The UN Secretary-General cannot visit Pakistan while ignoring the cries of communities facing enforced disappearances, imprisonment, killings and repression.
@antonioguterres must meet with affected communities and demand accountability for violations against Pashtuns and other marginalized peoples.
#UNHearPashtunVoices
پی ٹی آئی نے آج تک کونسا ملٹری آپریشن روکا ہے؟ پختونخوا میں تو آپریشن تین سالوں سے جاری ہے ۔
یہ فراڈی نوسر باز لوگ صرف احتجاج لانگ مارچ کے دوران اپنے فائدے کے لئے قبائلوں کے خیر خواہ بن جاتے ہیں، بعد میں پھر پوچھتے بھی نہیں۔
سیاسی لوگوں پر بلکل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی صوبے میں دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری ...بس بہت ہوگیا!!!
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے جب کہ ان کے سہولت کاروں نے اِسی دوران KPK کے لوگوں کے خلاف ایک تازہ دہشت گردی کی لہر شروع کر دی ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہلاک ہونے والے ان 5 میں سے دو کسٹم اہلکار تھے
اس سنجیدہ معاملے سے مکمل طور پر بے حس، مکمل صوبائی کابینہ، وزیر اعلیٰ سمیت، اپنے سیاسی ناکام لانگ مارچ میں پوری طرح مشغول ہے
ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ہمیشہ کی طرح ڈی آئی خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، سوگوار خاندانوں سے کوئی تعزیت نہیں کی، ان کے جنازے نہیں میں پڑھے یا کم از کم دیکھانے کی حد تک ہی صحیح ان کے گھروں تک جا کر افسوس نہیں کیا۔ یہ کسی بھی اعتبار سے نا قابل معافی ہے
بدقسمتی سے، اس کے برعکس، وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کے پی کے کو اپنی پارٹی کے کہنے پر گورنر کی سیکیورٹی میٹنگ میں شرکت پر آج سرزنش کرنے کے لئے اجلاس بلا رکھا ہے
ایک صوبہ جو دہشت گردی کی زد میں ہے اس کے وزیر اعلیٰ اور اسکی کابینہ نے صوبے کی عوام کو پوری طرح دہشت گردوں کے رحم پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے کے پی کے کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف پر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں
یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کے پی کے کے لوگوں کا کافی خون بہایا جا چکا ہے، اس حکومت کی دہشت گردوں سے مکمل ملی بھگت اور اس کے سہولت کار ایکو سسٹم کی کافی مثالیں اور شواہد موجود ہیں۔ جو ہر پاکستانی پچھلے تین سالوں میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں
ماضی میں نواز شریف اور اسکا پورا خاندان اور PMLN کی قیادت pti کے دور میں قید رہی۔وقت نے ثابت کیا کہ الزام بس الزام تھے۔ عمران خان کی فرمائش قید کیا جاتا تھا۔ مگرPMLN نے اپنے پارلیمنٹ اپنے رول کو آئین ذمہ داری سے نبھایا ۔ ملک اور اداروں یرغمال نہ بنایا۔ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی۔ طالبان کے اتحادی نہ بنے ۔
اہم فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے KPK کو مزید نا اہل، بے حس حکمران و طالبان کے اتحادیوں کے رحم او کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا. ۔ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں جاسکتا۔ enough is enough