اٹک/وکیل ملاقات
اٹک۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدرپنجھوتہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں ملاقات۔
اٹک۔ملاقات ایک گھنٹہ جیل میں انتظارکروانے کےبعدکروائی گئی ۔وکیل
اٹک۔ڈپٹی سپریڈنٹ کےکمرہ میں ہونے دو گھنٹہ چیئرمین سے ملاقات رہی۔نعیم حیدر
اٹک۔دوران ملاقات پاوراف ٹارنی پر چیئرمین کے دستخط کروائے گئے ۔وکیل
اٹک۔ملاقات کےدوران چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل کے حوالہ سے مسائل کاذکرکیا۔نعیم حیدر
اٹک۔چیئرمین کو جیل میں سی کلاس دی گئی ہیں اورکسی قسم کی کوئی سہولیات یہاں نہیں ۔وکیل۔
اٹک۔جیل کےبیرک میں نہ ٹی وی ،اخبار نہ روشنی ،نہ کھڑکی نہ روشن دان اور نہ ہی باہرسے کھانے کی اجازت دی جارہی ۔وکیل
اٹک۔بیرک کےچھت سے ساری رات بارش کا پانی ٹپکتارہا،دن کو مکھیاں اوررات کو کیڑے تنگ کرتے ہیں ۔وکیل
اٹک۔چیئرمین نے بتایاکہ جیل میں اگر سی کی جگہ ڈی کلاس بھی مجھے دی جائےتومجھے قبول ہے ۔نعیم حیدر
اٹک۔جیل کےاندھیرے والے کمرے میں مجھے رکھاہواہے ۔وکیل
اٹک۔اتنی تکالیف کے باوجود چیرمین کامورال بلند چہرے پر بشاشت اورتازگی تھی ۔نعیم حیدر
اٹک۔میں کبھی غلامی نہیں کروں گا ان کےسامنے کبھی نہیں جھکوں گاچاہے جو مرضی ہے یہ کرلیں ۔وکیل۔چیئرمین
ریلوے کا جوائنٹ لوھے کا ہوتا ہے۔ مگر لکڑی لگا کر ملکی معیشت کو ترقی دینے کی کوشش میں پوری ٹرین تباھ کردی اور درجنوں انسان اجل کا شکار ہوگئے۔ کچھ تو شرم ہوگی میرے حکمرانوں۔
#railaccident
*🚨💥قاضی فاٸزعیسی نے عوام سے سوال کیا جو عدالت کارواٸی سے مطمن ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں کسی نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا✋*
*ویڈیوں پھیلانا اپکی ذمہ داری*
شرم تم کو مگر نہیں آتی 😡😡
نعیم حیدر پنجوتھہ دو گھنٹے سے جیل میں موجود ، انکی کوشش یہی تھی کہ جیسے ہی وکالت نامہ ملے واپس آئے اور اسلام آباد اہئی کورٹ پہنچیں لیکن یہ ہمارا آج کا عدالتی وقت ضائع کرنے کی سازش ہے کہ اتنی دیر گزر جانے کے بعد بھی باہر نہیں بھیجا گیا
اس ایف آئی آر کے مطابق عمران خان صاحب کو گرفتار 4.20 پر بذریعہ تعمیل وارنٹ گرفتار کیا گیا اور اسی دوران جعلہ و فرضی وقوعہ بنا کر مقدمہ ریس کورس پولیس اسٹیشن میں درج ھوا جہاں پر زمان پارک میں موجود تمام پرسنل سٹاف کو گرفتار کیا گیا-
گرفتاری 1 سے 1.30 تک ھوئی، سارے ملک اور میڈیا نے دکھایا اور رپورٹ ھوا-
ایسی جعل سازیاں اور دو نمبریاں؟
پولیس کو لوگوں کے گھروں میں ریڈ کا صرف قانونی حالات میں اختیار ھے اور بھی قانون کے تمام تقاضے پورے کر کے-
گھروں کے تمام سامان کو توڑنے کا اختیار کس نے دیا؟ یہ کس کے ایماء پر کیا جاتا ھے؟ اور مقصد کس کے لئے؟
گھروں میں موجود ملازمین کا گناہ صرف کسی بھی شخص کے گھر ملازمت کرنا ھے؟
پولیس جو کہ پروفیشنل ھونے کا دعویدار ادارہ ھے اسکی عزت پامالی ھمیشہ ایسے گھناؤنےاور نیچ اقدامات کی بنیاد پر ھوتی رھے گی اور ھونی چاھئیے-
خواتین ملازمین تک کو نہیں چھوڑا جاتا، ھراساں و اغوا کرنا معمول کے معاملات بن گئے ھیں-
زندہ باد۔ ایک خاتون نے اپنے گھر سے نکل کر بہت سے بچے اکٹھے کر لئے جو سب عمران خان کی ناجائز گرفتاری پر افسردہ تھے
ان سب نے کھل کر احتجاج کیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ یہ بچے اس ملک کا مستقبل ہیں اور ہم نے انہیں سکھانا ہے کہ کبھی ظلم پر خاموش نہ رہو 👍
اتنے بڑے سانحے پر بھی گھٹیا حکومتی حرکتیں جاری ہیں، اب ٹی وی چینلز پر خبر چلوائی جا رہی ہے کہ
"شہباز شریف نے ٹرین حادثے کا نوٹس لے لیا"
لوگوں کو اب ان شوبازیوں اور رنگ بازیوں سے شدید نفرت ہو گئی ہے.