@cutehunmee پورے پاکستان کو اگر کوئی سیدھا کرسکتا ھے تو وہ ھے
فوج کا ڈنڈا مارشل لا
پہر جو ریٹ مقر ھوگا وھی چلے گا
دوسرا فائدہ سیاسی بٹیروں کی ٹریں ٹریں ختم ھو جاتی ھے سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاتے ھیں شور شرابہ ختم بس سکون کی زندگی شروع
میرا اکاونٹ جو کچھ عرصہ سے ھیک ھو چکا ھے مجھے پتہ کہ کیا ھورا ھے لیکن ملک و قوم کے خلاف جو کچھ بھی میرے اکاونٹ سے شیر ھورھا ھے فوج کے خلاف مجھے پتہ نہی چل رھا لہذا میں بند کرتا ھوں اکاونٹ
شیم شیم شیم
جب جوان اپنے ھی قوم پر عوام پر شخصی آکٹرائینوں کے لئے حملہ اور ھو تو کیا وہ شہید ھوگا زرا مفتی اعظم مفتی نظام الدین شامزئ کا فتوی پڑ لیا لیں
یہ رھی مریم نواز کی تقریر
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر اسی طرح کا ردعمل آرہا ہے جس طرح منور حسن کے بیان پر ہنگامہ برپا ہوا تھا۔مجھے لگتا ہے مولانا دراصل کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ سیاستدانوں کا کام سیاسی محاذ پر ملک کا دفاع کرنا ہے ناں کہ لشکر بنا کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا۔ملک کی جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا ان کا فرض ہے جنہوں نے وردی زیب تن کررکھی ہے ۔مگر مولانا تمام تر فصاحت و بلاغت کے باوجود آپنا مطمح نظر واضح نہیں کرسکے۔تاثر یہ ملا کہ وہ شہدا کو تنخواہیں وصول کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔دیکھیں مشاہرہ وصول کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدمات اور قربانیوں کو مال و زر کے پلڑے میں تولا جائے۔اگر یہ موقف درست تسلیم کرلیا جائے تو کیا مسلم فاتحین نے کشور کشائی اور مال غنیمت کے لیئے فتوحات کیں؟ انسان کسی جذبے ،سوچ،فکر،نظریئے اور عقیدے پر جان قربان کرتا ہے ۔ میری دانست میں مولانا کے الفاظ کا چنائو بہتر نہیں تھا تاہم اس کے جواب میں جس قماش کے افراد کو متبادل بیانیہ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اس سے یقیناً شہدا کی توقیر میں کسی اضافے کا امکان نہیں
@AwanAslamAwan1 جب شخصی ڈاکٹرائینوں کے جوان بکسی چوری کرتے ھیں تو انکا ایمان گھسا چرنے جاتی ھے
یس سر کہنے کا مطلب ھے بارڈر پر جاو انڈیا سے لڑو ایران سے لڑو فلسطین جاکر لڑو تو شہید کہلاوگے جب اپنے ھیمسلمان کو نعرہ تکبیر پڑھ کر ماروگے تو مفتی نظام الدین شہید کا فتوی یاد ھے کہ نہی