لاہور: 22 اگست 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کی کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. سرٹیفیائید کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے.تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کیلئے جامع پلان مرتب کیا جائے. زرعی شعبے کی ترقی کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں. چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلباء و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے. رواں برس چین میں زرعی شعبے کی تربیت کیلئے جانے والے طلباء و طالبات کے انتخاب میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے.
وزیرِ اعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے.
اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کیلئے اقدامات پر عملدرآمد پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے تمام اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کیلئے ایک جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔ منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعدادِ کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔ متعدد قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے.
اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کیلئے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کیلئے بھی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے.
اجلاس کو این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے. نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفیرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کیلئے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کیلئے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر مح��د اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلی حکام نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی.
لاہور: 22 اگست 2026.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور ان سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا.
وزیرا��ظم نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی ہدایت کی. گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے. سیلاب اور بارشوں میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے اور جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کے مالکان کی بھی مالی معاونت کی جائے. سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کی بحالی جلد از جلد مکمل کی جائے.
وزیراعظم نے متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکریٹریز کو متاثرہ علاقوں میں جا کر بارشوں سے ہونے والے نقصان کا خود جائزہ لینے اور بحالی کا کام شروع کروانے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ان تمام متاثرہ علاقوں میں اشیاء خورونوش اور دیگر امدادی سامان جلد از جلد پہنچایا جائے جہاں اب تک بوجہ رسائی امدادی سامان نہیں پہنچ سکا. وزیراعظم نے آئندہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے امکانات کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی.
اجل��س میں وزیراعظم کو مون سون 2026 کے اثرات اور صوبوں اور این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی کارروائیوں کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر بروقت منتقلی کی جا چکی ہے. مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کی ٹیمز عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں. پورے ملک میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور مزید امدادی سامان بھیجنے کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں.
مزید بتایا گیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ا��فراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے. شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں. ارلی وارننگ سسٹم کی بدولت سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا.
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، میاں معین وٹو، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، سردار اویس خان لغاری، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور ازاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif witnessed the signing of the Agreement on the Transfer of Sentenced Persons between Pakistan and Malaysia, signed by the Home Minister of Malaysia H.E. Dato' Seri Saifuddin Nasution Ismail and Interior Minister Syed Mohsin Raza Naqvi. Islamabad, 21 August 2026.
H.E. Dato' Seri Saifuddin Nasution Ismail, Minister of Home Affairs of Malaysia, calls on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif at the Prime Minister House. Islamabad, 21 August 2026.
Islamabad: 21 August 2026.
H.E. Dato' Seri Saifuddin Nasution Ismail, Minister of Home Affairs of Malaysia, called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif at the Prime Minister House, Islamabad, this afternoon.
Welcoming the Malaysian Home Minister, the Prime Minister conveyed his warm wishes for Dato' Seri Anwar bin Ibrahim, Prime Minister of Malaysia, and inquired about his health, while wishing him an early recovery.
The Prime Minister reaffirmed Pakistan's commitment to further strengthening the close and fraternal ties between Pakistan and Malaysia across all spheres, including security, law enforcement, as well as trade & investment.
The regional situation was also discussed during the meeting. In this context, the Prime Minister appreciated Malaysia's support for Pakistan’s regional peace efforts.
The Home Minister conveyed the greetings of his Prime Minister to Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and expressed Malaysia’s keen desire to further strengthen its robust ties with Pakistan.
The Prime Minister also witnessed the signing of the Agreement on the Transfer of Sentenced Persons between the two countries, signed between the Home Minister of Malaysia and Interior Minister Syed Mohsin Raza Naqvi.
Deputy Prime Minister Sen. Mohammad Ishaq Dar, Minister of State for Interior Talal Chaudhry, SAPM Tariq Fatemi and other senior officials were also present during the meeting.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif giving reponses to the participant's questions at the Balochistan National Workshop in Islamabad on 21 August 2026.
I was pleased to speak with my dear brother, Prime Minister Dato’ Seri Anwar Ibrahim, earlier this evening. I inquired regarding his health and wished him a swift and complete recovery.
We expressed satisfaction over the positive trajectory of Pakistan–Malaysia relations and resolved to further deepen our trade and investment ties.
We also exchanged views on regional developments, particularly the situation in the Gulf, and reaffirmed our shared commitment to advancing lasting peace in the region. @anwaribrahim
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ میں شرکت کی جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء، ارکان اسمبلی، بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عمائدین نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل ہے جن کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد صرف حکومت کی بات سنانا نہیں بلکہ شرکا اور بلوچ عوام کی بات سننا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، قاضی محمد عیسیٰ، میر جعفر خان جمالی، اکبر بگٹی سمیت بلوچ عمائدین اور عوام نے سوچ سمجھ کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، اس کے بعد کی دہائیوں میں جو واقعات اور حالات ہوئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، بلوچستان کے معاملات کو ڈائیلاگ سے حل کرنا چاہیئے تھا ۔ 1970 ءمیں بلوچستان کو چوتھے صوبے کا درجہ ملا، بلوچستان معدنیات سمیت دیگر وسائل سے مالامال ہونے کے سبب امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ وسائل سمندر اور پہاڑوں میں مدفون ہیں، ان سے استفادے کیلئے سرمائے اور مہارت کی ضرورت ہے ، وفاق اور صوبہ مل کر ہی اس کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے بلوچستان کے مسائل کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیےکے لحاظ سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے تعلیم و صحت کی سہولیات اور شاہراہوں کی تعمیر میں مشکلات ہیں، ان مسائل کے حل کیلئے باہمی مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضرورت ہے لیکن مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ، کوئی محب وطن یہ نہیں کرسکتا ، بلوچستان میں مزدوری کرنے والوں کو یا شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنا جائز نہیں، باہمی گفت و شنید سے مسئلہ حل کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے گھس بیٹھیے، فتنۃ الخوارج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے ہیں جو بے گناہوں کو شہید کر رہے ہیں، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے نبرد آزما ہیں اور قربانیاں دے کر عوام کو محفوظ بنا ر��ے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن این 25 شاہراہ تعمیر کر رہے ہیں، 415 ارب روپے کا منصوبہ وفاق نے دیا، یہ چاروں صوبوں کے عوام کا پیسہ تھا جو بلوچستان پر لگا رہے ہیں ، یہ بلوچستان کے عوام کیلئے ہے۔ مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں ، ماضی میں جو ہوگیا سو ہوگیا، اب مسائل کو سامنے رک�� کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے، اگر ہمارے بیٹیاں اور بیٹے اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں تو انہیں خوش آمدید کہنا چاہیئے ۔ وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے شاہراہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پوری قوم یک جان دو قالب تھی، آج ہمیں بیٹھ کر فرینک ڈائیلاگ کرنا چاہئیں ، اسی سے راستے نکلیں گے ۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین اور شاندار بندرگاہ ہے، گوادر پورٹ پر ایک لاکھ ٹن کا مال بردار جہاز لنگرانداز ہو سکتا ہے، گوادر کا ہوائی اڈہ عظیم دوست چین کی طرف سے تحفے میں ملا۔ وزیراعلیٰ بل��چستان کے مطالبے پر 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا، 70 ارب روپے کے شمسی منصوبے میں 40 ارب روپے وفاق نے خرچ کئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر وفاق نے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا، پنجاب نے 11 ارب روپے سالانہ بلوچستان کو فراہم کئے۔ میں اس وقت وزیر اعلیٰ تھا، ایک دن کیلئے بھی دل میں خیال نہیں آیا کہ کیوں ؟ کیونکہ ریاست کی چاروں اکائیاں ترقی کے عمل میں برابر کی شریک ہیں، اگر روٹی ایک ہو تو چاروں بھائیوں کو تقسیم کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ لے کر میں پنجاب اسمبلی میں گیا تو ارکان نے زور دار تالیاں بجائیں ، ہم اخوت کے رشتوں میں بندھے ہیں ، اسی جذبے سے بلوچستان کو لیپ ٹاپ، ہونہار طلبہ میں وظائف کی تقسیم میں شامل کیا، ان کا حصہ ان کی آبادی کے تناسب سے بھی دس فیصد زیادہ رکھا۔
اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش سکول قائم کئے جا رہے ہیں جن میں ایچی سن کے معیار کی تعلیم دی جاتی ہے کیونکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے بچے بھی معیاری تعلیم کے حقدار ہیں . وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے نمائندہ افراد کو مدعو کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
اسلام آباد: 21 اگست 2026ء.
حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوگئے۔
اس تعاون کامقصد پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو2030ء تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا اور ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی امور اور پبلک پالیسی ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کےحوالےسےآج ایک اہم دن ہے۔ جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ ہماری نوجوان آبادی ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور آئی ٹی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھرپور کام کیا ہے۔
گوگل کے پاکستان، فلپائن اور تھائی لینڈ کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا گوگل کے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ تعاون پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور نوجوان نسل کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کے ہدف کی جانب بڑھنے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور گوگل کے ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے ایم او یو پر دستخط کیے۔
ایم او یو کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس (Google Career Certificates) فراہم کرے گا۔
گوگل پاکستان میں گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام (Google Career Certificates Program) کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا تاکہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔
گوگل پاکستان بھر کے طلبہ کو جدید اے آئی ٹولز (AI Tools) فراہم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا، جن میں گوگل اے آئی پلس (Google AI Plus) اور جیمینائی نوٹ بک (Gemini Notebook) تک ایک سال کی مفت رسائی بھی شامل ہے۔
دونوں فریقوں نے اسلام آباد میں ایک خصوصی اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس (AI Centre of Excellence) قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مرکز میں پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے معیار کے مطابق تربیت دی جائے گی۔
وزیراعظم کے ایف بی آر (Federal Board of Revenue) کی اصلاحات کے منصوبے کے تحت گوگل، ایف بی آر کو اے آئی (AI) کے استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کو جدید بنانے، حکومتی امور کو مزید مؤثر بنانے اور ایف بی آر کی ڈیجیٹل تبدیلی تیز کرنے میں معاونت فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بھی اے آئی (AI) کا استعمال کیا جائے گا، جس سے فصلوں کی نگرانی، پیداوار کا اندازہ لگانے اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو عالمی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانے میں بھی مدد فراہم کریں گے۔
ایم او یو کے تحت گوگل اور پاکستان مقامی ایپ ڈویلپرز (App Developers) اور گیمنگ اسٹوڈیوز (Gaming Studios) کی معاونت کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں فریق ڈیجیٹل پیمنٹس ایکو سسٹم (Digital Payments Ecosystem) کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل ٹریڈ (Digital Trade) کو فروغ دینے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیں گے۔
حکومت، گوگل اور اہم صنعتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس (Joint Task Force) بھی قائم کی جائے گی۔ یہ ٹاسک فورس آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مواقع کی نشاندہی کرے گی۔
ٹاسک فورس ہارڈویئر مینوفیکچرنگ (Hardware Manufacturing) اور آئی ٹی سروسز (IT Services) کے لیے سرمایہ کاری کے فریم ورک، عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور انسانی وسائل کی اپ اسکلنگ (Upskilling) سمیت دیگر امور پر کام کرے گی۔
Islamabad: 21 August 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a telephone conversation, earlier this evening, with H.E. Dato’ Seri Anwar bin Ibrahim, Prime Minister of Malaysia.
During their warm and cordial conversation, the Prime Minister inquired about Dr. Anwar Ibrahim’s health and wished him a swift and early recovery.
The two Prime Ministers expressed their satisfaction at the current positive trajectory of bilateral cooperation between Pakistan and Malaysia. They resolved to continue this momentum, particularly with a view to enhance their trade & investment ties.
Regional developments, particularly the situation in the Gulf, also came up for discussion. Dr. Anwar Ibrahim praised Pakistan’s regional peace efforts and expressed his gratitude to the Prime Minister and Field Marshal Syed Asim Munir, for their leadership roles in steering these laudable efforts.
The Prime Minister thanked his Malaysian counterpart for Malaysia’s consistent support for Pakistan’s regional peace efforts and reaffirmed Pakistan’s resolve to continuous working closely with brotherly and friendly countries, including Malaysia, to advance the prospect for peace in the Middle East.
Both leaders agreed to meet at a mutually convenient occasion in the near future. The Prime Minister also reiterated his invitation to Prime Minister Dr. Anwar Ibrahim to undertake an official visit to Pakistan, at his earliest convenience.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif holds a reception in honour of Google's Vice President of Global Affairs Wilson L. White. ISLAMABAD: 21 August 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif witnesses the signing of an MoU between Government of Pakistan and Google, aimed at accelerating national digital transformation, expanding digital skills, and fostering AI-driven innovation across key sectors, besides boosting Pakistan’s IT exports and overall digital economy to $30 billion by 2030. ISLAMABAD: 21 August 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif's Message on the International Day of Remembrance and Tribute to the Victims of Terrorism, 21 August 2026.
Pakistan joins the international community in observing this day dedicated to remembering the victims of terrorism and extends its heartfelt solidarity and tribute to all those who have suffered from this scourge.
Terrorism remains one of the most serious challenges confronting humanity. Only those devoid of humanity can inflict suffering and play with the lives of innocent people to pursue their nefarious objectives. The families of those who have lost their lives to terrorism, as well as those who have sustained lifelong injuries, equally deserve our compassion and solidarity.
Pakistan is amongst the countries that have suffered immensely from terrorism. Not only have our valiant armed forces made the ultimate sacrifice in the fight against this scourge, but the brave officers and personnel of our law enforcement agencies, as well as our countless innocent citizens, have also laid down their lives. We salute the courage and sacrifice of all those civilians and security personnel who have lost their lives in acts of terrorism.
Pakistan’s sacrifices in the fight against terrorism are not limited to the loss of precious lives, the country has also paid a heavy economic and social price. Terrorism has adversely affected the economic well-being of our people and hindered Pakistan’s journey towards development, progress and prosperity. With our unwavering national resolve, Pakistan will continue this struggle until this menace is completely eradicated.
No nation, civilization, religion or faith in the world advocates terrorism. Acts of terrorism are a manifestation of diseased minds and an expression of inhuman ideologies. The unconditional condemnation of terrorism by the international community, coupled with effective mutual cooperation is indispensable for complete eradication of terrorism.
The physical, psychological and social rehabilitation of victims of terrorism is also part of our shared global responsibility. At the national level, the Government of Pakistan has, despite its limited resources, consistently remained mindful of the welfare and needs of the victims of terrorism and the law enforcement personnel engaged in combating this menace. Pakistan has a comprehensive support system in place for martyrs, their families and victims of terrorism. Ensuring that all victims have easy and timely access to healthcare, rehabilitation and essential civic services remains a foremost priority of the Government.
On this day, I call upon all relevant institutions at the global, national, collective and individual levels to raise their voices against terrorism, subversion and all negative tendencies, while upholding universal human values and the rule of international law.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ پنشنرز کے لیے جدید پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پنشنرز کے لئے نیا بائیو میٹرک اور چہرے کا تصدیقی نظام انسانیت کی بڑی خدمت ہے،جدید ڈیجیٹل سسٹم اور ایپ سے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے، نئے نظام سے پنشنرز کے بینکوں کے چکر ختم ہو جائیں گے.
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پنشنرز کے لیے نیا نظام بہت بڑی خدمت ہے،نئے بائیو میٹ��ک اور چہرے کا تصدیقی نظام انسانیت کی خدمت ہے،نادرا کی جانب سے جدید پنشن ایپ اور تصدیقی نظام مفت فراہم کیا گیا ہے،اس اقدام پر وزیر خزانہ، چیئرمین نادرا اور سیکرٹری خزانہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے بزرگوں اور معذوروں کو آسانی ہوگی، نئے نظام سے پنشنرز کے بینکوں کے چکر ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل سسٹم اور ایپ سے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے، حکومت ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے دن رات کوشاں ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں ڈیجیٹل پاکستان کا سفر جاری ہے، اس سفر میں نادرا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے،پنشنرز کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا گیا ہے،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پنشن کے نظام میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ راست نظام کے ذریعے ادائیگی میں تیزی اور شفافیت آئی ہے ،چہرے کا تصدیقی طریقہ کار پنشنرز کادیرینہ مطالبہ تھا،تصدیقی عمل کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی ۔تقریب میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے اجراء سے متعلق راہنمائی پر مبنی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
Foreign Minister of the Syrian Arab Republic Mr. Asaad Hassan Al-Shaibani called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif in Islamabad on 20 August 2026.
ISLAMABAD: 20 August 2026.
Foreign Minister of the Syrian Arab Republic, Mr. Asaad Hassan Al-Shaibani, called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif today.
Welcoming Mr. Al-Shaibani and his delegation, the Prime Minister conveyed his best wishes for President Ahmed al-Sharaa, and recalled his recent interactions with him. He also reaffirmed Pakistan's steadfast support for the sovereignty, unity, and territorial integrity of Syria.
While recalling the historic and multifaceted ties between the two countries, the Prime Minister emphasized the need to translate the longstanding Pakistan-Syria friendship into enhanced cooperation across politics, defence, trade, investment, education, and human resource development. He stated that the resumption of direct flights between the two countries would enhance people-to-people exchanges and facilitate a large number of pilgrims who undertake religious visits to Syria from Pakistan.
The Prime Minister reaffirmed Pakistan’s support for Syria’s unity, sovereignty and territorial integrity and said Pakistan would firmly support Syria’s position on the Golan Heights.
The Syrian Foreign Minister conveyed the greetings of Syrian President Ahmad al-Sharaa to the Prime Minister, and briefed him on Syria's ongoing political transition and reconstruction efforts. He thanked Pakistan for its consistent support to Syria throughout the past years and expressed his government's keen interest in revitalizing bilateral engagement, including through early institutional mechanisms for cooperation.
The Prime Minister also extended an invitation to President Ahmed al-Sharaa to undertake an official visit to Pakistan at a mutually convenient date.
Deputy Prime Minister and Foreign Minister Senator Muhammad Ishaq Dar, SAPM Syed Tariq Fatemi and Foreign Secretary Amb. Amna Baloch were also present during the meeting.
اسلام آباد : 20 اگست، 2026.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وفاقی کابینہ نے وزارت بین الصوبائی روابط کی سفارش پر نیشنل ایڈولیسینٹ اینڈ یوتھ پالیسی کی اصولی منظوری دے دی۔ یہ پالیسی پاکستان کی نوجوان آبادی کو با اختیار بنانے کے لئے ایک مربوط قومی فریم ورک بنانے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کی سطح پر نوجوان آبادی کو مرکزی دھار�� میں لایا جائے گا جو کہ نوجوانوں کو یکساں اور بہتر معاشی اور معاشرتی ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس پالیسی قومی فریم ورک کے چار بنیادی ستونوں میں تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات شامل ہیں۔ اس پالیسی کے نفاذ کے حوالےسے پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور فیڈرل ایڈولیسینٹ اینڈ یوتھ ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے ملک بھر میں 32 ہزار 145 سروے کئے گئے اور اس حوالے سے 2 لاکھ سے زائد نوجوانوں کی آراء لی گئیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مذکورہ پالیسی کے حوالے سے کابینہ ارکین کے تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی ادارہ جات کے 9 جولائی، 2026 کو ہوئے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 اگست، 2026 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 18 جون 2026، 30 جولائی، 2026, 5 اگست، 2026 اور 18 اگست، 2026 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔