمیشہ سے پردہ کے پیچھے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔
گزشتہ چھ مہینے سے مسلم لیگ نواز کے لیے ادائیگی پر لکھنے والے پروپیگنڈسٹ اور دیگر میڈیا میں موجود سب طاقتور لوگ جو ریاستی مقتدرہ کے اشارے پر بات کرتے ہیں سب بالاتفاق ایک بات کر رہے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری اور سندھ حکومت خطرہ میں ہیں ۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ جو بھی پارلیمانی بالادستی کی بات کرے گا ۔ جمہوریت اور عوام کے حقوق کی بات کرے گا ۔ عوام کی معیشت کی بہتری کا منصوبہ پیش کرے گا اور ریاستی مقتدرہ کو اپنے اخراجات اور وسائل کا ضیاع کرنے سے روکنے کی تجاویز دے گا ۔ وہ ناپسندیدہ ٹھہرے گا اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قیام کے روز سے آج تک ججوں ، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی ناپسندیدہ ترین جماعت ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن ہونے کے ناطے اس امر پر تسلی اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ بالاخر پورا میڈیا اس بات کو مانتا ہے کہ ریاستی مقتدرہ کی بالادستی کو پورے پاکستان میں کسی بھی وقت اور آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اپنی کمزور ترین اور محدود ترین پوزیشن اور حیثیت کے باوجود ایسے چیلنج دے رہی ہے کہ وہ پیچ و تاب کھاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔
بار بار لکھتا ہوں اس ملک میں دو ہی نظام ہیں ۔ ایک پیپلز پارٹی کا عوام دوست نظام اور ایک اس سے متصادم مخالف تمام کٹھ پتلی مبینہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی مقتدرہ کا انتظام جس میں ریاست کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور بربادی کا تمام تر اختیار سرکاری ملازموں کے ایک محدود طبقہ کو ہوتا ہے ۔
تحریر
شرافت رانا ۔
——————————
Post authored by @SystemExpertPk and shared via @FaheemSattarDal
فروری 1 سے اب تک → پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 56٪ اضافہ، جبکہ بھارت میں کوئی تبدیلی نہیں:
1: نئی دہلی: ₹94.72 - > ₹94.72
2: بنگلہ دیش: تقریباً BDT130 - > کوئی تبدیلی نہیں
3:پاکستان: Rs257 <-Rs399.86 (+56%)..
ایک ہی آئل سٹاک
مختلف پالیسی