یہ چیز دماغ میں رکھ لو۔ عمران خان ایک ہی ہے۔ مت کوشش کرو کسی اور کو اس کا substitute بنا کر پیش کرنے کی۔ مت کرو یہ نئی نئی لانچیں۔
عمران خان کو یہ مقام کسی شعبدہ بازی سے نہیں ملا کہ آپ اپنی فنکاری سے یہ مقام کسی اور کو دلوا لیں۔
کوشش کریں آپ کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا
29 دسمبر کو شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی کا افتتاح ہے اور خان ہمارے ساتھ ہوں گے انشاء اللہ انشاء اللہ، ماہرہ خان کی گفتگو اور خان ہمارے ساتھ ہوں گے کہنے کے بعد چہرے پر خوشی کی جھلک چیک کرو۔۔۔
فضل الرحمٰن صاحب کی طاقتور حکمرانوں پر تنقید سن کر صرف اپنے کانوں کو سرور لینے دیا کیجئے۔
اس سے زیادہ بڑھ کر اس تنقید کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔
ایمل ولی، فضل الرحمٰن اور وہ تمام لوگ جو ہمیشہ سے اقتدار کے مزے لیتے آئے اور عمران خان کے خلاف اکٹھے ہو گئے تھے اور آئندہ بھی جب جب موقع آئے گا، یہ سب PDM گروپ اکٹھا نظر آئے گا۔
ان سب کو صرف اپنے اپنے حصے کا ایک پاؤ گوشت چاہئے تھا اور ہے۔ وہ جب تک ملتا رہے گا، یہ سب خوش خوش شہباز شریف بن جائیں گے۔
جیسے ہی مفادات رکیں گے، یہ ہلکی آنچ پر کچھ تنقید اور طنز کے نشتر برسائیں گے۔
ان کے خلاف نہ کوئی مقدمہ درج ہو گا، نہ ان کو "غدار" قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی ہو گی۔
کیونکہ یہ انہی کے چلے ہوئے کارتوس ہیں جن کے خلاف گفتگو کر کے جمہوری بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ہر نظریاتی رہنما اور كاركن کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ان لوگوں کی طاقتور لوگوں پر تنقید ایک فکسڈ میچ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
چاہے وہ فکس میچ T20 ہو، ون ڈے میچ ہو یا ٹیسٹ میچ۔
اگر اتنے ہی انقلابی ہوتے تو 26ویں ترمیم پر حکومت کا ساتھ کیوں دیتے؟
اور اب بھی شامل ہو جاتے PTI لانگ مارچ میں۔
نہیں ہوۓ نا؟ کیونکہ practically کچھ نہیں کرنا۔ صرف اپنے ایک پاؤ گوشت کیلئے لفظی جدوجہد کرنی ہے۔ اب عوام سب جانتی ہے اور یہی عمران خان مخالفین کی جان کا روگ ہے۔
اب ہم پر مسلط حکمران جب بھی عوام کے ٹیکس کے پیسے پر سیر کرنے جس ملک بھی جائیں گے،
وہاں ان پر یہ بدنما دھبہ ساتھ ساتھ جاۓ گا کہ انہوں نے پانچ کروڑ سے زائد آبادی کے صوبے کے وزیر اعلی کو اغوا کر لیا۔
یہ لوگ آئینے میں اپنا سامنا کیسے کرتے ہیں؟
یہ لوٹ مار کی دولت ان کو اللّه کے مقرر کردہ وقت سے بچا لے گا جب موت کا فرشتہ ان کی روح قبض کرنے آئے گا؟
کیا روز محشر یہ اللّه کو جواب دے پائیں گے کہ انہوں نے اتنا بےحد ظلم کا بوجھ کیونکر كمايا؟
اب تو انشاءﷲ، مکافات عمل کا انتظار ہے جب بھی اللّه کا حکم ہوا۔ ہم اپنا معاملہ اللّه کے سپرد کرتے ہیں۔
اور نبیﷺ کی حدیث مبارکہ کے مطابق جہاد کے تین درجے ہیں۔
۰ ہاتھ سے باطل کے خلاف جہاد
۰ زبان سے باطل کے خلاف جہاد
۰ دل میں باطل کو برا جاننا اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
الحمدالللّه، اس درجہ بندی کے مطابق ہمارا ایمان بہت مضبوط ہے انشاءﷲ اور کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے انشاءﷲ۔
اس ایمرجنسی گورنر راج کا کوئی افسوس نہیں کوئی دکھ نہیں بچہ بچہ جانتا ہے یہ بدمعاشی کرنے والا کون ہے دکھ افسوس وہاں ہو جہاں آئین و قانون ہو جہاں صرف بدمعاشی ہوں وہاں کیسا دکھ کیسا افسوس، جہاں تک ممکن ہو جس حد تک آپ مزاحمت کر سکتے کرتے رہیں تاکہ آپ کا ضمیر کبھی ملامت نہ کرے۔۔۔
اردو میں بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی ہے جبکہ انگلش میں مغربی میڈیا کو بتاتے ہیں خیبر پختونخواہ حکومت نے کم عمر شادیوں والا قانون منظور نہیں کیا، واہ منافقوں واہ۔۔۔
ان سے ملیے محترم پیشاب الدین کبھی انقلابی کبھی تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن لڑنے کے امیدوار کبھی حکومتی حصہ اور ٹٹا میرا مطلب ٹاوٹ تو پہلے دن کا، لعنت ان جیسے دو نمبریوں پر۔۔۔
بطور زیورات کے ماہر، میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ مریم نواز کی بیٹی کے زیورات کے سیٹ میں جڑے ہوئے 60 قیراط کے تین فینسی انٹینس پیلے ہیرے اتنے نایاب ہیں کہ ممکن ہے دنیا میں اس نوعیت کے مزید تین ہیرے بھی دستیاب نہ ہوں۔ ایک غریب اور بدحال عوام کے سامنے یہ ایک انتہائی گھناؤنی عیاشی ہے، جس کے ساتھ کھڑے ہونے کا آپ دعویٰ کرتے ہیں۔ ساره تاثیر
#Pakistan @saratasee
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
روتے بندے کو ہنسانے کا فن ڈاکٹر شہباز گل پر ختم ہے ایک فیصل ابادی اوپر سے پورے پاکستان کا ہیرو جس نے اپنی جان پر تشدد برداشت کرکے اپنے لیڈر کے لیے ڈھال بنا ان کے خلاف گواہی نہیں دی تھی۔ہزار شیر افضل خان مروت وار کر پھینک دوں میں ڈاکٹر شہباز گل پر سے۔۔۔
یہ بھی کسی نے خوب کہا کے عظمی بخاری جہاں اپنی حکومت کے ہوتے ہوئے سیکورٹی تھریٹ کی وجہ سے عدالت نہیں جا سکتی اُسی شہر میں سہیل آفریدی اکیلا شیر کی طرح جھومتا گاتا عمران خان کے نعرے مارتا رہا۔۔۔
سہیل آفریدی میرا اور چار کروڑ لوگوں کا منتخب نمائیندہ ہے اسے اغوا کرنا اور سڑک پر پھینک دینا چار کروڑ لوگوں کی توہین ہے اب اگر خیبر پختون خواہ میں اس مسلط قابض رجیم کا کوئی بھی شخص آئے تو اُسے پیڑ سے لٹکا دیا جائے !
ہر طرف سدرہ صاحبہ کے ظلم پہ بات چل رہی تو ان کے ایکس پر ایک پرانی چھوٹی سی ٹویٹ سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کے لیے وہ اپنے دل میں کس طرح کے خیالات رکھتی ہیں۔۔۔
ڈاکٹر شہباز گل کو بھی شائد مطیع اللہ جان نے ارشد شریف سمجھ لیا تھا اچک اچک کر جب ڈاکٹر شہباز گل سے سوال کرنے لگے تو ڈاکٹر شہباز گل نے انھیں ایسا گھومایا کہ مطیع اللہ جان چکر کھا کر گرنے لگے تھے 😂