جبری گمشدہ؟؟؟؟
ان کو کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے؟؟ کہاں رکھا گیا ہے؟؟؟ ان پر کونسی دفعات/ جرائم تھوپے گئے ہیں؟؟؟کسی کو کچھ علم نہیں۔۔۔یہ اغواء کاری اور جبری گمشدگی ہے۔۔۔
یہ عوام کے مینڈیٹ، منتخب نمائندوں کی توہین و تذلیل ہے۔۔۔تاریخ اپنا حساب لے گی۔۔۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
عمران خان گرفتار
بشری بی بی گرفتار
علیمہ خان گرفتار
نورین نیازی گرفتار
ڈاکٹر عظمی خان گرفتار
حسان نیازی گرفتار
قاسم زمان گرفتار
شرجیل نیازی گرفتار
شاہ محمود قریشی گرفتار
ڈاکٹر یاسمین راشد گرفتار
عالیہ حمزہ گرفتار
حماد اظہر گرفتار
میاں محمود الرشید گرفتار
اعجاز چوہدری گرفتار
عمر سرفراز چیمہ گرفتار
وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار
شاہد خٹک گرفتار
جنید اکبر گرفتار
خالد خورشید گرفتار
عبداللطیف چترالی گرفتار
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اغوا
صوبائی وزیر فضل شکور اغوا
صاحبزادہ حامد رضا گرفتار
فردوس رائے گرفتار
صنم جاوید گرفتار
فلک جاوید گرفتار
عبدالسلام آفریدی گرفتار
محمد ریاضُ گرفتار
سلطان روم گرفتار
یامین خان گرفتار
محمد اعظم خان گرفتار
فتح الملک ناصر گرفتار
داوڑ کنڈی گرفتار
بابر سلیم سواتی گرفتار
1500 کارکنان ایک دن
اور 1000 کارکنان ایک دن میں گرفتار
14* کارکنان 26 نومبر کو شہید
25 کارکنان 9 مئی کو شہید
8 کارکنان جیل میں علاج نا ہونے کے سبب شہید
1200 کارکن زندگی موت کی کشمکش میں ہیں تاحال مختلف انجریوں کا شکار ہیں
قاسم سوری جلا وطن
ڈاکٹر شہباز جلاوطن
ہمارے جیسے کئی لوگ جلاوطن
کئی کے رشتے ٹوٹ گئے
کئی تاحال لاپتہ
سلمان اور جہانگیر دوبئی میں گرفتار
سینکڑوں پاسپورٹ بلاک
سینکڑوں شناختی کارڈ بلاک
سینکڑوں کاروبار تباہ
بس کر دو یار ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں لوگوں کی زندگیاں آسان کرو ایک جماعت سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو پاکستان پر رحم کرو
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
جو جو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی مخالفت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ دہشتگردوں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اس کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔
دنیا بھر کی جنگیں ہم نے ختم کرانی صلح ، ثالثی ، پھڈے ہم نے ختم کروانے ہیں ، امن کے نوبیل کے لئیے نامزدگی ہم نے کروانی ہے
لیکن اپنے ملک میں ہم نے ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے ہیں ۔ اشکے وائی اشکے
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آج مورخہ 11اکتوبر2026ء کو پاکستان کے واحد صوبہ خیبر پختونخوا (KPK) میں قائم منتخب جمہوری حکومت کے روشن جمہوری چراغ کو بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کی طوفانی ہواؤں نے بجھا ڈالا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
دو تہائی اکثریت رکھنے والے صوبے کو یرغمال بنانے کے لیے یہ سب ایک بار پھر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ آج ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور جمہوری حقوق کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا۔
پختونخوا کے لوگو! گواہ رہنا، عمران خان کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تمہارے امن اور تمہارے مستقبل کی خاطر اپنا اقتدار قربان کر دیا۔
پختونخوا کے لوگو! ان شاء اللہ، تمہارے خون کا سودا کبھی نہیں ہوگا۔ پختون بھائیو! اب وقت آ گیا ہے کہ اگر تمہارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے تو اپنے جمہوری حق، اپنے ووٹ اور اپنے صوبے کے وقار کے تحفظ کے لیے پُرامن اور بھرپور انداز میں باہر نکلو اور ان اقدامات کے خلاف آئینی و جمہوری طریقے سے اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے متحد ہو جاؤ۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل:
ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔
ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے- otherwise بہت نقصان ہوجائیگا
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
لائبہ اعجاز، یہ بھی پاکستان کی ایک بیٹی تھی۔ ویزا ایجنٹ نے اسے امریکہ میں تعلیم کا جھانسا دیکر اسکے غریب والد سے لاکھوں روپے ہتھیا لئے۔ وہ یہ سہہ نہ سکی۔ جعلی ویزا ایجنٹوں اور آج کے جعلی حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں کے ہاتھ قوم کے بچوں کے خون سے رنگے ہیں۔
سرگودھا کی رہائشی طالبہ نے بیچلر آف سائنس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ ان کے بہنوئی نے بتایا کہ یونیورسٹی نے لائبہ کو سکالر شپ پر سعودی عرب بھیجنے کی آفر کی تھی لیکن وہ اعلی تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی۔
https://t.co/CZSWH3qCH3
Thousands of Imran Khan supporters are on the way to Islamabad to demand his release from prison. Pakistan’s former PM has been in jail since 2023. The government says it will not allow the march to enter the capital.