یومِ مزدور کے موقع پر میں اپنے تمام محنت کش بھائیوں اور بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
محنت کش طبقہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ان کی دن رات کی محنت ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے، آج کا دن ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع دیتا ہے کہ ہم مزدوروں کے حقوق، ان کی عزت اور بہتر مستقبل کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
آئیں! ہم سب مل کر اپنے مزدور طبقے کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی قدر کریں اور ایک منصفانہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
#LabourDay
راجہ طارق بلانی کی ناگہانی وفات کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا وہ میرے دیرینہ ساتھی اور مخلص سیاسی کارکن تھے جنہوں نے اپنی زندگی اصول پسندی کے ساتھ گزاری ان کی جدوجہد، قربانیاں اور خلوص ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
میں دعاگو ہوں کہ اللّہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر و حوصلہ عطا کرے۔ (آمین)
آوازِ ضمیر —•—
ٹرمپ کا نام نہاد “امن منصوبہ” درحقیقت ایک سیاسی جبر کا خاکہ ہے، جو نہ صرف فلسطینیوں کی خودمختاری کو روندتا ہے بلکہ اسرائیلی جارحیت کو عالمی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ امن نہیں، ایک طرفہ اطاعت اور حماس کو غیر مشروط سرنڈر کروانے کی سازش ہے ہم اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں فلسطین کوئی تجربہ گاہ نہیں، جہاں عالمی طاقتیں اپنی مرضی کے تجربات کریں فلسطین ایک قوم ہے، ایک تاریخ ہے، ایک جدوجہد ہے اور اس جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔
اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اگر آج ہم نے فلسطین کے بچوں، عورتوں، شہداء اور زخمیوں کی آہ و فریاد نہ سنی، تو کل ہماری اپنی نسلیں بھی اسی ظلم کا شکار ہو سکتی ہیں۔
یہ وقت ہے یکجہتی کا، اور ہم اللّٰہ کے حضور جوابدہ ہیں اور مظلوموں کی حمایت ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔
#palestine
گجرات میں سیورج سسٹم کی تباہ حالی پر جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ ہر باشعور شہری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں ایک ہفتے سے کئی فٹ پانی پورے گجرات میں کھڑا ہے گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں اور عوام اذیت میں مبتلا ہیں جو برسوں کی مجرمانہ غفلت اور مبینہ مالی بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔
گجرات کے چوہدری برادران گذشتہ کئی دہائیوں سے حکومت میں ہیں وزارتیں، مشاورتیں، اور اقتدار کے ایوانوں میں مسلسل موجودگی کے باوجود ان کے آبائی شہر کی حالت آج یہ ہے کہ گلیاں گندے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور شہر کی عوام ایک کرب سے گزر رہی ہے کیا یہی خدمت تھی اور کیا یہی ترجیح تھی؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گجرات کے سیورج سسٹم کے نام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے دیے گئے فنڈز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں کس منصوبے کے لیے کتنی رقم آئی، کہاں خرچ ہوئی اور اگر خرچ ہوئی تو نتائج کہاں ہیں؟
گجرات کے عوام اب مزید دھوکے برداشت نہیں کریں گے یہ شہر صرف سیاسی وراثت نہیں، عوامی امانت ہے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے، اور ہر فورم پر یہ سوال اٹھائیں گے۔
حکومت کا چاہیے کہ گجرات شہر کیلئے مختص کئے گئے اربوں کے فنڈز کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب کسی بھی سیاسی و سرکاری افراد کے خلاف سخت کاروائی کریں۔
@GovtofPunjabPK
DC is telling the CM that the sewerage system that was supposedly installed in 2005 during Chaudhary's regime exists only on paper; there are no actual pipes to be found. Surprisingly, the members of the Chaudhary family seem to have no shame about this situation.
Meanwhile, the people of Gujrat are chanting,
“گجرات عذاب الہی سے نہیں بلکہ آلِ ظہور الہی کی کرپشن کی وجہ سے ڈوبا ہے,”
This issue can be resolved with minimal effort to divert the water of Nalah Bhimber, allowing it to flow along a new path.
@DC_Gujrat and @GovtofPunjabPK should utilize available resources to take immediate action to ensure this.
#floodsinpakistan
مینگورہ سوات میں طوفانی موجوں، حکومتی بدانتظامی اور سیاحوں کی لا پرواہی نے کئی گھر اجاڑ دیے، امدادی کاروائیوں کے انتظار میں کھڑے بے بسی کی تصویر بنے معصوم بچے اور انکے لواحقین/والدین پاکستان کی عوام کیلئے نصیحت اور حکمرانوں کیلئے ایک آزمائش چھوڑ گئے، بحثیت قوم ہم ایسے سیاسی رنگ میں رنگ چکے ہیں جہاں ہمیں حکومتی نااہلی اور حادثہ صرف وہ نظر آتا ہے جسکی ذمہ داری بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمارے سیاسی مخالفین پر ہو اور کوئی بھی سانحہ جو ہماری سیاسی جماعت کی نااہلی کی وجہ سے پیش آئے تو ہم اس پر نادم ہونے اور اپنی سیاسی سنگت سے جواب طلبی کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کی سابقہ بد انتظامی کی وجہ سے ضائع ہونے والی قیمتی جانوں یا واقعات کا حوالہ دے کر خود کو اور اپنی من پسند سیاسی شخصیات کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں، ہمارے نزدیک انسانی جانوں کے ضیاع اور اپنے ملکِ پاکستان کے نقصان کی کوئی اہمیت نہیں افسوس کا مقام ہے کہ ہم پاکستانی نہیں رہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے بٹوارے میں بٹ چکے ہیں، یہ صورتحال ہمارے لئے اور ہمارے ملک کیلئے نہایت خوفناک ہے ہمیں اپنے افکار پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے ہمیں ایک قوم کی مانند سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنا تحفظ خود کرنا ہے اپنے حکمرانوں اور با اختیار لوگوں سے جواب طلب کرنا ہے، ہمیں ایک دوسرے کے دست و بازو اور محافظ بننا ہے اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو اشرافیہ کی موج مستی میں ہم کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی پستی رہیں گی۔
ضلع گجرات میں دو بچوں کو جنم دینے والی 22 سالہ غریب بیٹی انتظامی نا اہلی کی بھینٹ چڑھ گئی، ضلعی اور صوبائی سطح پرکمیٹیاں تو بنائی گئیں لیکن یقیناً خطاوار غریب مریضہ ہی قرار پائی ہو گی، سرائے عالمگیر اور جہلم کے ہسپتالوں کے گرداب میں پھنس کر ورثا مایوس اور ضلع بھر سے اٹھنے والی آوازیں بھی خاموش ہو گئیں، صبا رانی کی عرضی بلاشبہ آسمانوں پر لکھی جا چکی ہو گی جس کے نتائج یقیناً غفلت کے مرتکب افسران کو بھگتنے ہیں پڑیں گے۔
سرائے عالمگیر ہسپتال میں انتظامی نا اہلی کے باعث 20 سالہ بیٹی کے انتقال پر دل بہت رنجیدہ ہے، پنجاب حکومت صحت کے شعبہ خاطر خواہ تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن گجرات پر مسلط نا اہل ٹولے کی قابلیت محض فوٹو سیشن تک محدود ہے، اس معصوم بیٹی کا خون ضلع گجرات پر مسلط شدہ گروہ اور محکمہ صحت گجرات کے سربراہان کے سر ہے، گجرات ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بے ضابطگیاں تو زبان زدِ عام ہیں لیکن انتظامی معاملات میں انکی غفلت اب گجرات کے باسیوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے، پنجاب حکومت کو اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلع گجرات محکمہ صحت کے سربراہ کی نشست پر فیلڈ ورک کے تجربہ کے حامل آفیسر کی تعیناتی کرنی چاہیے جو دفتر میں بیٹھ کر محض رپورٹس بھیجنے کی بجائے ہسپتالوں کا دورہ کر کے بہتری لانے کیلئے اقدامات کرے اور اس افسوسناک واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والی معصوم بیٹی کے لواحقین سے اظہار ہمدری کیلئے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف انکوائری کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔