یہ اطہر من اللہ وہی ہے نہ جس نے خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی کے نوے روز میں الیکشن کا سپریم کورٹ کا حکمنامہ قاضی اور منصور علی شاہ کے ساتھ مل کر متنازع بنایا تھا؟
🚨🚨
میرے لیے اہم اور پریشان کُن یہ جاننا ہے کہ “ڈان اخبار نے اس تجزیے کا خلاصہ شائع کرتے ہوئے اسکی تفصیلی تحریر ڈان ڈاٹ کام پر پرزم میگیزین میں شائع کرنے کا اعلان کیا مگر متعلقہ لنک پر اس تفصیلی تحریر کو بظاہر ہٹا دیا گیا ہے۔” باقی جہاں تک جسٹس (ر) اطہر من اللہ کے تجزیہ کا تعلق ہے اِس میں کوئئ نئئ بات نہیں نہ ہی مرض کی تشخیص و علاج وہ تجویز کیا ہے جو کسی دوسرے کو معلوم نہ ہو۔ جسٹس اطہر من اللہ نے قوم کے ٹیکس سے کروڑوں کی تنخواہیں و مراعات لی ہیں اور جس ادارے کے نام پر لی وہاں اِن کے دوست و فرم فیلو یحیٰ آفریدی سکنہ اسلام آباد پولو گراونڈ اور امین الدین سکنہ کوہسار کمپلیکس و ہم نوا نے جو قیامت عوام اور بُنیادی حقوق پر ڈھائی ہے بطور عینی شاہد اطہر من اللہ صاحب کو اب وہ تمام واقعات تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ پر لانے چاہئے نہ کہ ریٹائرمنٹ کے “بعد بھی” ہمیں جج صاحب کے لیکچر اخبارات میں ملیں۔
@ahmadwaraichh@ShahidAslam87 اور ساتھ میں میڈیا پر آ کر حلفاً بتائیں کہ 9 اپریل کی رات کو کس کے کہنے پر عدالتیں کھولیں اور منصور علی شاہ بھی حلفاً بتائیں قاضی عیسی کو کیوں بچایا تھا کیا آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا تھا یا صرف یاری دوستی کی خاطر اس ناسور کو قوم پر مسلط کیا تھا۔یہ جواب دینے پڑیں گے
اطہر من اللہ صاحب کو سب سے پہلے تو یہ بتانا چاہیے کہ پنجاب اسمبلی الیکشن کا 2-3 کا فیصلہ تھا، انہوں نے بینچ سے الگ ہونے کے بعد اپنے نوٹ میں کس طرح 3-4 کا فیصلہ بنا دیا تھا۔ پھر ملک گیر تحریک شروع کر لیں گے
اور یہ بھی بتائیں کہ کس کی درخواست دائر ہونے پر رات کے بارہ بجے عدالت لگالی تھی اپریل 2022 میں اور وزیراعظم کے کسی بھی حکم کے خلاف فیصلہ دینے کی تیاری کرلی تھی
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
اگر وکلا تحریک چلانی ہے تو جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ اور جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے باہر دھرنے پہ بیٹھ جائیں پھر پولیس آئے یا فوج وہ خود سے نہ ہلیں جیل میں ڈالتے ہیں ڈالیں ڈنڈے مارتے ہیں ماریں یہ دو ڈٹ کے رہیں تو وکلا تھریک انکے پیچھے کھڑی ہوجائے گی جو گناہ ان دونوں نے کئے ہیں انکا ازالہ صرف ایسے ہی ممکن ہے قاضی کو ریسکیو کرنے سے لے کے قاضی کو اثدھا بنانے میں ان دو ججوں کا بہت کردار ہے آئین توڑنے میں بھی سہولت کاری انہوں نے کی اب اسکو ٹھیک کرنے میں قربانی بھی ان دونوں کو دینی چاہیئے!
اطہر من اللہ نے عمران خان سے نواز شریف کی زندگی کی ضمانت مانگی۔۔۔
اطہر من اللہ نے آدھی رات کو 12 بجے عمران خان کے خلاف عدالت کھولی
اطہر من اللہ نے عمران خان کی دو دونوں اسمبلیاں توڑنے پر 90 روز میں الیکشن کرانے میں رکاوٹ پیدا کی
اطہر من اللہ نے نواز شریف کی سزا معطل کی
اور آج ان کا ضمیر جاگ گیا ہے کہ جی وکلا تحریک چلے
جس طرح ایران کی مدد کو کوئی نہیں آیا وہ جیت گیے ایسے ہی عمران خان کی مدد کے لیے بھی پارٹی سمیت سب غائب وہ بھی جیت جائے گا۔ ۔۔۔انشالله
اب کمپرومائزڈ قیادت علیمہ خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہیں چاہیے کہ کے پی میں رہیں وہاں سے گرفتار کریں تاکہ سب کو پتہ چلے
علیمہ خان موروثی نہیں، بلکہ مجبوری میں نکلی
یہ مراعات، خزانے یا عہدوں کا وقت نہیں، یہ قربانیوں کا وقت ہے۔
جنہیں اُن کا میدان میں نکلنا ہضم نہیں ہو رہا، وہ خود قربانی دینے کے لیے آگے آئیں
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"۔ علیمہ خان
علیمہ خان کو اگلی پیشی یا اسکے بعد والی پیشی پر بوگس کیس میں سزا سنا کر جیل بھیجا جائے گا۔
لیکن بہادر بھائی کی بہادر بہن جانے سے پہلے بھی عوام کے درمیان آئی۔
عمران خان کے نام پر ممبران اسمبلی ،وزیراعلی بننے والوں کو باور کروا رہی ہیں جس عمران خان کی وجہ سے عہدے دار بنے ہو اسکے لیے کچھ تو کر لو۔
مولانا فضل الرحمان کا خطاب ۔۔۔۔
پھر کہتے ہیں ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں
تیرے جوانوں نے پیٹی اسی لیے باندھی ہے
تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔۔میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے
الیکشن میں حصہ لیجیے۔پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں
ابھی تو علیمہ خان کی موومنٹ کا پہلا دن تھا۔خان کی رہائی کیلئے احتجاج تو درکنار جو منافق کبھی آڈیالہ کے گیٹ تک نہیں آئے۔ان غداروں کی جلن ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ان شاءاللہ تمھیں تمھارے ہینڈلرز کیساتھ نشان عبرت بنائینگے۔۔۔۔
جو چیز پوری پی ٹی آئی قیادت نہیں کر سکی
وہ علیمہ خان نے کر دکھایا ۔ لوگ دیوانہ وار اکٹھے ہو گئے۔
پی ٹی آئی قیادت یہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
وہ لارے دے دے کر لوگوں کے باہر نکلنے کا جذبہ کچلنے کے علاؤہ کچھ نہیں کر رہے تھے
اور اب
علیمہ خان کے خلاف پینڈنگ پڑے کیسز اور ایجنسیاں متحرک ہو جائیں گی
علیمہ آپا نے سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر دیا۔ اب ہم سب کا فرض ہے کہ ان کا ساتھ دیں اور اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے نکلیں اور مزاحمت کی ایک تاریخ رقم کریں۔
جو کہتے ہیں کہ لوگ نہیں نکلتے وہ آج کا استقبال دیکھ لیں۔ سچ یہ ہے کہ لوگ جس پر اعتبار کرتے ہیں اس کے ساتھ نکلتے ہیں۔
علیمہ خان 🚨🚨
بھیک مانگنے سے آزادی نہیں ملتی
غیرت دیکھاو ہمت دیکھاو طاقت دیکھاو مزاحمت کرو ۔۔
اگر یہ سب کرینگے تو اقتدار جانے کا خطرہ ہے پروٹوکول مراعات بھی تو ساتھ ساتھ چاھیے نا کیا ہوا جس کے نام پر کھا رہے ہے اگر وہ جیل میں ہے ۔۔!
تحریک انصاف میں بلو پاسپورٹ والوں کی بھی جگہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف میں عمران خان کی قید پر خاموش تماشائیوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں انڈر کور ایجنٹوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں منافقوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں دبے پاؤں کی بھی جگہ نہیں ہے
🚨علیمہ خان برس پڑیں
جب ہم سنتے ہیں کہ بات چیت ہو رہی ہے یہ لوگ بھیک مانگ رہے ہیں کس چیز کی بات چیت کر رہے ہو 80 فیصد پاکستان عمران خان کے ساتھ ہے پہلے اپنی طاقت تو دیکھاؤ پھر بات چیت کرنا بات چیت طاقت کی پوزیشن سے کرو
تیمر گرہ میں علیمہ خان کا استقبال کرنے والے کارکنان سے خطاب