پراپرٹی کیس میں MQM کے بانی اور مہاجروں سمیت تمام مظلوموں کے قائد جناب الطاف حسین کےحق میں فیصلہ آنے پر مظلوموں کےرہبر، ہمارے دلبر @AltafHussain_90 اور ان کےتمام وفاپرست ساتھیوں اور تمام وفا پرست ماؤں بہنوں بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں کو اس فیصلے پر مبارکباد
#AltafWinsAgain
کورٹ آف اپیل میں تاریخی فتح پر تمام وفاپرست کارکنان وعوام کودلی مبارکباد پیش کرتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16جولائی 2024ء
میں،رائل کورٹ آف جسٹس کی اعلی عدالت کی کورٹ آف اپیل میں ایم کیوایم کی اپیل منظور ہونے اور لندن میں پراپرٹیز کیس میں تاریخی فتح پرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں موجود ایم کیوایم کے تمام کارکنوں،ہمدرد ماؤں ، بہنوں، بزرگوں ، نوجوانوں اورمعصوم بچوں کو دلی مبارکباد پیش کرتاہوں اور مقدمات کے سلسلے میں مالی تعاون اور مقدمات میں کامیابی کے لئے دعائیں کرنے والے تمام وفاپرست کارکنوں، ماؤں، بہنوں، بزرگوں، بیٹیوں، معصوم بچوں کو ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ دلی مبارکباد اورسلام تحسین پیش کرتاہوں۔
لندن میں پراپرٹی کیس کے مقدمے کی پیروی کرنے والے بیرسٹررچرڈسلیڈ(Richard Slad) مقدمے کےلئے قانونی خدمات فراہم کرنے والی برطانیہ کی معروف لیگل فرم CM Atif & Co کےسینئر وکیل چوہدری محمد عاطف ،ان کے صاحبزادے سلمان عاطف اورقانونی معاونت کرنے والے دیگر کارکنان سے بھی دلی تشکرکااظہارکرتاہوںاور ان کی صحت وعافیت کیلئے دعائیں کرتاہوں۔
پاکستان کے کرپٹ فوجی جرنیلوں کے کاروبار !
لندن میں APMSO یوم تاسیس کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوۓ، ایم کیؤ ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے پاکستانی فوج کے کرپٹ جرنیلوں کو بےنقاب کیا!
#11JuneAltafKaJunoon#AltafHussainAddressToNation
اے پی ایم ایس اوکے 46 ویں یوم تاسیس کے اجتماع کے شاندار انعقاد پر MQM UK کے سینٹرل آرگنائزر سہیل خانزادہ ، آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان اور یوکے یونٹ کے ایک ایک کارکن کوزبردست خراج تحسین
👏👏👏👏👏👏👏👏👏👏👏👏
#11JuneAltafKaJunoon#AltafHussainAddressToNation
میں ہفتہ کولندن میں APMSO کے 46 ویں یوم تاسیس کے اجتماع کے شاندار انعقاد پر ایم کیوایم یوکے کے سینٹرل آرگنائزر سہیل خانزادہ ، آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان اور یوکے یونٹ کے ایک ایک کارکن کوزبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نےاس اجتماع کے انعقاد کےلئےدن رات محنت کی اوراسے شاندار اور کامیاب بنایا۔میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ان وفاپرست ساتھیوں کو تحریکی جدوجہد میں اسی طرح ثابت قدم رکھے۔آمین
آپریشن #عزم_استحکام سےملک مزید غیرمستحکم ہوگا
——————
بیرونی قوتو ں کے مفاد کےلئے آپریشنوں کی پالیسی ترک کی جائے
————————
#عزم_استحکام_آپریشن_نامنظور#Azm_e_Istehkam
پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے 1979ء میں امریکہ اورروس کی سردجنگ کاحصہ بنکر عالمی قوتوں کےمفادات کےلئے ملک بھرمیں جہادی مدرسے قائم کئے، مجاہدین بنائے،انہیں ٹریننگ دیکر افغانستان بھیجا اورافغان جہاد کےنام پر افغانستان کو جنگ کی آگ میں جھونکا، اس کےلئے امریکہ سے بوریوں میں بھر بھر کےڈالر وصول کئے اور عالمی طاقتوں کی مددسے 1992ء میں افغانستان کی حکومت ختم کرکے وہاں صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں مجاہدین کی حکومت قائم کی ،بعد میں بیرونی قوتوں کے مفادات کے لئے انہی مجاہدین کی حکومت کاخاتمہ کرنے کےلئے طالبان کےنام سے نئےنئے جہادی گروپس بنائےجنہوں نے جنگ سے تباہ حال افغانستان کومزید تباہ کیا اوروہاں اپنےمفاد کےلئے 1996میں ملاّعمرکی سربراہی میں طالبان کی حکومت قائم کی ۔پھر2001ء میں نائن الیون کےواقعے کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو پاکستان کے فوجی جرنیلوں نے عالمی طاقتوں سے ایک بار پھراربوں کھربوں ڈالر لیکر ملاّ عمر کی طالبان حکومت کے خاتمہ کے لئےسہولت کاری کی ،عالمی طاقتوں کے منصوبے کے تحت افغانستان میں 2001ء میں حامدکرزئی اور2014ء میں اشرف غنی کی حکومتیں قائم کی گئیں ۔فوج کے جرنیلوں نےایک طرف تو حامدکرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کی حمایت کی تو دوسری طرف انہی کےخلاف مزید نئے نئے طالبان گروپس قائم کئےجنہوں نےافغانستان اور پاکستان میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اوردہشت گردی کی کارروائیوں کا نیاسلسلہ شروع کیا۔ اوریوں افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کوبھی دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ فوج کے جرنیلوں نے جن طالبان کوبنایا انہی کو مارنے کےلئے بیرونی قوتوں سےمزید ڈالرز وصول کئے اوران حاصل کردہ ڈالروں کے عوض انہیں ڈرون حملوں اوربمباری کی اجازت دی ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوج نے خود بھی قبائلی علاقوں میں مختلف آپریشنوں کے نام پر بمباری اورگولہ باری کر کے ہزاروں معصوم قبائلیوں کومارا۔ان پالیسیوں کےنتیجے میں افغانستان اور پاکستان میں معصوم پشتونوں کاجتناخون بہایا گیا، اتناتاریخ میں کبھی نہیں بہایا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اوردیگرصوبوں میں بھی ہزاروں معصوم پاکستانی خودکش حملوں، بم دھماکوں اوردہشت گردی کی دیگر کارروائیوں کانشانہ بنے۔
فوج کے جرنیلوں نے ایک طرف توطالبان اور مختلف عسکری تنظیمیں اورخودکش بمبار تیارکرکے افغانستان اور پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکا تودوسری طرف کشمیرمیں جہاد کے نام پر درجنوں جہادی تنظیمیں بنائیں جنکی تفصیل اخبارات میں شائع ہوچکی ہے جن میں سے پاکستان کی ایک جہادی تنظیم کے ارکان 26نومبر2008ء کو ممبئی میں ہونے والے ایک بڑے دہشت گردحملے میں ملوث پائے گئے۔
فوج نےگزشتہ 22برسوں میں عالمی قوتوں کے ایجنڈوں کی تکمیل اور اپنے مفادات کے تحت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور اس کے قبائلی علاقوں میں کئی آپریشن کئے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
آپریشن المیزان… 2002
آپریشن راہ ِ حق… 2007
آپریشن صراط ِ مستقیم… 2008
آپریشن زلزلہ… 2008
آپریشن شیر دل… 2008
آپریشن راہ ِراست… 2009
آپریشن بلیک تھنڈراسٹورم…2009
آپریشن راہ ِنجات… 2009
آپریشن بریکھنا… 2009
آپریشن کوہ ِ سفید… 2011
آپریشن ضرب ِ عضب… 2014
آپریشن ردّالفساد… 2017
مختلف آپریشنوں کے بعد اب ایک بارپھر بیرونی قوتوں کےمفاد کےلئے'' عزمِ استحکام '' کےنام سے پختونخوا اوربلوچستان میں ایک نیافوجی آپریشن شروع کرنے کااعلان کیا گیا ہے۔ماضی کے آپریشنوں کی طرح اس نئے آپریشن میں کی آڑ میں بھی ایک بارپھر پختونوں کاخون بہایاجائے گا۔اورساتھ ساتھ @PTIofficial اور18 مارچ 1984ء کوقائم کردہ میری @OfficialMqm کے رہنماؤں، کارکنوں اورہمدردوں کوبھی مزید نشانہ بنایا جائےگا۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا سے وابستہ سچےحق پرست صحافیوں،اینکرز اور یوٹیوبرز پربھی مزید پابندیاں لگائی جائیں گی ۔
میں سمجھتاہوں کہ اس آپریشن سے ملک میں کسی بھی قسم کااستحکام نہیں آئے گا بلکہ اس سے ملک مزید غیرمستحکم ہوگا۔ اس باراس آپریشن کااعلان فارم 47 کے تحت بنائے جانے والے وزیراعظم شہباز شریف سے کرایا گیا ہے تاکہ اس کی آڑ میں جوکچھ بھی ہواس کاساراملبہ سویلین وزیراعظم اوران کی حکومت کےسر ڈال دیاجائے۔
میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کہتاہوں کہ فوجی آپریشنوں کے نتائج نہ ماضی میں بہترنکلے تھے اورنہ ہی اب نکلیں گے لہٰذا بیرونی قوتوں کے مفاد کیلئے آپریشنوں اور اپنے ہی شہریوں کو مارنے کی پالیسی فوری ترک کی جائے اور آپریشن عزمِ استحکام کافیصلہ فی الفور واپس لیاجائے۔
الطاف حسین
( 23 جون 2024ء کوٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب)
19جون۔ یوم سیاہ ،یوم ظلم ہے،
ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن بند کیا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن۔19جون2024ء
19جون1992ء کو ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم @OfficialMqm کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرکے فوج نے 25ہزار مہاجر نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جوکہ 32سال بعد بھی جاری ہے
اگرپاکستان کوبچانا ہے تو فوج اور آئی ایس آئی کی تمام غنڈے گردیوں اور غیرآئینی وغیر قانونی حرکتوں کو روکنا ہوگا۔
#TruthAboutOperationBlueFox
TruthAboutOperationBlueFox
گلاب رنگت حسین چہرے فضاؤں میں جگمگا رہیں ہیں
ستم کی سرحد عبور کر کے شہید حق مسکرا رہے ہیں❤
۱۹ جون ۱۹۹۲۔۔۔
@AltafHussain_90@OfficialMqm
میری جانب سے @AltafHussain_90 بھائی اور تمام اراکین رابطہ کمیٹی سوشل میڈیا ٹیم اور تمام وفا پرست ساتھیوں اور میرے تمام دوستوں کو عيد الاضحى بہت بہت مبارک ہو اللّٰہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ ہم سب کی پریشانیاں ختم کرے اور سب کو دنیا کی ہر خوشی نصیب فرمائے آمین
ہمارے عزم کو تم قید کر نہیں سکتے
کے خوشبو اور وفا تو کبھی نہ قید ہوئی
کے زندگی کی صدا تو کبھی نہ قید ہوئی
دلوں کے شہر میں قائد میرا امام رہے
بانی و قائد جناب @AltafHussain_90 بھائی اور تمام وفاپرستوں کو APMSO کا 46 واں یوم تاسیس بہت بہت مبارک ہو
#11JuneAltafKaJunoon
#PPPTerroristMafia
پیپلز امن کمیٹی کا دہشت گرد سرغنہ عذیر بلوچ اس کے ساتھ کون ملاقات کرتا رہا
بے غیرتوں سندھ کو تباہ جتنا پی ی نے کیا اسکی کوئی مثال نہیں ملتی
لندن 6 جون 2024
جنرل حافظ عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف
اسلامی جمہوریہء پاکستان
السلام علیکم و آداب عرض
میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ فوج نے 1992ء میں صوبہ سندھ میں ڈاکوؤں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اوراُن کوپناہ دینے والے بڑے بڑے نامور جاگیرداروں اوروڈیروں کےخلاف ایک فوجی آپریشن شروع کرنےکااعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں سندھ کے بڑے بڑے جاگیرداروں اوروڈیروں پرمشتمل 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ مرحوم کی سربراہی میں تیار کی گئی تھی۔جسے انہوں نے اُ س وقت کے وزیراعظم نوازشریف صاحب، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین اوروفاقی وزیرچوہدری نثار کوبھی دی تھی۔ چوہدری نثار نے 72بڑی مچھلیوں کی یہ فہرست دومرتبہ قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کی تھی۔
جنرل حافظ عاصم منیر صاحب!
میں آپ کے علم میں یہ حقیقت بھی لانا چاہتاہوں کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے ماہِ جون 1992ء کے دوسرے ہفتےمیں کورہیڈکوارٹرز کراچی میں فوجی آپریشن کے حوالے سے ایک بریفنگ رکھی تھی جس میں ایم کیوایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق شہید ، سیکریٹری جنرل ڈاکٹرعمران فاروق شہید اورایم کیوایم کے ایم این ایز کو بھی مدعوکیا گیا تھا۔ فوجی آپریشن کے حوالے سے اپنی بریفنگ میں جنرل آصف جنجوعہ نے 72بڑی مچھلیوں میں شامل سند ھ کے ڈاکوؤں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اوران کوپناہ دینے والے بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں اور پتھاریداروں کے نام اوردیگر تفصیلات بھی پیش کی تھیں ۔ اُس بریفنگ میں انہوں نے ایم کیوایم کی قیادت کے اِن خدشات کی بھی کھل کرنفی کی تھی کہ یہ آپریشن ایم کیوایم کےخلاف ہوگا۔ اس بریفنگ کی ایک تصویربھی انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہوئی تھی (تصویر منسلک ہے)۔اس موقع پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مظفر حسین شاہ کےگھرپر ایک ظہرانہ بھی دیا گیا تھا۔
جنرل حافظ عاصم منیر صاحب!
افسوس صد افسوس کہ تمام تر اعلانات، بریفنگ اوریقین دہانیوں کے برعکس 72بڑی مچھلیوں کےخلاف آپریشن کرنے کے بجائے وہ فوجی آپریشن ایم کیوایم کےخلاف کراچی سمیت سندھ بھرکے تمام شہروں میں شروع کردیا گیا جس کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان ورہنما شہید وزخمی کئےگئے، ہزاروں گرفتار اور لاپتہ کئے گئے ۔
ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء کو شروع کئے جانے والے اس فوجی آپریشن کے دن سے لیکر آج تک لاپتہ کئے جانے والے سینکڑوں کارکنوں کے بوڑھے والدین، ان کی سہاگنیں اورمعصوم بچے گزشتہ 32برسوں سے اپنے لاپتہ پیاروں کےلئے تڑپ رہے ہیں، ان کے والدین اپنے بچوں کے انتظارمیں یا تو بوڑھے ہوچکے ہیں،یااس دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہیں، ان کی سہاگنیں بوڑھی اوربچے جوان ہوچکے ہیں مگر اُن دکھی اورغم زدہ خاندانوں کے دکھوں کا مداوا کوئی بھی نہ کرسکا۔
جنرل حافظ عاصم منیر صاحب!
میری آپ سے پرزوراپیل ہے کہ آپ ایک ہفتہ کراچی شہرمیں قیام کرکے کسی بھی جگہ ایک کیمپ لگوائیں اور@OfficialDGISPR کے ذریعے ایک پریس ریلیز جاری کروائیں کہ جن جن خاندانوں کے افراد 19جون 1992ء سے لے کر جون 2024ء تک لاپتہ کئے گئے ہیں وہ اُن لاپتہ افراد کے تمام کوائف اُس کیمپ میں جمع کرائیں اورآپ اُن لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے اس کمیٹی سے دریافت کریں کہ 19جون 1992ء سے اب تک لاپتہ کئے جانے والے تمام افراد کوکہاں رکھا گیا ہے اورلاپتہ افراد کے غم زدہ اہلِ خانہ کوبتادیں کہ اُن میں سے کتنے زندہ ہیں اورکتنے فوت ہوچکے ہیں کیونکہ اُن کی جبری گمشدگیوں کو اب 32سال گزرچکے ہیں۔
میری آپ سے یہ بھی درخواست ہے کہ جن لاپتہ افراد پراگر کسی قسم کے مقدمات ہیں تواُنہیں عدالتوں میں پیش کرکے جیل منتقل کیاجائے اورجن پر کسی بھی طرح کاکوئی مقدمہ نہیں ہے ،انہیں فی الفور بازیاب کرواکران کے غم زدہ خاندانوں کے حوالے کیاجائے ۔
شکریہ
احقر
الطاف حسین
فون نمبر 0044-208-9527300
ای میل [email protected]
پتہ:
185 Whitchurch Lane
Edgware, Middlesex
HA8 6QT
@PakistanFauj@AsadAToor@GFarooqi@HamidMirPAK@Matiullahjan919@WajSKhan@asmashirazi@najamsethi@AbsarAlamHaider@suhailswarraich@HassanNisar@nadia_a_mirza@jawabdeyh@shazbkhanzdaGEO
جناب میجرعاد ل راجہ صاحب!
@soldierspeaks
السلام علیکم
آپ کے جواب دینے کا شکریہ ۔
مجھے آپ کے یوٹیوب چینل کوبند کئے جانے کا بہت افسوس ہوا اورغصہ بھی آیا کیونکہ چوروں، ڈاکوؤں، کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف تمام جلاوطنوں میں ایک آپ ہی کی تو مضبوط اور توانا آوازتھی جس سے عوام کوآگاہی حاصل ہورہی تھی لیکن طاقت کے ذریعے اس آواز کوسوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پرخاموش کرادیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پابندی اورجبر وقتی ہے ۔
کرپٹ جرنیلوں نے پاکستان کوتوڑ دیا اور اب وہ باقیماند ہ ملک کوبھی نقصان پہنچانے کےدرپے ہیں۔ میں خود کرپٹ سول اور عسکری اشرافیہ کے خلاف گزشتہ 46برسوں سےجدوجہد کررہا ہوں،میری آواز کو دبانے، میری جماعت کوختم کرنے اورمجھے راستے سے ہٹانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے مجھ پر حملے کرائے،میری تحریک کےخلاف فوجی آپریشن کئے، میری جماعت کے لوگوں کو خرید کرکئی مرتبہ مختلف گروپس بنائے گئے،میری آواز پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی گئی لیکن میں نے ان مظالم کے آگے ہتھیارنہیں ڈالے، ملک وقوم کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی اورمیں تمام ترریاستی جبر کے باوجود آج بھی جدوجہد کررہا ہوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور کرپٹ جرنیلوں سے نجات دلانا، ظالموں کے خلاف کلمہ حق بلند کرنااورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کےلئے جدوجہد کرنا ایک جہاد ہے اورجوبھی یہ جہاد کررہا ہے میں اس کی حمایت کرتاہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ جہاد ایک دن کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوگا۔
بہت بہت شکریہ
الطاف حسین
یہ تاثر غلط ہے اس ملک میں پی ٹی آئی کے ساتھ ریاست نے جتنا برا کیا اس کی کوئی مثال نہیں
حقیقت یہ ہے کہ ریاست نے پی ٹی آئی کو جتنی چھوٹ دی اس کی مثال نہیں ملتی
اگر اس ملک میں کسی کے ساتھ سب سے برا ہوا تو ایم کیوایم کے ساتھ ہوا اصلی ایم کیوایم کے مقابلے میں سرکاری ایم کیوایم بناکر اس کو فارم 47 کے تحت نشستیں دلائی گئیں