ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
عسکری حکومت کا خیبر پختونخوا میں جمہوریت پر ایک بار پھر شب خون مارنے اور چیف منسٹر سمیت قیادت کے اغواء کے خلاف لاہور میں وکلاء کا احتجاج۔
#چلو_پشاور_کی_طرف
خیبرپختونخوا کو بلوچستان بنانے کا عملی مظاہرہ، اپنی طاقت کے نشے میں مست قابض ٹولے کو پاکستان کی فکر ہے نہ عوام کی اس وقت جو کچھ خیبرپختونخوا میں ہورہا وہ کسی صورت پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ذاتی مفاد کے لیے انہوں نے قومی مفادات کی بھینٹ چڑھا دی ہے۔ #گورنر_راج_نامنظور
”خیبر پختونخوا کے عوام سے ہزاروں ووٹ لیکر بیٹھنے والی صوبائی کابینہ کو ہٹا کر ان لوگوں کو مسلط کر دیا جنہیں کوئی جانتا تک نہیں۔ فیصل کریم کنڈی کے حوالے پورا صوبہ کر دیا جو 2008ء سے تمام انتخابات میں عوام سے مسترد ہوتا آیا ہے۔ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی فوج تعینات ہو گئی، اب باقی 2 صوبوں میں بھی فوج لگا دیں تا کہ عوام کو پتا تو ہو کہ پورا نظام چلا کون رہا ہے۔ دہشتگردی کا صرف بہانہ بنایا گیا ورنہ اصل مقصد تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے خود قابض ہونا تھا۔“ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
#گورنر_راج_نامنظور
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
ہر سرکاری ملازم قائداعظم کے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کے خطاب اور آئینِ پاکستان کے مطابق اپنے حلف کا پابند ہے۔
یاد رکھیں! آئینِ پاکستان کے خلاف جا کر ایک ذہنی مریض کے غیر آئینی احکامات کو مان کر آپ پاکستان کے مجرم ٹھہریں گے اور ایک دن آپ کا احتساب ضرور ہوگا!
#گورنر_راج_نامنظور
#نکلو_پشاور_کی_طرف
12 اکتوبر ہے۔ آج ہی کے دن 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا۔ اس کا انجام کیا ہوا، وہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن اُس وقت میری پارٹی کا سربراہ مجھے تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ نہ بھاگتا تو شاید وہ مارشل لا زیادہ دیر نہ چلتا۔ تمام اپوزیشن، خصوصاً بینظیر بھٹو، نے اس مارشل لا کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً سب نے مٹھائیاں بانٹیں۔
میں نے تنہا اس مارشل لا کا مقابلہ کیا۔ آج کے نام نہاد وزیر نے سعودی عرب اور دبئی میں نوکریاں لے لیں۔ مجھے 23 سال کی سزا ہوئی۔ مجھ پر تشدد بھی ہوا۔ میرے ساتھ سیل میں موجود لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
ہم نے مقابلہ کیا، لڑ گئے، اور پھر وہ ڈکٹیٹر مرتے دم تک ملک میں قدم نہ رکھ سکا۔
آج اُس سے کئی گنا برا مارشل لا ہے۔ لیکن آج کے دن بھی، 27 سال بعد، اسلام آباد میں 111 بریگیڈ نافذ ہے۔
فرق اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر ڈٹ کر ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ اس ڈکٹیٹر کو ہرا رہا ہے، اسے خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا کارکن بھی آج قربانیاں دے رہا ہے۔
میرے پاکستانیوں! اس کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دینا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔
سہیل آفریدی
Arrested but not defeated
گورنر مالک مشرقی پاکستان میں بھی راج کرتا تھا، مگر آخر اُسے اپنی جوتی چھوڑ کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔ پھر بھاگتا ہوا پکڑا گیا اور جیل میں اُسے موت آ گئی۔ اُس کے پیچھے جو فوج تھی، اُسے کیسے سرنڈر کرنا پڑا، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ملک کے حالات تو خراب ہیں، مگر اُس سے بھی زیادہ عاصم منیر کے حالات خراب ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر کے ہر جنکشن پر پولیس تعینات ہے۔ اتنا ڈرا اور خوف زدہ کسی فاشسٹ ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔
”خیبر پختونخوا کے باہر سے آنے والا ہر پارلیمانی ممبر اپنے ساتھ 500، جبکہ خیبر پختونخوا کے پارلیمانی ممبران میں سے ہر ایک اپنے ساتھ 1000 بندے لے کر صوابی پہنچیں۔“
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، مردان میں لانگ مارچ سے خطاب
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں نے کبھی سوچا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر فوجی آپریشن کرنے کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟
”یہ جو جرنیل بیٹھے ہیں، یہ جو ججز بیٹھے ہیں، یہ جو بڑے بڑے کرسیوں پر بیٹھے ہیں ان کو کیا پتہ جب اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہےجب ڈرون حملے ہوتے ہیں تو کیا تکلیف ہوتی ہے،جب آپ IDPs بن جاتے ہیں تو کیا تکلیف ہوتی ہےمیں ان کو دعوت دیتا ہوں، آؤ ایک دن کے لیے اپنے بچوں کوان کیمپوں میں بٹھاؤ، پھر تمہیں پتہ چلے گا، عام پاکستانیوں کے کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔“
وزیراعلی خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر