#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
کیا یہ انسانیت ہے؟ کیا یہ انصاف ہے؟ تئیس گھنٹے، چوبیس میں سے تئیس، یہ گھڑیاں ایک جسم کو تو نہیں مگر روح کے پہلو ضرور توڑتی ہیں۔ وہ دیواروں سے باتیں کرتا ہے، مگر دیواریں بھی بہرہ ہو چکی ہیں، اور اس کی ہر سانس ایک کراہ ہے جسے کوئی نہیں سنتا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کے جسم میں درد ہے، مگر شفا کا دروازہ اس کے لیے بند کر دیا گیا ہے، گویا اسے سست موت کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایک زہر جو آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں اتر رہا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے یہ منظر پہلے بھی، جب مورسی قید ہوئے تو ہم صبر کا تماشا دیکھتے رہے۔
یہ سست موت ہے، یہ زہر ہے، اور ہم اس زہر کو اپنے ہاتھوں سے پھینک دیں گے۔
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
عدالتوں کی توہین کی سیاست کروں یا بہنوں کی حرمت کا ساتھ دوں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے دل میں اٹھ رہا ہے، اور میرے پاس جواب ہے: میں نے بہنوں کی حرمت کا انتخاب کیا ہے۔ کیونکہ عدالتیں تو وہاں بھی تھیں جہاں مرسی کو پھانسی دی گئی، عدالتیں وہاں بھی تھیں جہاں بھٹو کو پھانسی دی گئی، لیکن بہنوں کی آواز وہ پہلی بار ہے جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا ہے۔ یہ بہنیں وہ مقدس ہستی ہیں جن کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے، اور جس قوم کی پشت پناہی بہنوں کو حاصل ہو، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، چاہے وہ پوری فوج کیوں نہ ہو۔
میں نے عدالتوں کے مقابلے میں بہنوں کا ساتھ چنا ہے، کیونکہ بہن کی حرمت وہ محور ہے جس کے گرد قومیں گردش کرتی ہیں، اور ہم نے اپنی تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔
خان صاحب کا پیغام واضح ہے: غلامی کی زنجیریں تب ٹوٹتی ہیں جب قوم اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائے۔ حقیقی آزادی کی جدوجہد کسی ایک لیڈر کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، یہ قوم کے شعور سے کامیاب ہوتی ہے۔
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
کیونکہ بہنوں کی پکار ہی ہمارا آخری نعرہ ہے، اور یہ نعرہ کبھی مرے گا نہیں، جب تک پاکستان میں ایک غیرت مند دل دھڑکتا ہے، ہم اس بہنوں کی ڈھال بن کر رہیں گے، اور ظالموں کو بتائیں گے کہ خان صرف ایک شخص نہیں، ایک قوم ہے، اور قوم کو سلاخوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس نعرے کو زندہ رکھیں گے، ہم اس نعرے کو اپنے دلوں میں بسائے رکھیں گے، اور ہم اس نعرے کو اپنی زبان پر جاری رکھیں گے، یہاں تک کہ خان آزاد ہو جائے۔
بہنوں کا نعرہ کبھی نہیں مرے گا، یہ ہماری ابدی پہچان ہے، اور ہم اس پہچان پر قائم رہیں گے۔
عام قیدی کو بھی سورج نکلنے سے غروب ہونے تک حویلی یا احاطے میں گھومنے کا حق ہوتا ہے۔ مگر عمران خان کو اس بنیادی حق سے بھی محروم کر کے 23 گھنٹے ایک ہی سیل میں بند رکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ خالصتاً ذہنی اور جسمانی تشدد ہے!
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا