جیو نے مذاق بنایا ہوا ہے اب کہتے ہیں کہ ہماری یہ پالیسی نہی تھی تو پھر یہ پیغمبروں کے بیت اطہار کے مکمل خاکے کیسے چل گئے ؟
ایڈیٹوریل بورڈ کہاں تھا؟ جیو کی معطلی کافی نہی ہے ان کو جو اربوں کے سرکاری اشتہارات دیتے وہ بند کرنے کی ضرورت ہے
ہم سب سے بڑا منافق بھی کوئی نہیں ہے، بالخصوص مذہبی جذبات کا چورن بیچنے والوں سے بڑا کوئی منافق نہیں ہے، ہم سب نے کئی مرتبہ یہ دیکھا ہے کہ مولوی حضرات (چاہے کسی بھی مسلک کا ہو) اکثر نامناسب حتی کہ گستاخانہ گفتگو کر جاتے ہیں، عوام شور مچاتے ہیں تو وہ مولوی حضرات معذرت کی، معافی کی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں جسے علماء حضرات(مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر) رجوع قرار دیتے ہیں اور معاملہ رفع دفعہ کر دیا جاتا ہے لیکن اینکر پرسن ریحان طارق سے نامناسب گفتگو (جس پر مجھ بھی اعتراض ہے) پر معافی کی ویڈیو آنے کے بعد بھی سارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اینکر پرسن ریحان طارق کیخلاف کارروائی کی جائے۔ سر گزارش ہے کہ ریحان طارق تو زیادہ معافی کا مستحق ہے کیونکہ وہ ایک عام آدمی ہے، مذہب پر مکمل عبور نہیں رکھتا۔ اگر مذہب پر مکمل عبور رکھنے والوں کی معافی تمام مولوی حضرات بھاگ کر قبول کر کے معاملہ رفع دفعہ کرا دیتے ہیں اور ہم سب خاموش ہو جاتے ہیں تو اب منافقت نہ کریں، اینکر پرسن ریحان کی معافی بھی قبول کر لیں۔
اللہ رب العالمین نے تو دین محمدی میں معافیوں کے دروازے ہمیشہ کھولے ہوئے ہیں۔
جھوٹ اتنا بولو اور اتنی بار بولو اور اتنا منہ پکا کرلے بولو کہ وہ سچ لگنے لگ پڑے اور یہی بنیادی اصول ہے اس جماعت کا اور اب کوئی اینکر یوٹیومر محترمہ سے یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ 1 ارب 39 کروڑ 3 لاکھ روپے میں وہ کونسی شرٹ تھی جو فروخت ہوئی
ہم پانی پر آپکی شرائط مانتے ہیں لیکن اپنی فضائی حدود کھول دیں۔
۔۔
تم ہمارا پانی روکو گے ہم تمہاری سانسیں بند کر دیں گے، یہ صرف جملہ نہیں تھا بلکہ ایک واضح دھمکی تھی جس نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا اور جھکا بھی ایسا کہ پاکستان کی شرائط مان کر۔ وہی بھارت جس نے بڑے کروفر کے
1/9