ایک ویڈیو میں وفاقی پولیس سے منسوب اہلکاروں کی جانب سے جرف الصخر کے مقبوضہ علاقے میں واقع گاؤں الحجیر کے تین سنی بھائیوں پر مبینہ تشدد دکھایا گیا ہے۔
کبھی اسرائیلی پر ایسی ویڈیو نہیں ملے گی روافض کی طرف سے!!
جہاں کے بے بس عوام مسلسل احتجاجات کے باوجود خدائی قانون کے بجائے طاغوتی قانون کے مطابق اپنے مقدمات فیصل کرانے پر مجبور ہوں،اسے ہزار بار مسلمانوں کا ملک کہ لیجیے لیکن اسے حقیقی معنی میں اسلامی مملکت اور دار الاسلام کہتے ہوئے حیا آتی ہے
ماہنامہ بینات محرم الحرام
۱۴۳۸
#shaoor_media
بقیہ حصہ ۔۔
اپنی وفات سے پہلے انہوں نے تمام مال مسلمانوں کے بیت المال کو واپس کر دیا اور اپنے لیے اور اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔
ان کی بیٹی عائشہؓ روئیں اور کہا:
لَعَمْرُكَ مَا يُغْنِي الثَّرَاءُ عَنِ الْفَتَى
إِذَا حَشْرَجَتْ يَوْمًا وَضَاقَ بِهَا الصَّدْرُ
✍️ Thread
عظیم المرتبت شخصیت 《ابوبکر صدیقؓ》
وہ عبداللہ بن ابی قحافہ ہیں۔
وہ اسلام سے پہلے اپنے بچپن کے بارے میں خود بیان کرتے ہیں:
’’جب میں بلوغت کے قریب پہنچا تو میرے والد مجھے بتوں کے پاس لے گئے اور کہا: اے عبداللہ! یہ تمہارے معبود ہیں۔
تو انہوں نے فرمایا:
اے عائشہ! اس سے بہتر بات کہو۔
انہوں نے پوچھا: کیا کہوں؟
انہوں نے فرمایا:
﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾
پھر وہ اپنے رب کے پاس چلے گئے اور اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
ایک دن عمر بن خطابؓ نے اس سے پوچھا:
’’یہ کون شخص ہے جو ہر روز تمہارے پاس آتا ہے اور تمہارے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے؟‘‘
اس نے کہا:
’’اللہ کی قسم! میں نہیں جانتی۔‘‘
اس بوڑھی عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ شخص ابوبکر صدیقؓ، مسلمانوں کے خلیفہ، ہیں جو اس کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔
✍️ Thread
عظیم المرتبت شخصیت 《ابوبکر صدیقؓ》
وہ عبداللہ بن ابی قحافہ ہیں۔
وہ اسلام سے پہلے اپنے بچپن کے بارے میں خود بیان کرتے ہیں:
’’جب میں بلوغت کے قریب پہنچا تو میرے والد مجھے بتوں کے پاس لے گئے اور کہا: اے عبداللہ! یہ تمہارے معبود ہیں۔
سیدنا عمر بن خطابؓ دیکھتے تھے کہ ابوبکرؓ ہر روز عصر کی نماز کے بعد ایک بوڑھی عورت کے پاس جاتے ہیں، جو زمین پر بیٹھی ہوتی، مفلوج، نابینا اور بہت بوڑھی تھی۔
کیا تم جانتے ہو کہ ابوبکرؓ اس کے لیے کیا کرتے تھے؟
وہ ہر روز اس کے لیے کھانا بناتے، اس کے کپڑے دھوتے اور اس کا گھر صاف کرتے