میں پانچواں موسم ہوں
میں رنگ ہشتم
میں گمشدہ سیارہ
میں دوسری زمین ہوں
مجھے دریافت کرنے کے لئے تم پر
لازم ہے کہ تم بلا کے ذہین ہو!
کہ کچھ راز کند ذہنوں پہ کھلنے کے نہیں ہوتے
*لَا شَيْءَ يَدُومُ لِلأَبَد*
*حَتَّى اللَّحَظَاتُ الصَّعْبَةُ لَهَا نِهَايَةٌ!*
کُچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا،
حتیٰ کہ مُشکل لمحے بھی آخرکار ختم ہو جاتے ہیں۔
ہمیں یہ کیوں سکھا دیا گیا کہ
خوشی کے بعد لازماً غم آتا ہے؟
حالانکہ خوشی بھی اللہ کی عطا ہے۔
اور عطا پر خوف نہیں، شکر ہوتا ہے۔
زندگی میں آزمائشیں آئیں گی،
کیونکہ یہ دنیا ہے، جنت نہیں۔
مگر ہر ہنسی کو کسی آنے والے دکھ سے جوڑ دینا
نہ ایمان ہے، نہ سکون۔
اگر دل خوش ہے تو اسے قبول کرو۔
"اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔"
اللہ کا ذکر ہر حال میں ایک عظیم نعمت ہے، بہت بڑا تحفہ۔
اسی سے نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، اسی سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔
یہ دل کا غذاء ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، روح کی خوشی ہے، زندگی کا سکون ہے اور روح کی اصل زندگی بھی یہی ہے۔"
"سچ میں، اگر تم محسوس کرو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے غافل ہو رہی ہے تو تمہیں اپنے آپ کو سختی سے ٹوکنے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے آپ سے کہو
کون ہے جو تمہارے غم دور کرتا ہے؟
کون ہے جو ٹوٹے دل کو جوڑتا ہے؟
کون ہے جو بیماری سے شفا دیتا ہے؟
کون ہے جو رات اور دن تمہیں رزق دیتا ہے؟
کیا وہ اللہ نہیں؟
پھر اس کے ذکر میں کوتاہی کیوں؟
وہی تو ہے جس نے تمہیں پناہ دی، تمہاری دیکھ بھال کی، اور تمہیں بےنیازی عطا کی۔
پس قسم ہے اللہ کی، تم پر لازم ہے کہ اس کا ذکر زیادہ کرو۔
﴿يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اذكُرُوا اللَّهَ ذِكرًا كَثيرًا﴾
`میری دعا ہے آپ سب کے لئے!
اللہ تعالیٰ آپ کو روح گھائل کر دینے والوں کے سائے سے بھی محفوظ رکھے
آپ ہر قدم پر خیر پائیں! آپ کے چاروں طرف رب کی رحمت کا حصار ہو
آپ کا نصیب قابل رشک ہو!
آپ پر جنت واجب کر دی جائے
ہمارے حق میں بھی دعا فرما دیجیے
صَلِّ اللہُ تَعَالیٰ عَلٰی مُحَمَّد٘ ﷺ
یاد رکھو…
جو راستہ آج تمہیں مشکل لگ رہا ہے، کل یہی راستہ تمہاری مضبوطی کی وجہ بنے گا۔
جو دعا آج قبول نہیں ہو رہی، شاید وہ کل تمہاری سب سے بڑی خیر بن کر پوری ہو۔
جو لوگ آج تم سے دور ہو رہے ہیں، شاید اللہ تمہیں اُن لوگوں کے قریب کر رہا ہو جو تمہارے نصیب میں بہتر لکھے گئے ہیں۔
اللہ کی ہر تاخیر میں حکمت ہے۔ ہر رکاوٹ میں حفاظت ہے۔
تم صرف اپنا دل صاف رکھو، صبر کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
جو تمہارے لیے ہے، وہ تم تک پہنچ کر ہی رہے گا۔
اور جو تمہارے لیے نہیں ہے، وہ چاہ کر بھی تمہارے پاس نہیں ٹھہر سکے گا۔