عاصم منیر اس قوم کے اوپر مسلط فوج کا ایک نمائندہ ہے
اس فوج نے آج تک حقیقت میں ہمارے فائدے کی کوئی کام نہیں کیا، صرف کہانیاں سنائی ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا
یہ فوج جب تک ہمارے ملک کو تسلیم نہیں کرتی تب تک ہم اسے اپنی فوج بھی نہیں کہہ سکتے
#فخر_پاکستان_عاصم_منیر
یہ کیسے ممکن ہے کہ چوکیدار کی ملی بھگت کے بغیر چوری ہوجائے؟
لیکن ہمارے کچھ لوگوں کے اندر طاقت کی پوجا کی عادت ابھی گئی نہیں۔ توحید اور شعور ابھی پوری طرح سوچ میں نہیں گھلے ملے۔۔۔
#فخر_پاکستان_عاصم_منیر
@Muddassar04 یہاں بیٹھ کر مولویوں کی طرح ہمیں گوروں کی بے راہ روی کا لیکچر دینے سے بہتر ہے کہ اپنا قبلہ درست کریں۔
آج آپ کو موقع ملے تو اپنے بچوں کوبھی وہیں بھیجیں گے جہاں ہر امیر مولوی، ہر طاقتور کے بچے ہیں۔ منافقت چھوڑیئے اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ترقی یافتہ معاشروں کا مشاہدہ کیجیئے۔۔۔
@zooplusFR Can't find the UK branch so here goes: I placed an order in 22/04. Courier lost it, apparently got sent another, it got lost too. Now not getting my money back while they are looking for lost parcels, leaving me without money and my pets without food! Disappointing 😞
Pakistani state (army) has expanded its terrorism beyond it's border to the UK now... They have started attacking descendants who ran away to escape opression #ShehzadAkbar@BBCNews@SkyNews@DailyMail
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ نا جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار کر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
پاکستان کی مزاہمتی تحریکیں فاشسٹ رجیم کے خلاف جنگ میں ایک اور راؤنڈ جیت
چکی۔ مورل ہائ گراونڈ اب تحریک انصاف کے پاس آ چکا اور رجیم کی تنہائ بڑھتی جا رہی ہے۔ مگر جدوجہد جاری رکھنا ہو گی
تسنیم شاہ نقوی عرف بوگے شاہ کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے جس نے 90 کی دہائی میں نوازشریف دور میں لاہور ائیرپورٹ کے پارکنگ ٹھیکے سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ چونکہ بدمعاشی اور اسلحہ کی فراوانی تھی، اس لئے پارکنگ کی فیس وصولی بھی اسی طرح کرنی شروع کی اور بہت جلد منافع بخش ٹھیکہ بن گیا۔ اس کے بعد پورے ملک کے ائیرپورٹس کے پارکنگ ٹھیکے بوگے شاہ کو مل گئے۔
2009 میں بوگے شاہ نے لاہور ائیرپورٹ کے علاقے میں ہوٹل کیلئے مختص پلاٹ کی نیلامی میں حصہ لیا اور کامیاب قرار پایا۔ یونی کارن پریسٹیج نامی غیرملکی فرم رجسٹرڈ کروا کر ہوٹل کی تعمیر شروع کی۔ 2020 میں پنجاب کے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو شراب کے لائسنس کیلئے درخواست دی۔ یہ درخواست میڈیا کو لیک کردی گئی پھر اس کے بعد جاوید چوہدری سے لے کر انصارعباسی تک، جتنے بھی شریف خاندان کے انڈروئیر کی رہائشی صحافی تھے، انہوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ بزدار نے شراب کا لائسنس جاری کردیا۔
جے یو آئی کے لونڈے حرکت میں آئے، انہوں نے ریاست مدینہ کا طعنہ دیتے ہوئے اس شراب کے لائسنس کو یہودی سازش کے ساتھ جوڑنا شروع کیا اور ہر طرف شور مچ گیا کہ عمران خان نے شراب کا لائسنس جاری کردیا۔ حالانکہ یہ کام ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری کے نیچے موجود افسر کا اختیار ہوتا ہے۔
بہرحال، ان دنوں شراب کے لائسنس کو لے کر پاکستان کی مذہبی جماعتوں، ن لیگ اور تقی عثمانی جیسے مذہبی سوداگروں نے بہت شور مچایا اور کیونکہ اس لائسنس کی بدولت ان کا ایمان خطرے میں پڑچکا تھا۔
اب یہودی ایجنٹ کی حکومت نہیں، اب ایک حافظ اقتدار میں ہے۔ کل خبر آئی کہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے چار ہوٹلوں کو شراب کے لائسنس جاری کئے ہیں لیکن ہر طرف خاموشی ہے۔
نہ ن لیگ کی ایمانی غیرت جاگی، نہ فضل الرحمان کو یہودی سازش نظر آئی اور نہ ہی تقی عثمانی کا ایمان خطرے میں پڑا۔
کیونکہ اس مرتبہ محسن نقوی نے یہ لائسنس جاری کیا ہے جو کہ حافظ قرآن عاصم منیر کا سالا ہے۔
یہ ملڑے جانتے ہیں کہ اگر شور مچایا تو حافظ نے ان کی گندی ویڈیوز ریلیز کردینی ہیں اور اگر وہ ویڈیوز نہ ہوئیں تو ان کے جنسی اعضا پر اینٹیں لٹکا دینی ہیں۔
اب اس عمر میں نہ تو ویڈیوز کا بوجھ برداشت ہوگا اور نہ ہی اینٹوں کا۔
چنانچہ سب کا ایمان ابھی تک سو رہا ہے!!!