During the Islamabad Talks, deep appreciation to Information Minister @TararAttaullah for his exceptional leadership in steering a coherent, responsible, and dignified national media narrative. His coordination with local media houses, reporters, bureau chiefs, and international media teams reflected clarity, responsibility, and strategic communication at a critical moment.
Special acknowledgement to DG ISPR Ahmed Sharif Chaudhry for ensuring seamless coordination and professionalism in managing the information environment with precision, discipline, and strategic clarity.
Sincere appreciation is also extended to both local and international media for their responsible coverage and professional conduct, contributing to a balanced and constructive global narrative.
The arrangements for international media were executed with world class professionalism, presenting Pakistan’s perspective with confidence on global screens and reinforcing the spirit of maturity, unity, and national responsibility throughout the #IslamabadTalks .
وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا۔ یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے نہایت دانشمندی کے ساتھ فِسکل اسپیس پیدا کی، کفایت شعاری کے اقدامات (Austerity Measures) اختیار کیے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کی، اور ہر ممکن طریقے سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ عالمی سطح پر جہاں مختلف ممالک میں پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، وہاں پاکستان کو اس بحران سے محفوظ رکھا گیا، یہ مضبوط پالیسی اور مؤثر سپلائی چین مینجمنٹ کا ثبوت ہے۔
یہ فرق ہوتا ہے ایک ذمہ دار قیادت اور ایک ایسی قیادت میں جس نے اپنی جھوٹی اور مصنوعی سیاست کو بچانے کے لیے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔
آج ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کی قیادت شہباز شریف جیسے ذمہ دار اور سنجیدہ رہنما کے ہاتھ میں ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
آج بھی جب قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، تو اسے عام عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے متوازن کیا گیا۔ 2 ویلرز استعمال کرنے والے محنت کش طبقے، چھوٹے کسانوں (25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے)، اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو خصوصی ریلیف دے کر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔
یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ ہر ممکن حد تک سہارا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔
میں اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو وفاق کی اکائیوں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونے پہ مبارکباد دیتی ہوں اور تمام وزرائےاعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
ہم انشااللہ ایک قوم بن کر ان مشکل حالات کامقابلہ کریں گے انشاءاللہ
انشاءاللہ، جیسے جیسے عالمی حالات بہتر ہوں گے، اسی عزم اور حکمت کے ساتھ مزید ریلیف بھی فراہم کیا جائے گا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد🇵🇰
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران پر ہونے والے حملوں نے دنیا میں ایک معاشی اور توانائی کا بحران پیدا کردیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 78 ڈالر سے بڑھ کر 106 روپے فی بیرل ہوچکی ہے۔ اس کا کم ترین حصہ عوام کو منتقل کرنا پاکستان کی معیشت کے بےحد ضروری تھا۔ انشاءاللّہ پاکستان اور پاکستانی قوم اس مشکل وقت سے متحد ہوکر نکلے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا عزم ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے گا اور اس صورتحال میں ذخیرہ اندوزی کرکہ ناجائز منافع کی کوشش کرنے والوں کو سختی سے نمٹا جائے گا
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اسرائیل اور ایران تنازعے کے نتیجے میں اس خطے سے آنے والے تیل پر انحصار کرنے والا پاکستان، شدید متاثر ہو رہا ہے۔ جس سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ یقیناً ایسے فیصلے خوشی اور مرضی سے نہیں کئے جاتے، بلکہ معاشی تحفظ اورعالمی بحران سے قوم کو نکالنے کی ذمہ داری کے تحت کرنے لازم ہوتے ہیں۔
جنگی حالات میں، قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے، ہمیں اتحاد قائم رکھنا اور پاکستانی بن کر یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ قوم اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف صاحب ،قوم اس بحران کے مقابلے کے لئے آپ کے ساتھ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ہمت، جرات، دانائی، دور اندیشی اور اجتماعی کاوش کا مظاہرہ کریں۔
میڈیا، عوام، ہر خاندان نے اس بحران کے مقابلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ آئیں ایک ثابت قدم قوم بن کر اس چیلنج کا سامنا کریں۔ قومیں آزمائش کے وقت بچت اور کفایت کے اقدامات اٹھاتی ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا گراف جس تیزی سے 78 سے 106 ڈالر تک پہنچا ہے ایسے میں اس کے اثرات سے مقامی معیشت کا بچنا ناممکن ہوتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی یہ تبدیلیاں براہ راست ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ لیکن ان حالات میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی ایسی کوئی عالمی لہر آتی ہے تو معاشرے میں موجود کچھ عناصر اسے ناجائز منافع کمانے کا سنہری موقع بنا لیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کرنا اور مجبوری کا فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھانا ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔ اس بحران میں جہاں عالمی قیمتیں ایک چیلنج ہیں، وہیں ان اندرونی بدعنوانیوں کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے تاکہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔
حکومت کی حکمت عملی بہت واضح ہے، عالمی بحران کے باوجود ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنا، ذخائر محفوظ رکھنا، اسمگلنگ روکنا اور عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنا۔ یہ سب اُن تنازعات کے جاری رہتے کرنا، جن سے عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوں، آسان کام نہیں ہے۔ جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں گی، اسی تناسب سے پاکستان میں بھی عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔انشااللہ
آپ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا ملک اس وقت ایک نہایت حساس اور غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ خطے میں جنگی کشیدگی بڑھ چکی ہے، ہمسایہ ممالک میں تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں اور اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ تک پھیل چکے ہیں۔
دنیا میں اس وقت غیر یقینی صورتحال ہے۔ اوپیک (تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی تنظیم) نے تیل کی پیداوار کم کر دی ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے پوری دنیا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ایسے وقت میں جب ہمیں ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہیے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ بے شرم لوگ جان بوجھ کر پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔
ذرا سوچیں، کون سی حکومت خوشی سے چاہے گی کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالے؟ اگر وقتی واہ واہ اور سیاسی فائدہ مقصد ہوتا تو یہ حکومت بھی جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے کر سکتی تھی۔
لیکن ریاستیں سیاسی سٹنٹس یا وقتی مقبولیت سے نہیں بلکہ مشکل اور ذمہ دار فیصلوں سے چلتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے جس میں سیاست نہیں بلکہ ریاست اور معیشت کو ترجیح دی گئی ہے۔
اگر وقتی ریلیف دے کر معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال دیا جاتا تو ملک دوبارہ اسی معاشی بحران کی طرف جا سکتا تھا جس کا ہم پہلے سامنا کر چکے ہیں۔
لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اپنے ملک اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں اور جھوٹ، افواہوں اور پروپیگنڈے سے بچیں۔
پاکستان ہمارا گھر ہے
اس کو مضبوط کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ان شاء اللہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔ 🇵🇰
ایران پر حملوں کے بعد کی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل/ پٹرول 78 سے 106 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔ حکومت نے عالمی قیمتوں کے مطابق 110 روپے کے بجائے 55 روپے اضافہ کیا، جبکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں ٹینشن کی وجہ سے پوری دنیا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمت چند روز میں 78 سے 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی قیمت ایڈجسٹ کرنا پڑی مگر اضافہ محدود رکھا گیا۔وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا
مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی کشیدہ صورتحال نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ چند ہی دنوں میں تیل کی قیمت 78 ڈالر سے بڑھ کر 106 ڈالر جبکہ ڈیزل تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔
ان عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان میں اضافہ محدود رکھا گیا ہے۔ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کے ذریعے عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ریاست اپنی رٹ ہر صورت قائم کرے گی
نائب وزیراعظم و وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے گزشتہ رات پیٹرولیم کی قیمتوں اور عالمی صورتحال جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں دنیا بھر میں اضافہ ہوا ہے، پر پریس کانفرنس کی۔ قیاس آرائیوں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ حکومت پاکستان اور متعلقہ وزارتیں وقتاً فوقتاً درست اور تصدیق شدہ معلومات جاری کرتی رہیں گی۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بہت سے دیگر ممالک کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے بچت، کفایت شعاری اور
سرکار کے معاملات میں سادگی کے حوالے سے قابل عمل حکمت عملی کی تشکیل کے لیے 48 گھنٹے دہے ہیں۔
وزیر اعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پٹرولیم کو چاروں وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کرنے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات اور انکے نفاذ پر بات کرنے کا ٹاسک دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوام کا استحصال نہ ہو، اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام کے استحصال میں ملوث عناصر کیلئے وزیرِ اعظم کی بالکل رعایت نہ برتنے کی ہدایت ہے، احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ہوائی جہاز کی سعودی فضائی حدود میں داخلے پر سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے شاندار استقبال کیا۔
✈️🤝🇵🇰🇸🇦
#PakistanSaudiPartnership
وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف (@MaryamNSharif) کا وژن، پنجاب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں تمام صوبوں پر بازی لے گیا۔
جنگلی حیات اور بقا کے خطرے سے دو چار جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے لئے صوبہ پنجاب جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہوگیا۔
"ہم 28 مئی والے ہیں۔" ایک نظریہ، ایک سوچ اور وطن سے محبت کی لازوال سچائی کی داستان ہے۔ پاکستان کی خاطر اپنا ہر غم اور ہر مفاد قربان کر دیں گے لیکن وطن پر کبھی آنچ نہ آنے دیں گے کیونکہ یہ وطن ہماری ماں، ہماری آن اور ہمارا گھر ہے۔ ہماری عزت، پہچان اور ہر شناخت اسی کے دم قدم سے ہے
سفارتی محاذ پر مثبت پیشرفت کا سلسلہ جاری
امیرِ کویت اور امیرِ قطر نے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی دورہِ پاکستان کی دعوت کو قبول کر لیا۔
امیرِ کویت اور امیرِ قطر کا دورہِ پاکستان کے کویت اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے میں کارگر ثابت ہو گا۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے دورہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبہ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔