"They Thought Trump Would Help Free Imran Khan – But They Were Terribly Wrong"
The former Pakistani leader remains behind bars, prompting those Pakistani-American groups that backed Trump and Republicans in 2024 to now worry they got 'played' by Trump.
https://t.co/EBWO22Ktqt
لونڈا لپاڑہ کہتا تھا کہ سائفر سچا ہوا تو میں صحافت چھوڑ دوں گا، تو چھوڑ دے اب صحافت،
شہباز شریف کہتا تھا کہ اگر سازش ہوئی سائفر کی شکل میں تو میں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے کر عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں گا، تو چھوڑے اب عہدہ اور عمران خان کا ساتھ دے، زورین نظامانی
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پ��ھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئ��، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی ��ونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — ��و 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیر��نی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
اب تو ثابت ہو چکا ہے کہ ان جنرلوں نے ایک امریکی دھمکی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا-
اگر ان جنرلوں پر آرٹیکل 6 نہیں لگتا تو پھر کس پر لگتا ہے؟
یہ غدار ہیں!
#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا#سائفر_ایک_حقیقت
��اریخ میں پہلی بار دو حاضر سروس جرنیل سائفر کو جھوٹا قرار دینے آئے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ تاریخ اپنے فیصلے خود کرتی ہے؛ آج عمران خان کا موقف سچ ثابت ہوا اور میر جعفر و میر صادق کے کردار واضح ہو گئے۔
⚡️ Drop Site News has published for the first time the full Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic telegram dated March 7, 2022, that Imran Khan has cited as evidence of a U.S.-backed conspiracy to remove him from power.
The cable, sent from Pakistan’s ambassador in Washington to the Foreign Secretary in Islamabad, documents a luncheon meeting between Ambassador Asad Majeed Khan and U.S. Assistant Secretary of State for South and Central Asia Donald Lu.
According to the cable, Lu told the ambassador that Washington’s grievances with Khan’s government could be set aside if Khan were removed through a no-confidence vote. “I think if the no confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister,” Lu said, per the cable.
“Otherwise, I think it will be tough going ahead.”
In his own assessment, the ambassador wrote that Lu “could not have conveyed such a strong demarche without the express approval of the White House” and had “spoken out of turn on Pakistan’s internal political process.”
The cable was marked Secret, No Circulation, and distributed to Pakistan’s Secretary to the Prime Minister, Foreign Secretary, Chief of Army Staff, Director General of the ISI, and the Director of the SSP Section.
Khan was removed via no-confidence vote on April 9, 2022, six weeks after the meeting. He has been imprisoned since 2023, and has been held in solitary confinement since last year.
🔗 Read the full Drop Site report tracing how the U.S.-Pakistan relationship moved from mutual suspicion to full political embrace at the link below.
بریکنگ : سائفر منظرِ عام پر آ گیا ہے — عمران خان درست تھا، فوج جھوٹ بول رہی تھی... وجاہت سعید خان
@WajSKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan
After this reaffirmation of US regime change conspiracy that was evident from the cipher message sent by our Envoy in Washington conveying State Dept Lu's threat, it is surely duty of CJP to form Commission to hold public hearings on who all were involved here in this conspiracy.
یہ ہے وہ حرام خور جج ابولحسنات جس نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10 - 10 سال قید کی سزا سنائی تھی
یہ جج اپنے حلف سے غداری کا مرتکب ہوا ہے، اس کو ضرور کٹہرے میں لایا جائے گا
سائفر کی اصل کاپی امریکہ میں شائع ہوگئی
جنرل باجوہ مریم نواز جلسوں میں سائفرکو جھٹلاتےرہےحقیقت واضح ہوگئی کہ بیرونی حکم پرپاکستان کی اینٹ سےاینٹ بجادی گئی اب اگرفوج میں واقعی احتساب کا قانون ہے تو جنرل باجوہ کیخلاف مقدمہ چلایا جائیگا؟؟؟
The story of the cypher points toward one man: General Bajwa.
He misled both Pakistan and the United States — portraying the elected PM to US officials as “anti-US” and hostile to American interests, while inside Pakistan he worked to orchestrate a Vote of No Confidence by engineering alliances and buying loyalties. The objective? Install a compliant puppet setup and secure his own extension. Pakistan paid the price for this extension game.
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
پاکستان کے لیے عمران کی اچیومنٹ اور قربانیاں گنی جائیں تو وہ پہاڑ کی مانند ہیں ، ملک کا کوئ صوبہ کوئ شہر یا گاؤں ایسا نہیں جہاں عمران خان کا جانثار نہ ہو اس کا کوئ چاہنے والا نہ ہو مگر اس کے برعکس اس جرنیل کی چھاتی پر لگے میڈل دیکھیں اور معرکہ حق کا چورن بیچنے کے سوا اس کے پلے کچھ نہیں بلکہ الٹا آئین شکن ہے ، ائیر فورس کے پائلٹ نے جہاز گراۓ ان کے میڈل بھی یہ لے گیا 👏👏👏👏