جو بات اس ملک کے صحافی اس ملک کے چوبیس لاکھ علما کرام کو کرنی چاہیے تھے ۔ وہ بات اک ٹی وی اداکارہ نے کر دی ہے ۔ جنکا ہر لفظ سونے کی سیاہی سے لکھنے کے مترادف ہے ۔
حنا خواجہ نے کہا ہے کہ اجکل میں جب بھی نماز پڑھنے کھڑی ہوتی میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ دل رو پڑتا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ پاک ملک جو مسلمانو کی خاطر بنا تھا ۔
وہاں مسلمانو کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہمارے سیاست دان ہمارے حکمران جو بات بات پر اسلام کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اپ تو ہمارے سر براہ ہیں اپ نے تو ہمارے سروں پر ہاتھ رکھنا تھا اپ ہماری چادریں کیوں اتار رہے ہیں ۔۔
اج جب میں دیکھتی ہوں سوشل میڈیا پر ہر جگہ خواتین کے ساتھ پکڑ دھکڑ ہورہی ہے کبھی یونیفارم میں تو کبھی بغیر یونیفارم میں مرد حضرات انہیں گاڑیوں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں ۔
کبھی انہیں اغوا کیا جاتا تو کبھی وہ کاروکاری ہورہی ہیں تو کبھی خود ۔ کشی کر رہی ہوتی ہیں کبھی وہ ہراساں ہو رہی ہیں مرد اپنے گھر نہی چلا پارہے ۔
ٹیکس پہ ٹیکس لگ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سانس لیں گے تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا ۔ اگر درخت ہو گا تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا کیونکہ وہاں سے اکسجن نکلتی ہے ۔
اپ کیوں بھول گے ہیں ہمیں حکم ملا ہے حالت جنگ میں بھی عورتوں بچوں اور بزرگوں کو نقصان نہی پہچانا ۔ یہ کیسا نظام ہے جیلوں میں لوگ بھرے ہوے ہیں جرم ثابت نہی ہوتا ۔ مگر سزائیں چل رہی ہیں ۔
یہ ظلم کا نظام ہے یہ کفر کا نظام ہے دین اسلام کا نہی ہے ۔ یہ اللہ کا نظام نہی ہے خدارا سمجھ جائیں سنبھل جائیں ۔
ابھی بھی وقت ہے بچا لیں اپنے ملک کو بچا لیں اپنے بچوں پر رحم کریں رحم کا صلہ رحم ہوتا ہے اللہ اپ پر بھی رحم فرمائیں گے غلطیوں کو تسلیم کریں ۔
عالمی طاقتوں سے نہُ ڈریں اس طاقت سے ڈریں جو سب مٹاتا ہے سب بناتا ہے ۔ اس دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے ساتھ جاے گا تو صرف اعمال نامہ ۔
پاکستان کی مشہور اداکارہ حنا خواجہ نے یہ بات کر کے ثابت کر دیا کہ چاہے اپ کس فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں جب اپکے سامنے ظلم ہو رہا ہو تو اواز حق بلند کرنا فرض بن جاتا ہے ۔ سلام ہے حنا خواجہ صاحبہ کو جنہوں نے پچیس کڑور گونگے بہروں کی ترجمانی کی ہے ۔
ہر سال جیسے ہی ذوالحجہ کا چاند طلوع ہوتا ہے دو عجیب قسم کے لوگ میدان میں آ جاتے ہیں اور میں تو انہیں منافق کہونگا ۔۔۔
پہلی قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو لکھتے ہیں اللہ کا شکر ہے اس بار قربانی کی رقم سے کسی غریب کی ضرورت پوری کر دی ۔۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پر قربانی واجب ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ جانور ذبح کرنے سے بہتر ہے کہ غریبوں کی مدد کریں یا صدقہ خیرات کریں اور یہ سوچ بظاہر بہت رحمدلانہ اور روشن خیال لگتی ہے مگر اسلامی شریعت کی روشنی میں یہ سراسر منافقت اور جھوٹ ہے۔
واٹر کولر لگانا نیکی ضرور ہے مگر یہ قربانی کا بدل نہیں بن سکتا قربانی ایک الگ عبادت ہے جس کا اپنا حکم ہے اور اسے اپنی جگہ ادا کرنا فرض ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وسعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔
اس واضح حکم کے بعد کوی عذر بہانہ نہی دیا جا سکتا ۔
دوسری قسم ان لبرلز کی جن کو جانوروں کی محبت صرف ذوالحجہ میں جاگتی ہے سارا سال وہ کے ایف سی میکڈونلڈ برگر کنگ اور ہر قسم کے مذبح خانوں سے آیا ہوا گوشت کھاتے رہتے ہیں اور ایک آنسو نہیں بہاتے مگر جب مسلمان اللہ کے حکم پر جانور ذبح کرتے ہیں تو یہ روتے چلاتے اور ماتم کرتے پھرتے ہیں۔
کے ایف سی میکڈونلڈ باقی فوڈ ریسٹورنٹ پر ہر روز کروڑوں جانور صرف انسانی خواہشات اور منافع کے لیے ذبح ہوتے ہیں ۔
ان پر یہ خاموش رہتے ہیں مگر قربانی پر ان کی ہمدردی جاگ دیتی ہے ۔۔ یہ منافقت ہے ۔
تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تندور سے روٹی چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا تندور مالک نے خاتون پے تشدد کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا کل پشاور پولیس نے خاتون کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ جج صاحب نے خاتون سے سارا معاملہ پوچھا عورت نے روتے ہوئے بتایا میرا نام گُل بانو ہے ایک حادثہ میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے میرے تین یتیم بچے ہیں جو دو روز سے بھوکے تھے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں میں نے مجبوری میں تندور سے روٹی اٹھائی۔ گُل بانو کے جسم پے ت شدد کے واضح نشان نظر آ رہے تھے۔ جج صاحب نے سب سے پہلے تندور مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس نے غریب بیوہ عورت پر ت شدد کیا۔ تندور مالک کو دو سال جیل کی سزا اور 5 لاکھ روپے حرجانہ کا فیصلہ سنایا۔ s.h.o کینٹ کو تبادلے کا حکم دیا۔ اور ڈی-سی پشاور کو پابند کیا کے سرکاری خزانے سے بیوہ خاتون اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے۔
پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟
یہ عورت سوئٹزر لینڈ میں پارلیمنٹ کی ممبر ایم این اے ہے ۔
جب ایک صحافی نے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ اپنے بچے کیلئے کوئی نوکرانی کیوں نہیں رکھ لیتں ؟
اس خاتون کا جواب یہ تھا کہ میں بچے کیلئے نوکرانی افورڈ نہیں کر سکتی۔
میں خود یہاں سے فری ہو کر بعد میں ایک بیکری میں ملازمت کرتی ہوں تاکہ اپنے گھر کا خرچہ چلا سکوں۔
اس لیے زمیں پر اگر جنت ہے تو یہ ملک ہے .. !
آپ سب سے پھر وہی سوال!
پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟؟
بیٹے کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کیا جاتا ہے ہر کوئی شعیب اختر سے سیکھے۔
راولپنڈی ایکسپریس شعیب اخترنے اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں راولپنڈی میں یتیم بچوں کیلئے قائم ایک ادارے جس میں پچاس سے زائد یتیم بچے زیر تعلیم ہے
ان بچوں کیلئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں بچوں کی جانب سے نعتیں پیش کی گئی۔
شعیب اختر کی جانب سے بچوں کیلئے کھانے کا دعوت کیا گیا تھا اور بچوں کیلئے شعیب اختر کی جانب سے کپڑے جوتے اور پانچ پانچ ہزار نقد روپے دیے گئے۔
اس موقع پر شعیب اختر کے ساتھ لیجنڈری پلیئر محمد یوسف بھی موجود تھے۔
محمد یوسف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ شعیب اختر ایک صاف دل اور دین پسند انسان ہے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس نے اس ادارے میں بچوں کی خوشی کیلئے پروگرام کیا اگر وہ چاہتا باہر کسی حال کو بک کرتا کرکٹرز کو بلاتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور یہ اللہ کا شعیب اختر پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ثابت کردیا کہ وہ ایک نیک انسان ہے
💯💞💞💞💞💞💞💞
#cricketlovers
#cricketnews
#PSL202
ترکی کے شہر شانلی عرفہ میں ایک نوبیاہتا جوڑے نے اپنی شادی میں مہمانوں سے کہا کہ وہ زیورات یا تحائف لانے کے بجائے ایک یتیم بچے کو ساتھ لائیں۔ تقریباً 100 یتیم بچے اس تقریب میں شریک ہوئے اور انہیں تحائف دیے گئے۔
بالی ووڈ اداکار عامر خان نے ایک ٹاک شو میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
"اسلام ایک خوبصورت مذہب ہے جو امن اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ الحمدللہ، میں ایک مسلمان ہوں اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔" ✨
ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی مل رہی ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
قرآن میں ایک سورت ہے جو ایک خاص احساس کے لیے نازل ہوئی تھی۔ غم کے لیے نہیں، خوف کے لیے نہیں، تنہائی کے لیے نہیں۔ بلکہ اُس احساس کے لیے جب آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کام نہیں بن رہا ہوتا۔ اور اللہ کا جواب... آپ کو رُلا دے گا۔
اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں زیادہ لوگ بات نہیں کرتے۔ وحی رک گئی تھی۔ ہفتوں تک—کچھ علماء کے مطابق مہینوں تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔ نہ کوئی آیات، نہ کوئی ہدایت۔ بس... خاموشی۔
اور نبی ﷺ — جو اللہ کے سب سے محبوب تھے — سوچنے لگے: "کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟" قریش کے دشمنوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا: "تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔" اس بات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا۔
پھر اللہ نے اس خاموشی کو توڑا۔ کسی تنبیہ یا حکم کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک قسم کے ساتھ:
وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
"قسم ہے صبح کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔"
اور پھر وہ آیت نازل ہوئی جو انسان کی زندگی کی ہر تاریک رات کا جواب بن جاتی ہے:
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
"تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ 'صبر کرو' یا 'اور زیادہ کوشش کرو'، اس نے بس یہ کہا کہ میں نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے، میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔
اللہ نے انہیں کوئی پانچ قدموں والا منصوبہ نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی زندگی کی تاریخ کو دلیل بنا دیا۔ گویا فرمایا: "اپنی زندگی کو دیکھو۔ دیکھو میں نے پہلے تمہارے لیے کیا کیا ہے۔ میں اُس وقت بھی تمہارے ساتھ تھا۔ تو اب کیوں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" اللہ اپنے نبی ﷺ کی زندگی کی کہانی ہی یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پناہ دی؟ کیا اس نے تمہیں راستہ تلاش کرتے نہیں پایا اور ہدایت دی؟ کیا اس نے تمہیں محتاج نہیں پایا اور غنی کر دیا؟"
رات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چلا گیا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناراض ہے۔ کبھی کبھی اللہ خاموش ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اُس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ جو آنے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پہلے تھا۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
"اور آخرت تمہارے لیے پہلی زندگی سے بہتر ہے۔" (93:4)
اور یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر باب پر، ہر موسم پر، ہر انتظار کے وقت پر۔ جو آنے والا مرحلہ ہے وہ اس مرحلے سے بہتر ہے جو ابھی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔" (93:5)
اس نے "شاید" نہیں کہا، اس نے کہا "عنقریب"۔ اس نے کہا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اسے ان دنوں کے لیے سنبھال کر رکھو جب خاموشی برداشت کے قابل نہ لگے۔
اور پھر اللہ وہ کام کرتا ہے جو نہ کوئی انسانی معالج، نہ کوئی سیلف ہیلپ کتاب اور نہ ہی کوئی موٹیویشنل اسپیکر کبھی کر سکا۔ اگر آپ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، دعا کر رہے ہیں مگر وہ قبول ہوتی محسوس نہیں ہو رہی، آپ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آ رہا اور آپ کو لگنے لگا ہے کہ شاید اس خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی میں کوئی کمی ہے... تو یہ سورت آپ کے لیے ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایسے ہے جیسے اللہ اُس حصے سے براہ راست بات کر رہا ہو جو اندر سے ڈرتا ہے کہ شاید اسے بھلا دیا گیا ہے
❤️
مـــــᷟــᷴــᷝــᷢــᷧــᷟــريم طــᷢــᷬــⷩــⷶــⷮـــاہر
#BazmeNaz
سوشل میڈیا پر یہ تصویر وائرل ہورہی ہے اور لوگ اس بزرگ شخصیت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ رمضان میں روزہ نہیں رکھ رہے ہیں ، اس پر عرض ہے یہ بزرگ اس عمر میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت کر رہے ہیں۔ ان کا اور اللہ کا معاملہ ان پر چھوڑ دیں اور اپنی زبان اور قلم کو دوسروں کی تذلیل کے لیے استعمال نہ کریں۔ کیا پتا ان کی یہ محنت اور مجبوری اللہ کے ہاں ہمارے ہزار روزوں سے زیادہ معتبر ہو؟
کیا ہم نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا؟
کیا معلوم یہ بابا جی کسی ایسی بیماری (شوگر یا دل کے عارضے) میں مبتلا ہوں جس میں دوا یا پانی وقت پر لینا زندگی اور موت کا مسئلہ ہو؟ اسلام نے مریض اور مسافر کو رعایت دی ہے،
اور ضعیف العمری میں جسم کی ہمت جواب دے جاتی ہے،اس عمر میں تپتی دھوپ میں ریڑھی لگا کر حلال رزق کمانا بذاتِ خود ایک بہت بڑی عبادت ہے۔پھر
ہمارا دین ہمیں دوسروں کے بارے میں "حسنِ ظن" (اچھا گمان) رکھنے کا حکم دیتا ہے، نہ کہ جاسوسی کرنے اور عیب اچھالنے کا،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
"اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
(سورۃ الحجرات، سورہ نمبر 49، آیت نمبر 12)
مفتی فضل ہمدردؔ
@amalqa_@ChotiSheikhni یہ قوم اگر
نالائق نہ ہوتی تو75سال سےاشرافیہ کےجوتےنہ کھارہی ہوتی
عوام کےTax کےپیسوں پرپلنےوالےسرکاری ملازم عوام پرہاتھ اٹھاتے ہیں، وجہ نااتفاقی
پاکستانیوں پہلےایران کیطرح ایک قوم بنو
آرائیں چودری رانا راؤ راجپوت ڈوگر گجر بلوچ اورشیعہ سنی سےباہرآؤ
پھرتم پرکوئی ظلم نہیں کرسکتا
دوستوں سے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر اس پوسٹ کو اتنا شیئر
کریں کہ یہ Unilever لائف بوائے کمپنی کے مالک تک پہنچ جائے۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اصلاح کرنا ھے. اس شیمپو پر جو کمپنی نے اپنا
ایڈریس لکھا ہے، اس میں "فاطمہ جناح" لکھا ہوا ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ کمپنی سے گزارش کی جائے کہ ایڈریس میں صرف "جناح" لکھیں، "فاطمہ نہ لکھیں، کیونکہ "فاطمہ" ہمارے پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کا مبارک نام ہے، اور
یہ پاک نام گٹروں اور نالوں وغیرہ میں جاتا ہے، جو کہ بے ادبی ہے۔ دوستوں سے دوبارہ گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ کمپنی اس پر عمل کرے اور ایڈریس میں سے "فاطمہ" کا لفظ ہٹا دے۔
اللہ آپ سب کا بھلا کرے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں ایک خاتون کے ساتھ ایک کم عمر لڑکی بھی نظر آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دونوں صدر میں واقع مدینہ سٹی مال میں شاپنگ کی غرض سے آئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے واقعی خریداری کی یا نہیں، لیکن عینی شاہدین کے مطابق مال میں موجود رش اور ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ایک خاتون کا شاپنگ بیگ اٹھا لیا اور موقع سے نکل گئیں۔
واقعے کے بعد عوام سے ان خواتین کی شناخت میں مدد کی اپیل کر دی ہے
متاثرہ خاتون کے مطابق اس شاپنگ بیگ میں خریداری کا قیمتی سامان موجود تھا۔ بیگ کے اندر ایک پرس بھی رکھا ہوا تھا جس میں تین عدد لیڈیز سوٹ، ایک عبایہ، رینو 6 موبائل فون اور تقریباً 65 ہزار روپے نقد موجود تھے۔ واقعہ پیش آنے کے بعد متاثرہ خاتون نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو فوٹیج میں نظر آنے والی خاتون یا اس کے ساتھ موجود لڑکی کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ سامان کی بازیابی ممکن ہو سکے۔
مزید یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ اگر ان افراد کے رشتہ دار یا جاننے والے یہ پیغام دیکھ رہے ہوں تو براہِ مہربانی انہیں سمجھائیں کہ وہ متاثرہ خاتون کا سامان، موبائل فون اور نقدی واپس کر دیں۔ اگر ایسا کر دیا جاتا ہے تو معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور کسی قسم کی مزید کارروائی سے گریز کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ عوامی مقامات، خصوصاً بازاروں اور شاپنگ مالز میں اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر انتظامیہ یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
مہر بخاری کے حکومت سے چند اہم سوال🚨
1.اگر ملک میں ایک ماہ کے پٹرول کے ذخائر موجود تھے تو پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟
2.اگر55 سے 60 روپے فی بیرل تیل مل رہا تھا تو قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟
3.انڈیا کی طرح روس سے سستا تیل کیوں نہیں لیا جا رہا؟
4.جو پٹرول لیوی کی ضرورت میں پیسے جمع ہوتے ہیں، وہ پٹرول پر تو نہیں لگتے، وہ کہاں جاتے ہیں؟