#Reality_Of_KarwaChauth
سنت غریب داس جی کی وانی ہے :-
کہے جو کروا چوتھ کہانی، تاس گدہری نِشچئے جانی۔
کریں ایکادشی سنجم سوئی، کروا چوتھ گدہیری ہوئی۔
یعنی کروا چوتھ کا ورت رکھنے والی اگلے جنم میں گدھی بنے گی۔
#Reality_Of_KarwaChauth
آن دھرم جو بسے کوئی کرو نر ناری۔
غریب داس جندا کہے، وہ جاسی نرک دوار۔
ایک پرمیشور کو چھوڑ کر جو دوسری سادھناؤں کو من میں بسائے بیٹھے ہیں وہ نرک میں جائینگے۔
#Reality_Of_KarwaChauth
آن دھرم جو بسے کوئی کرو نر ناری۔
غریب داس جندا کہے، وہ جاسی نرک دوار۔
ایک پرمیشور کو چھوڑ کر جو دوسری سادھناؤں کو من میں بسائے بیٹھے ہیں وہ نرک میں جائینگے۔
#Reality_Of_KarwaChauth
غلط فہمی : کروا چوتھ ورت کرنے کی غلط فہمی ہے کہ اس سے پتی کی عمر بڑھ جاتی ہے۔
سچائی:- اس غلط فہمی کے مطابق پھر تو ہندو بہن بیٹیاں وِدھوا نہیں ہونی چاہیے۔ کروا چوتھ کا ورت شاستروں کے خلاف ہے جس سے کسی کی عمر نہیں بڑھتی۔
بلکہ رگوَید منڈل 10 سُکت 161 منتر
#Reality_Of_KarwaChauth
کروا چوتھ رکھنے والوں کو فائدہ ہوتا ہے یا نقصان؟
جواب : سنت غریب داس جی کی وانی میں لکھا ہے :
کہے جو کروا چوتھ کہانی، تاس گدہیرے نشچئے جانی۔
کرے ایکادشی سنجم سوئی، کروا چوتھ گدہیری ہوئی۔
آٹھے ساتے کرے کندوُری، سو تو بنے نیچ گھر سُوری۔
وانی سے واضح ہے کہ
#سچا_ستگُرو_کون
سنت رامپال جی مہاراج ہی واحد سچے ست گُرو ہیں جو شاستروں کے بتائے مطابق تین وقت کی بھگتی اور تین طرح کے منتر جاپ اپنے سادھکوں کو دیتے ہیں جس سے انہیں سارے سُکھ ملتے ہیں اور انکا موکش کا راستہ بھی آسان ہو جاتا ہے.
#سچا_ستگُرو_کون
گُرو بِن کاہُو نہ پایا گیانا، جیوں تھوتھا بُھوش چھڑے مُوڈھ کِسانا۔
گُرو بِن وید پڑہے جو پرانی، سمجھے نہ سار رہے اگیانی۔
کبیر نو من سُت اُلجھیا، رِشی رہے جھک مار۔
ست گُرو ایسا سُلجھا دے الجھے نا دُوجی بار۔
#سچا_ستگُرو_کون
کبیر، ست گُرو کے دربار میں، جائیو بارم بار۔
بُھولی وستُو لکھا دیوَے، ہے ست گُرو داتار۔
ہمیں سچے گُرو کی شرن میں آکر بار-بار اُن کے درشنوں کے لیے جانا چاہیے اور گیان سُننا چاہیے.
#سچا_ستگُرو_کون
گیتا ادھیائے 15 شلوک 1 میں گیتا گیان داتا نے تتوَدرشی سنت (سچے ست گُرو) کی پہچان بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سنت سنسار روُپی پیڑ کے ہر حصے مطلب جڑ سے لے کر پتوں تک کا گیان آپ کو تفصیل سے سمجھا دے گا۔
#سچا_ستگُرو_کون
ست گُرو ملے تو اِچھا میٹے، پد مل پدے سمانا۔
چل ہنسا اُس لوک پٹھاؤں، جو آدی امر استھانا۔
اِچھا کو صرف ست گُرو مطلب تتوَدرشی سنت ہی ختم کر سکتا ہے اور حقیقی بھگتی مارگ پر لگا کر امر پد مطلب پُورن موکش حاصل کراتا ہے.
#سچا_ستگُرو_کون
پُورن گُرو کی پہچان!
پُورن گُرو تین طرح کے منتروں (نام) کو تین بار میں اُپدیش کرے گا جس کا ذکر کبیر ساگر گرنتھ پیج نمبر 265 بودھ ساگر میں ملتا ہے وہ گیتا جی کے ادھیائے نمبر 17 شلوک 23 و سام وَید سنکھیا نمبر 822 میں مِلتا ہے.
#سچا_ستگُرو_کون
کبیر صاحب جی اپنی وانی میں کہتے ہیں کہ -
جو مم سنت ست اُپدیش درڑاوے (بتاوے)، واکے سنگ سبھی راڑ بڑاوے.
یہ سب سنت مہنت کی کرنی، دھرم داس میں تو سے ورنی.
کبیر صاحب جی اپنے پِیارے شِش دھرم داس کو اِس وانی میں یہ سمجھا رہے ہیں کہ جو میرا سنت ست بھگتی مارگ کو بتا
#سچا_ستگُرو_کون
کبیر، ست گُرو شرن میں آنے سے، آئی ٹلے بلائے.
جے مستک میں سُولی ہو، وہ کانٹے میں ٹل جائے۔
ست گُرو مطلب تتوَدرشی سنت سے اُپدیش لیکر مریادہ میں رہ کر بھگتی کرنے سے پچھلے کرم کے پاپ کے مطابق اگر نصیب میں سزائے موت ہو تو وہ پاپ کرم ہلکا ہوکر سامنے آئے گا. اس سادھک
#سچا_ستگُرو_کون
جو پُورن ست گُرو ہوگا اس میں چار اہم گُن ہوتے ہیں :-
گُرو کے لکشن چار بکھانا، پرتھم وید شاستر کا گیانا (گیاتا).
دُوجے ہری بھگتی من کرم وانی، تیسرے سم درشٹی کر جانی۔
چوتھے وید وِدھی سب کرما، یہ چار گُرو گُن جانو مرما۔
کبیر ساگر کے ادھیائے "جیوَ دھرم بودھ" کے
#سچا_ستگُرو_کون
جیسے کمہار کچے گھڑے کو تیار کرتے وقت ایک ہاتھ گھڑے کے اندر ڈال کر سہارا دیتا ہے. پھر اُوپر سے دوسرے ہاتھ سے چوٹیں لگاتا ہے. اگر اندر سے ہاتھ کا سہارا گھڑے کو نہ ملے تو اوپر کی چوٹ کو کچا گھڑا سہن نہیں کر سکتا وہ ٹوٹ جاتا ہے. اگر تھوڑا سا بھی ٹیڑاپن گھڑے میں رہ
#سچا_ستگُرو_کون
بِن ست گُرو پاوے نہیں خالق کھوج وِچار۔
چوراسی جگ جات ہے، چِنہت ناہیں سار۔
ست گُرو کے بغیر خالق (پرماتما) کا وِچار یعنی حقیقی گیان نہیں ملتا۔ جس وجہ سے سنسار کے لوگ چوراسی لاکھ قسم کے پرانیوں کے شریروں کو حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ سار نام، مُول گیان کو نہیں پہچانتے