اللہ کا شکر ہے۔ آپ لوگوں نے ساتھ دیا۔ ہم نے عدالت سے وعدہ کیا ہے کہ ہم میڈیا سے بات نہیں کریں گے، سپریم کورٹ کے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم کےبعد علیمہ خان کی گفتگو
#EnoughIsEnoughFreeKhan@Aleema_KhanPK
عمران خان کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی کے ہمراہ ہونگے، اسپتال کے اخراجات خود برداشت کئے جائیں گے، سپریم کورٹ کا حکم۔
#EnoughIsEnoughFreeKhan
“The leaked Commonwealth report about the elections of February 8th (2024) has once again revealed the brazen electoral fraud used to shamelessly steal our mandate. According to the Commonwealth, this report had already been officially submitted to the Government of Pakistan, yet individuals like Sikandar Sultan Raja, who are utterly devoid of conscience, played a central role not only in facilitating electoral theft but also in concealing it. The law in Pakistan prescribes severe punishment for election fraud: Article 6 of the Constitution applies. However, every law in our country is currently rendered meaningless, except the ‘Asim Law’.
Individuals like Liaquat Chattha are commendable who prioritized the voice of their conscience over jobs and titles. After this theft, a massacre was perpetrated, and the 26th Constitutional Amendment was imposed. The judges who spoke up against the amendment also deserve to be appreciated.
The time for accepting a government that originated from a rigged election as legitimate is over. That is why resignations from the Senate and parliamentary committees have been tendered.
My message to my party's parliamentarians is to neither fear the ‘Asim Law’ imposed upon the country, nor the prospect of imprisonment. A single individual seeks to crush you merely to satisfy his own lust for power. The more you fear them, the more they will suppress you. You are standing on the side of truth, and truth gives man courage. Victory belongs only to the truth.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
1/3
وہ مناظر جو جیوڈیشیل کمپلیکس کےمرکزی دروازےسے داخل ہوتےہی مجھےدیکھنےکو ملے۔کوئی ابہام باقی نہیں رہناچاہئیےکہ نامعلوم افراد کےہمراہ اس ساری نفری کی وہاں موجودگی کا مقصد مجھےجیل میں ڈالنانہیں بلکہ ایک فرضی لڑائی کی آڑ میں مجھےرستےسےہٹانا اور میری موت کو ایک حادثہ قرار دینا تھا۔
An immediate inquiry needs to be held on the police firing on unarmed protesters killing at least 25 and injuring hundreds.
In France despite protesters hurling petrol bombs at the police, not once were they fired upon by the police
Under the smokescreen of arson, which any independent investigation will show was pre planned to justify the crackdown on PTI, there is no mention in the media discourse of the massive violations of our fundamental right to protest peacefully
And no mention of an inquiry into the killing of at least 25 peacefully protestors and wounding of around 600.
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
ہم سب پاکستانی ہیں، ہمارے لیے کوئی باڈر نہیں ہے سب اکٹھے ہیں سب بھائی ہیں ، پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالٰہ الاللہ۔ علیمہ خان
#FreeIKTheNationalAsset#RetweetImranKhan
میں لا الہ الا اللہ کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے.
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی#RetweetImranKhan
عمران خان کو کروڑوں پاکستانی اور بیرونی ممالک ان کی جدوجہد، لیڈر شپ اور 1992 کے ورلڈ کپ سمیت مختلف حوالوں سے پہچانتے ہیں۔۔۔
نام دبائے جا سکتے ہیں، تصویریں چھپائی جا سکتی ہیں، مگر تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔۔!!
#ReleaseImranKhan#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے
کھڑے رہ گئے تو یقیناً جیت جائیں گے۔ بس آخری گیند تک لڑنا ہے! #خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے اور اس کے بعد کپتان کے ہاتھ اور مظبوط کرنے ہیں پاکستان کی اونچی اُڑان کے لیے!
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے ورکرز سپورٹر سے اپیل ہے کہ پولنگ سٹیشن سے فارم 45 اور فارم 47 وصول کیے بغیر نہ جائیں اور اپنے ووٹ کا تحفظ برقرار رکھیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان