پاور ڈویژن والو!
پوری پاکستانی قوم رات بھر آپ کو صرف گالیاں ہی نہیں دیتی بلکہ قوم کے بچے، مریض، بزرگ، خواتین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب مل کر آپ کو بددعائیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو یہی کچھ چاہیے، تو جاری رکھیں اپنا ظلم و ستم!!
پاور ڈویژن سوا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا دعویٰ کرتا ہے لیکن #Islamabad میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بغیر شیڈول کے۔ باقی ملک کا کیا حال ہوگا۔
جناب وزیراعظم @CMShehbaz رہنے دیجیے ثالثی۔ اندھیروں میں ڈبودیا ہے آپ نے پاکستانی قوم کو۔
@MaryamNSharif !
آپ جو کچھ بیان فرما رہی ہیں، حقیقت کچھ مختلف ہے۔ ذرا اس تجزیہ کا مطالعہ فرمالیں۔
https://t.co/FZeO2eTqnW
اس کے بہت سے پہلو توجہ طلب ہیں آپ کے لیے۔
@KhawajaMAsif خواجہ صاحب!
آپ جو کچھ بیان فرما رہے ہیں، حقیقت کچھ مختلف ہے۔ ذرا اس تجزیہ کا مطالعہ فرمالیں۔
https://t.co/FZeO2eTqnW
اس کے بعد بہت سے پہلو توجہ طلب ہیں آپ کے لیے۔
خواجہ صاحب!
آپ جو کچھ بیان فرما رہے ہیں، حقیقت کچھ مختلف ہے۔ ذرا اس تجزیہ کا مطالعہ فرمالیں۔
https://t.co/FZeO2eTqnW
اس کے بعد بہت سے پہلو توجہ طلب ہیں آپ کے لیے۔
پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کسی ایک ملک کا فیصلہ نہیں بلکہ اسرائیلی کے جنگی جنون امسلم دشمنی اور جارحانہ عزائم کا نتیجہ ہے۔ جن مسلم ممالک سے پٹرول نکلتا ہے، یا جس کی حدود سے گزر کر دنیا تک پہنچتا ہے، اسرائیلی کے مسلمانوں کی نسل کشی کے جنون سے سب شدید متاثر ھو رہے ھیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں ایندھن کی قلت اور ہنگامی صورتحال ہے پاکستان میں سپلائی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا جسےحکومت نے کامیابی سے سنبھالا اور قلت سے بچایا۔ لیکن اب ایک متوازن راستہ اپنانا ضروری تھا تاکہ ملک کو بڑے معاشی بحران سے بچایا جا سکے۔ قیمت میں اضافہ شدید معاشی دباؤ کی وجہ سے کیاگیا۔ ھمیں عوام کی مشکلات کا شدید احساس ھے۔ وفاق اور صوبوں نے تمام ترقیا تی اخراجات اور فوری ضرورت کے علاوہ اخرا جات کو موخر کرکے مالی وسائل تیل کی قیمتوں کی سپورٹ میں ڈالے ھیں۔ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، عوام کو فوری ریلیف دیا جائے گا۔ انشاءاللہ
Has #Israel assumed that it will never be held accountable for these crimes?
And
where are the organizations around the world that claim to protect #journalists ???
سوال یہ ہے کہ
شہباز شریف حکومت جب سے قائم ہوئی، 2 باتیں تسلسل سے کہہ رہی ہے۔
اول: مجبوری میں مشکل فیصلہ کر رہے ہیں۔
دوم: ہم سخت حالات سے نکل آئے ہیں۔
یہی 2 باتیں باری باری کہی جارہی ہیں
عوام ظلم کی شکار ہے مسلسل۔ سکون کا سانس نہیں مل سکا اسے ابھی تک۔
مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیرِاعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کر دیا اور عوام پہ کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی۔ بلاشبہ قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے اور حکومت ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اس بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ تیل اور توانائی کی صورت میں درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھتی ہیں تو درآمدی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اگر اس اضافی لاگت کو مکمل طور پر حکومتی خزانے پر ڈال دیا جائے تو اس کا مطلب مالیاتی خسارے میں اضافہ، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور معاشی استحکام پر مزید دباؤ ہوگا۔
اسی لیے مشکل حالات میں بعض فیصلے وقتی طور پر سخت ضرور ہوتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک متوازن حکمتِ عملی اختیار کی جائے جس میں کمزور طبقات کو ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کیا جائے، توانائی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دیا جائے اور معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ عالمی جھٹکوں کو بہتر طور پر برداشت کر سکے۔
غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ دانشمندانہ پالیسی یہی ہے کہ وقتی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو معیشت کو بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکیں۔
نا اہل لوگ جب ادارے چلائیں گے تو اسی طرح کی حرکتیں کریں گے، روزہ داروں کو ذلیل کریں گے۔ آج #islamabad میں شدید گرمی تھی۔ لوگ چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں لائینیں بنائے کھڑے تھے اور کھڑے ہیں۔ @shehbaz
کیا ہی اچھا ہو جو ایم ٹیگ کے سینٹرز میں ایک سے زیادہ لوگ سروس فراہم کریں۔ لوگوں کو روزے کی حالت میں گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
تاریخ میں مزید توسیع کی جائے۔ اور 15 مارچ آخری تاریخ ہو۔ تاکہ لوگ سہولت کے ساتھ ایم ٹیگ لگوا سکیں۔
اور تمام مراکز 24 گھنٹے سروس فراہم کریں۔
The M-Tag installation drive is progressing rapidly across the Federal Capital, with 1,107 vehicles and 4,660 motorcycles registered in the last 24 hours, bringing the total to 241,957 vehicles and 25,847 motorcycles under the M-Tag system so far. Multiple centers, including 26 Number, Phulgran, F-9 Park and Faizabad, are operating 24/7, while several other locations are providing 12-hour services to facilitate citizens. Extended operational hours have significantly reduced public rush, and additional staff has been deployed to ensure maximum convenience during Ramadan. Citizens are required to present ownership record, original CNIC and verified mobile number for M-Tag installation, and vehicles or motorcycles without M-Tag will not be allowed on roads. For assistance, contact helpline 1313.
ہمارے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ایک تھانے دار کی مار نہیں
لیکن
انھوں نے نہ جانے کتنے ہی تھانے دار مار کے، لاتعداد عام شہریوں کو مار کے، اب وزیر داخلہ ہی کی مسلک کی عبادت گاہ میں درجنوں نمازیوں کو مار دیا۔
اب وزیر داخلہ کو مستعفی ہوجانا چاہیے
آج کا #Murree ایسا ہے لیکن آپ #مری کی طرف سفر کا فیصلہ کرنے سے پہلے درست معلومات حاصل کرلیجیے گا۔ کیونکہ پولیس نے راستے بند کردئیے ہیں۔ اس لیے آپ بہارہ کہو سے زیادہ آگے نہیں جاسکیں گے، شاید سترہ میل بھی نہ پہنچ سکیں۔
سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا ’نیک‘ اہلکار ہے۔
اس زمانے میں کون بسم اللہ پڑھ کر رشوت لیتا ہے۔ 😀
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دن کی پہلی رشوت لی ہوگی یعنی بوہنی کی ہوگی لیکن میرا حسن ظن ہے کہ یہ ہر رشوت سے پہلے بسم اللہ پڑھتا ہوگا 😂
بیوی اپنی کوئی ایک غلطی ماننے کو تیار نہ تھی، وہ بضد تھی کہ وہی درست ہے اور شوہر غلط۔
پھر شوہر نے ایک تدبیر اختیار کی
نتیجہ فوراً نکل آیا
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیوی شوہر سے معافیاں مانگنے لگ پڑی، اس کے گوڈوں کو ہاتھ لگانے لگی۔
تدبیر کیا تھی؟ دیکھیے اس ویڈیو کلپ میں
انتہائی نامناسب گفتگو کی @AzmaBokhariPMLN نے پختونوں کو جنگلی نہیں کہا۔ صرف @PTIofficial کے ان لوگوں کے بارے میں کہا جو جنگلیوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔ کیا شفیع اللہ کی یہ گفتگو جنگلیوں جیسی نہیں؟ حد تو یہ ہے کہ PTI کی خواتین بھی اس پر چپ ہیں۔
عظمی بخاری سیاسی خانہ بدوش ہیں۔ وہ پختونوں کے بارے میں جنگلی جیسے القابات استعمال کرتی ہیں ہمیں نہیں معلوم تھا کہ انہیں جنگلی بہت پسند ہیں۔ وہ ہمیں پہلے بتاتیں تو ہم ان کے لیے 3 4 جنگلی لوگوں کا بندوبست کر لیتے انکی خواہش بھی پوری ہو جاتی، شفیع اللہ جان