Interested in matters related to technology, infrastructure, economy, and national security in Pakistan & beyond. Likes & retweets are not an endorsement.
🚨 CIA official, Sarah Adams, reveals that India pays the Afghan Taliban $10 million dollars to help carry out assassinations against Kashmiri, Khalistani, & other leaders across Pakistan using its TTP terrorist network.
Names do not change geopolitics overnight. But in geopolitics, names often reveal where strategy is heading.
The Xi–Putin joint statements on Japan’s ‘re-militarisation’.
Hegseth’s speech in the Shangri La Dialogue defining the U.S. as a ‘Pacific Nation’
And now the restoration of Pacom, is a major indication of military lead political decisions in the future.
This crack in the strategic framework for the U.S. India relations. Resetting the security architecture by pushing India from centrality given to it in 2018, into the peripheries of the power corridors just eight years later is more than just a symbolic measure. It means that even if the Quad is not dissolved, its efficacy is questionable in the near future. The conflict and tensions from a U.S foreign policy perspective are shifting East. Even if India is no longer seen as a prop to counter China, the idea still is very clear.
Emerging geopolitical shifts in the aftermath of Operation Sindoor suggest that the environment which enabled Modi’s hardline policies is becoming increasingly restrictive, placing new limits on Hindutva adventurism.
If there remains a measure of diplomatic foresight among India’s strategic thinkers, meaningful engagement with Pakistan should resume by early 2027.
Most vulgar in speech and their Pakistani counterparts claim they've civilized others & mock others accents. And this is their accent but saaarrrr your accent
Being Punjabi and being Muslim aren't competing identities. You don't stop speaking Punjabi, loving your homeland, or valuing your culture because you're Muslim.
People aren't one-dimensional. A Punjabi can be deeply committed to Islam and still take pride in their language, history, and heritage just as Arabs, Turks, and Persians do.
Real life is far more nuanced than ideological slogans.
Sindhis are enslaved by literally every neighboring nation. Imagine loosing you're port city to Indian Migrants and Your interior to neighboring Baluchs and seriakis.
what a remarkably submissive and filthy people Sindhis are
سچ تو یہ ہے کہ پنجابی اشرافیہ جان بوجھ کر پنجابیوں کی تذلیل کرواتے ہیں
رضی دادا جو کہ ایک بزرگ بھی ہیں انہیں مجرموں کی طرح سندھی قوم پرستوں کے سامنے پیش کیا گیا اور حامد میر کی گردن کے سریئے میں مزید سختی آ گئی ہے پنجابیوں کو رنجیت سنگھ کی اولاد کہنے کے بعد
پنجاب 8ہزار سال/ہڑپن دور سے اپناسندھو دریا اور کراچی/دیبل/ٹھٹھہ کی بندرگاہ بیرونی تجارت کیلئے استعمال کررہا ہےجب سندھ کا نام نشان تک نہ تھا۔راجہ داہر ,بن قاسم, مغل,انگریز اور رنجیت سنگھ کے اتحادی سندھ کے بلوچ حاکم تالپور بھی سب نے کراچی کی بندرگاہ پر پنجاب کا ہزاروں سال قدیم حق یہ حق تسلیم کیا۔اس لئےدنیا کی کوئی طاقت پنجاب پر کراچی پورٹ کبھی بھی بند نہیں کر سکتی۔
مسلہ مریم اورنگزیب دا نہیں بلکہ مسلہ اس ویلے دی پنجاب حکومت دی بد دیانتی دا ہے پنجابی دی عوام نال
مریم نواز شریف صاحبہ پنجابیاں دے حقاں اتے سرنڈر کر دتا اے ۔
باقی حسن ایوب بھائی اسلام اباد دا لوکل پنجابی اے ودھیا لگیا کہ اسلام اباد والے اپنے پنجابی شناخت اتے قائیم نے
Hamid Mir is behind all the unrest happening in Kashmir; he is the one who is inciting the people of Kashmir to protest, so it becomes a global issue.
He is one of the many prominent Kashmir lobby members who control the power corridors in Pakistan from all sides. These people are keeping Pakistan hostage and not letting us move forward and progress.
Pakistan can't progress until the Kashmir issue is solved, and to solve it, we need to get rid of Hypocrites like Hamid Mir.
تاریخ کو کسی ایک واقعے یا مخصوص جغرافیائی خطے کے تناظر میں دیکھ کر پوری سلطنت پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کرنا تاریخی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ حامد میر صاحب نے اپنے کالم اور ٹویٹ میں رنجیت سنگھ کے دور کو جس بلیک اینڈ وائٹ عینک سے دیکھنے کی کوشش کی ہے، وہ پنجاب کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور رنجیت سنگھ کے مجموعی طرزِ حکومت کے بالکل برعکس ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر اور پشاور جیسے سرحدی اور نو مفتوحہ علاقوں میں افغان درانیوں کے خلاف ردِعمل اور سیاسی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے سکھ گورنروں نے انتہائی سخت قوانین نافذ کیے، جن میں اونچی آواز میں اذان پر پابندی اور مساجد کو بند کرنا شامل تھا، لیکن یہ اقدامات خالصتاً مغلوب رعایا کو سیاسی طور پر دبانے کے لیے تھے نہ کہ کسی نظریاتی مسلم دشمنی کی بنیاد پر۔ اگر رنجیت سنگھ کا بنیادی مقصد اسلام دشمنی ہوتا، تو وہ اپنی سلطنت کے دارالحکومت لاہور اور مرکزی پنجاب میں مسلمانوں کو وہ مذہبی و سیاسی آزادیاں اور حقوق کبھی نہ دیتا جو تاریخ کا حصہ ہیں۔
سکھ سلطنت کی بنیادیں کسی مذہبی ریاست پر نہیں بلکہ ایک مضبوط لبرل اور سیکولر انتظامیہ پر کھڑی تھیں، جس کا سب سے بڑا ثبوت رنجیت سنگھ کا اپنا شاہی دربار تھا۔ اس نے اپنے دورِ حکومت میں مسلمانوں کو سلطنت کے سب سے حساس، کلیدی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کر رکھا تھا۔ مہاراجہ کا سب سے قابلِ اعتماد مشیر، رازدار اور وزیرِ خارجہ فقیر عزیز الدین تھا، جو تمام بیرونی معاملات اور انگریزوں کے ساتھ مذاکرات کا اکیلا مختارِ کل تھا۔ اسی طرح ان کے بھائی فقیر نور الدین لاہور کے گورنر (خلیفہ) تھے، جن کے پاس شاہی خزانے اور خود مہاراجہ کی خوراک و صحت کی حفاظت جیسی حساس ترین ذمہ داریاں تھیں۔ یہی نہیں، بلکہ سکھ فوج کا سب سے اہم ترین حصہ—توپ خانہ—مکمل طور پر الٰہی بخش جیسے نامور مسلمان جرنیلوں کی کمان میں تھا۔ اگر رنجیت سنگھ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف اس حد تک تعصب ہوتا جیسا کہ حامد میر صاحب تاثر دے رہے ہیں، تو وہ اپنی جان، اپنا خزانہ اور اپنی فوج کی سب سے بڑی طاقت (توپ خانہ) کبھی مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ سونپتا۔
اس کے علاوہ، رنجیت سنگھ کے دور میں پنجاب کے مسلمانوں کی مذہبی رواداری اور صوفیانہ ثقافت کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ اور سائیں مادھو لال حسینؒ جیسے جلیل القدر صوفیاء کے مزارات کے لیے سکھ شاہی خزانے سے بھاری جاگیریں اور سالانہ وظائف وقف کیے گئے تھے، اور مہاراجہ خود ان مزارات پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کرتا تھا۔ رنجیت سنگھ نے پنجاب کے مسلمانوں کو کبھی زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا اور نہ ہی مرکزی پنجاب میں ان کی نجی زندگیوں میں مداخلت کی انٹرنیشنل مؤرخین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ پنجاب کی دھرتی کا بیٹا تھا جس نے صدیوں کی بیرونی (افغان اور مغل) غارت گری کے بعد پنجاب کو ایک مضبوط، خود مختار اور خوشحال ریاست دی۔ چنانچہ رنجیت سنگھ کو صرف کشمیر کی سیاسی سختیوں کے آئینے میں دیکھنا تاریخ کے وسیع کینوس کو مسخ کرنے کے مترادف ہے؛ وہ پنجاب کی سانجھی ثقافت اور تاریخ کا ایک لازمی اور طاقتور کردار ہے جسے محض سستی سیاسی مہم جوئی کے لیے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
پنجابی ہیروز،تہواروں،کلچر
و زبان کو مذہب کی بھینٹ چڑھا کر پنجابیوں میں مذہبی تفرقہ پھیلانا پنجاب دشمنوں کا پُرانا وطیرہ رہا ہے
47 میں بھی اسی طرح مذہبی تفرقہ پھیلا کے 20 لاکھ پنجابیوں کو مروایا گیا تھا
باقی حامد میر کون ہوتا پنجابیوں کے ہیروز کا فیصلہ کرنے والا؟
@HamidMirPAK
بات تھی حامد میر کی جانب سے پنجابیوں پر بکواس کی مگر بجاۓ اُسکی مذمت کرنے کہ آپ نے ایک لمبا مُضمون لکھ دیا اور حامد میر کے کانڈ پے پردا ڈالنے کی کوشش کی۔
چلیں رنجیت کو مذہبی بُنیاد پر چھوڑ دیتے ہیں مگر کیا آپ اور آپکا دُلارا حامد میر بمعہ حمایتی اپنے اندر ہلکی سی غیرت پیدا کریں گے اور جواب دیں گے یہ جن لوگوں کو اسلام سے جوڑ کر اور مُسلمان بتا کر پاکستان کے ہیرو بتاتے ہیں ہم اُن کے کُرتُوت کیوں نہی بتاتے؟
یہ کونسے اسلام کا نام روشن کر رہا ابدالی اور اُس کی اولاد؟
آپ کے مُطابق بہاولپُور، چک ساہنو اور آگغم کوٹ جس کو سات مساجد کا شہر کہتے تھے میں سارے کُفار بستے تھے، کوئ مسجد نا تھی، کوئ اولیا الاسلام کا مزار نہی تھا؟
یا بیغرتی کا راستہ اختیار کرتے ہوُۓ مُسلمانوں کو لُوٹنے والے ، مساجد تباہ کرنے والوں کی حمایت میں تعریفی تحریریں لکھیں
گے؟
سورس
بہاولپُور گزیٹ
تاریخ سرگودھا
Multan Under Afghans by Dr Ashiq Durrani
They dont hate ranjit singh because he was non muslim,they hate him because he gave beatings to afghanis&defended punjab.
Even abdali wasnt hero,he too killed punjabi muslims and looted Punjab. How he can be our hero then?
Both should be shunned,why double standards?
“Balochs were even raiding eastern Punjab and laying waste to villages there. Stop acting tough online”
^
The oppressed Baloch btw who are being killed and tortured by the evil Punjabis
Our enemies are getting stupider by the day and exposing themselves